حضرت خضر ؑ (حصہ سوم)

کوہ طور پر اللہ تبارک و تعالی کی تجلی مبارک کی زیارت کے بعد حضرت موسیٰ ؑکے چہرہ مبارک پر ایسی قوی چمک رہتی تھی کہ چہرے پر نقاب کے باوجود بھی آپ ؑ کے چہرہ مبارک کی طرف جو کوئی آنکھ بھر کر دیکھتا تو اس کے چہرے کی بینائی ختم ہو جاتی۔ آپ ؑ نے حق تعالی ٰ سے عرض کیا کہ مجھے ایسا نقاب عطا فرمائے جو اس قوی نور کی طاقت کے سامنے پردہ بن جائے اور آپ کی مخلوق کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچے۔ حکم ربی ہوا کہ اپنے اس کمبل کا نقاب بنا لیجیے جو کوہ طور پر تجلی الٰہیہ کی زیارت کرتے وقت آپ کے بدن پر تھا۔
اب یہاں ایک بات اپنے قارئین کی اطلاع کے لئے عرض کرتا چلوں کہ ہر نبی ؑ کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے معراج کروایا مگر مقام اور واقعات میں فرق تھا۔ جس طرح ہمارے نبی کریم ﷺ کو عرش الہی پر بلا کر جاگتی آنکھوں سے دیدار کروایا گیا جس کو ہم معراج مصطفی ﷺ کہتے ہیں اسی طرح حضرت موسیٰ ؑ کو کوہ طور پر معراج کروایا گیا۔ جب اللہ پاک نے حضرت موسی ٰ ؑ کی التجاء کے بدلے میں فرمایا کہ اپنے کمبل سے اپنے چہرے کو ڈھانپ کر رکھا کریں تو یہ فرمایا کہ صرف اس کمبل میں یہ وصف ہے کہ آپ ؑ کے چہرہ مبارک کے نور کی چمک کو سنبھال سکے ورنہ اگر کوہ قاف بھی آپؑ کے چہرے کی تجلی اور چمک بند کرنے آ جائے تو وہ بھی مثل طور پھٹ کر سرمہ بن جائے۔
پھر حضرت موسیٰ ؑ نے خلقت کو بغیر نقاب اپنا چہرہ دیکھنے سے منع فرما دیا۔ آپ کی اہلیہ حضرت صفوراً جو آپ کے حسن نبوت پر عاشق تھی۔ بہت بے قرار ہو گئیں۔ یہاں میں اپنے قارئین کو بتاتا چلوں حضرت موسیٰ ؑ حضرت شعیب ؑ کے داماد تھے جو خود بہت جلیل القدر پیغمبر تھے۔ تو جیسا میں عرض گزار تھا کہ جب صبر کے اوپر عشق غالب آیا تو حضرت صفوراً نے پہلے ایک آنکھ سے بے تابی اور شوق سے مغلوب ہو کر حضرت موسیٰ ؑ کے نور کی زیارت کی تو ایک آنکھ کی بینائی جاتی رہی۔
تو اس سے ایک آنکھ کا نور تو سلب ہو گیا مگر بے تابی کی آگ اور بھڑک اٹھی۔ نظارہ تجلیات طور کو وفور شوق سے دیکھنے کے لئے دوسری آنکھ بھی کھول دی تو کیا ہوا ء کہ دوسری آنکھ کا نور بھی چلا گیا۔ اس سچی مومنہ سے کسی عورت نے سوال کیا اے صفوراً کیا اپنی آنکھوں کی روشنی چھن جانے کا غم نہیں ہے تجھ کو۔ تو اس صادقہ بی بی نے جواب دیا کہ میری تو حسرت ہے کہ اگر عشق حقیقی کی راہ میں سو ہزار آنکھیں ہوتیں تو وہ بھی قربان کر دیتی۔
پھر بولیں کہ میری آنکھوں سے نور تو چلا گیا مگر میری آنکھوں کے حلقے کے ویرانے میں حضرت موسیٰ ؑ کے نور کی تجلی سما گئی ہے۔ اللہ پاک کریم ہے جذب اور دل سے نکلی ہوئی آہ اور دعا کے راستے میں کوئی پردے حائل نہیں ہوتے۔ حضرت صفوراً کی اپنے رب کریم سے محبت اور حضرت موسیٰ ؑ سے عقیدت کی ادا کو بارگاہ الہیٰ میں شرف قبولیت حاصل ہوا۔ خزانہ غیب اور رحمت الہیٰ سے آپ کو ایسی قوت والی بینائی عطا ہوئی کہ پھر آپ حضرت موسیٰ ؑ کے چہرہ مبارک کے نور کی بغیر نقاب براہ راست زیارت کرتی تھی۔
میں اپنے قارئین کی معلومات اور علم میں اضافہ کے لئے اس طرح کے مستند واقعات شیئر کرتا رہتا ہوں۔ تو آتا ہوں میں اپنے موضوع کی طرف تو جیسا کہ حضرت موسی ٰ ؑ نے حضرت یوشع بن نون کو ہدایات دی تھی کہ جب مچھلی اللہ کے حکم سے زندہ ہوگی تو آپ مجھ کو اس کی بابت لازمی بتائیں گے۔ مگر جب حضرت موسی ٰ ؑ بیدار ہوئے تو حضرت یوشع بن نون کو بتانا یاد نہ رہا تو ان دونوں نے سفر جاری رکھا۔ دوسرے دن جب دوپہر کا وقت آیا تو ایک جگہ رکے تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا ہمارا کھانا لاؤ کہ ہم کو بھوک لگی ہوئی ہے اور سفر کی تھکان بھی بہت طاری ہو گئی ہے۔
اب یہاں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ سفر کی تھکان مجمع البحرین کے پاس پہنچنے تک طاری نہ ہوئی تھی یعنی اس جگہ جہاں سمندر ملتے تھے اور مچھلی زندہ ہو گئی تھی۔ مگر اپنی منزل سے آگے نکلنے پر کمزوری، بھوک اور نقاہت کا غلبہ آنے میں میری حقیر رائے میں منشاء الہیٰ تھی کہ ان کو بھولی ہوئی مچھلی کا ذکر یاد آئے۔ اور اس کی طلب میں واپسی کا سفر اختیار کر کے اپنی منزل مقصود کی طرف واپس ہوں۔ جب حضرت موسیٰ ؑ کو کھانے کی بابت پوچھنے پر مچھلی یاد آئی تو آپ کے غلام حضرت یوشع بن نون نے معافی طلب کی کہ مجھ کو شیطان نے بھلا اور بہکا دیا کہ آپ کو مچھلی کا عجیب طریقے سے زندہ ہو کر سمندر میں جانے کے بارے میں بتانا یاد نہ رہا۔
تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ وہ ہی تو ہماری منزل کی جگہ اور نشانی تھی۔ اور یہ ہی جگہ تو حضرت خضر سے ملاقات کے لئے ہم کو بتائی گئی تھی۔ الغرض کہ اپنے پیروں کے نشان پر چلتے ہوئے واپس اس جگہ پر پہنچے تو دیکھا کہ مچھلی کے دائیں بائیں تو پانی زور و شور سے چل رہا ہے مگر جس جگہ مچھلی موجود ہے وہ جگہ ساکت ہے گویا مچھلی کسی شیشے کے ڈبے میں بند ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت یوشع کو فرمایا مجھ کو میرے رب نے یہ ہی مقام اس اللہ پاک کے برگزیدہ بندے حضرت خضر کی ملاقات کا بتایا ہے تو ہم آس پاس دیکھتے ہیں تو ہم ضرور حضرت خضر سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
الغرض جب آگے ڈھونڈتے ہیں تو ایک چھوٹا سا جزیرہ سمندر میں نظر آیا تو وہاں پہنچنے پر دیکھا کہ دور کوئی شخص چادر میں لپٹا ہوا ہے۔ آپ قریب پہنچے تو ان کو سلام کیا تو وہ بندہ خدا بہت حیران ہوئے کہ اس ویرانے میں کون سلام کر رہا ہے۔ تعارف پر اللہ کے نبی ؑ نے فرمایا کہ میں موسیٰ ؑ ہوں تو حضرت خضر بولے بنی اسرائیل والا موسیٰ ؑ۔ تو حضرت موسی ٰ ؑ بولے جی وہ ہی اور میں آپ سے وہ علم سیکھنے آیا ہوں جو میں نہیں جانتا۔
اسی اثناء میں ایک سمندری پرندہ اڑتا ہواء آیا اور پانی میں ایک چونچ مار کر ایک قطرہ لے کر اڑ گیا۔ تو حضرت خضر بولے کہ آپ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ میں علم میں سب سے بڑھ کر ہوں حالانکہ انسان کا اول و آخر ظاہر و باطن علم اللہ کے نزدیک اس سے بھی کمتر ہے جتنا یہ پرندہ اپنی چونچ میں پانی کا ایک قطرہ اٹھا کر لے کر گیا ہے۔ تو غرض کہ پانی کے اس قطرے سے سمند ر کو کیا فرق پڑا ہے اسی طرح وہ خدائے لم یزل جو جہانوں کا مالک ہے جس کے سامنے ہماری زمین و آسمان کوئی بساط نہیں رکھتے۔
ایسا ہی ہمارا تمہارا علم قادر مطلق کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اللہ پاک کو آپ کی یعنی حضرت موسیٰ ؑ کی تربیت کرنی مقصود تھی اس لئے میرے پاس آپ کو بھیجا گیا۔ پھر حضرت خضر نے فرمایا کہ یہ بھی سچ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا عطا کردہ ایک علم مجھ کو ہے اور آپ کو نہیں اور اسی طرح ایک علم (یعنی توریت) آپ کے پاس ہے وہ میرے پاس نہیں۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضر سے فرمایا جو کہ قرآن پاک کے الفاظ میں یوں ہے۔
ترجمہ کنز الایمان۔ اس سے موسیٰ ؑ نے کہا کیا میں تمہارے ساتھ رہوں اس شرط پر کہ تم مجھے سکھا دو گے نیک بات جو تمہیں تعلیم ہوئی۔ اس پر حضرت خضر نے فرمایا بقول قرآن۔ ترجمہ کنز الایمان۔ کہا آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گا۔ اب یہاں کہ درس ملتا ہے کہ علم کے حصول میں چاہے مشقت بھی ہو مگر کوشش کرنی چاہیے چاہے بندہ جس مقام یا مرتبے پر فائز ہو۔ بعین ہی اسی طرح حضرت موسی ؑ نے مودب ہو کر سیکھنے کی کوشش کی چونکہ استاد کا مرتبہ فضیلت والا ہوتا ہے۔
تو الغرض کہ حضرت موسیٰ ؑ کے سوال کے جواب میں حضرت خضر نے فرمایا کہ آپ صبر نہیں کر سکیں گے تو بقول حدیث نبوی ﷺ حضرت خضر نے حضرت موسیٰ ؑ سے فرمایا کہ ایک علم اللہ نے مجھ کو ایسا عطا فرمایا ہے جس کو آپ نہیں جانتے اور ایک علم آپ کے پاس ایسا ہے جس کو میں نہیں جانتا۔ مفسرین و محدثین فرماتے ہیں کہ جو علم حضرت خضر نے اپنے پاس ذکر کیا وہ علم باطن اور مکاشفہ کا علم تھا اور یہ علم اہل کمال کے لئے فض کا باعث ہوتا ہے۔
اب میں اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ حضرت خضر نے حضرت موسیٰ ؑ کو جو یہ جملہ فرمایا تھا کہ آپ صبر نہیں کر سکیں گے تو اس کی مصلحت یہ تھی آپ کو چونکہ نبوت و رسالت کا علمبردار بنایا گیا ہے تو آپ شریعت کی پاسداری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے تو جب آپ کوئی خلاف شرع یا محیر العقول بات ہوتی دیکھیں گے تو آپ کی شریعت موسوی اس کو قبول نہیں کرے گی اور اعتراض کناں ہوں گے۔ تو جب حضرت خضر کے منہ سے یہ بات سن کر کہ آپ صبر نہیں کر سکیں گے تو حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اللہ نے چاہا تو تم مجھ کو صابر پاؤ گے۔ (جاری ہے )

