الاؤ اور آسمان


دسمبر کی اک لمبی اور سرد رات،

سلگتے، چٹختی ہوئی لکڑیوں سے چنگاریاں برامد کرتے اک بجھتے ہوئے الاؤ کے نزدیک ہم چار نے یادوں کو روشن کرنے والے پل بتائے اور ان کو اک خزانے کی مانند اپنے ذہن کے اک دستیاب گوشے میں فروزاں کر دیا۔

زندگی کیا ہے؟
خوشی کیا ہے؟
اک مثلث ہے
الاؤ، سرد موسم اور اکٹھے بیٹھنا،
یا
دوست، مقام اور کیفیت،
یا
دسمبر، لمبی رات اور ہم،
یا
کچھ اور،
کہ

ریاضی سے فلسفے تک مثلث کا اک ظاہری رخ اور باطن میں بہت کچھ پنہاں ہے جو بہت سوں کے لیے کم و بیش یا مکمل پوشیدہ ہے۔

یاد نہیں کہ کتنے جگ بیت گئے، یاد کی تازگی مگر اسے پھول کی مانند مہکتی جاتی ہے۔

یاد کے دیپ کبھی بجھتے ہی نہیں، ہاں نظر سے اوجھل اور ذہن میں پوشیدہ ہو جاتے ہیں مگر وقت کے کسی موڑ پر پوری آب و تاب سے منظر کا احاطہ کرلیتے ہیں۔

رنی کوٹ کی الوہی سی خاموشی، رات کو آسمان پر تاروں سے بھری روشنی کا راج،

لکڑی کے الاؤ میں بھسم ہوتی لکڑیاں، جو فنا ہو کر روشنی اور حرارت اپنے گرد بیٹھے چار مسافروں کو عطا کر رہی تھیں۔

سلگتے کوئلوں کا چٹخنا اور ان سے سنہری چنگاریوں کی یلغار۔

ہم اک کیفیت میں گلزار کی نظمیں پڑھ رہے تھے اور درمیان میں اپنی اور باہری کائنات کے نہ جانے کن کن اسرار و رموز پہ گفتگو کیے چلے جا رہے تھے۔

یہ کیسی رات تھی کہ آج تک اپنی موجودگی کو ذہن سے مٹنا تو دور کی بات مگر اوجھل بھی نہیں ہونے دیتی۔
مقام، وقت اور لوگ : کیسی شاندار سی تکون ہے۔
کچھ مصری اہرام کی لازوال سی پیمائش کی مانند،

کہا جاتا ہے کہ اہرام کی پیمائش اس سنگی مثلث کو دنیا کی دیگر تعمیرات کے ساتھ موازنہ کرنے کا جواز ہی نہیں بن پاتا کہ اور کون سی تعمیر ہے کہ

ان گنت صدیوں سے عقل و تحقیق کے لیے اک معمہ کے طور، اک پہلی کی مانند موجود ہے کہ سائنس اپنے سارے موجود وسائل کے ساتھ دریافت کی تگ و دو میں ہے اور راز ہیں کہ عیاں ہونے کا نام نہیں لیتے۔

ہاں مگر جو بھی اہرام میں رکھا گیا وہ بوسیدگی کی منزل کو انتہائی سست ترین رفتار سے بھی کہیں نیچے کے معیار سے برتتا رہا۔

رنی کوٹ کے تاریخی قلعے کی ہمسائیگی میں ہم چار گہری خاموش اور تاریک رات میں لکڑیوں کے الاؤ کے سامنے بیٹھے کون کون سی باتیں کرتے جا رہے تھے اور گلزار کی نظمیں پڑھتے جاتے۔

زندہ لمحوں کو ساکت الفاظ سے بیان کرنے کے لیے تو دیوتاؤں کا زندگی بخشنے والا فن درکار ہے۔

تو کتنی مجبوری ہے کہ زندہ لمحوں کو پوری خواہش اور حتی الامکان کاوش کا سہارا لے کر ساکت اور خاموش لفظوں سے بیان کرنے کی کوشش جاری رکھی جائے گر وجود کے کہیں اندر کی آواز کہتی ہو

کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ زندہ جاوید لمحے لفظوں کے ذریعے بیان کیے جائیں اور جب کہ اک بے اختیار کردینے والی خواہش ہاتھ اور قلم کو رکنے نہ دے۔

اب جو کچھ بھی آپ پڑھتے ہیں وہ شاید دیوانگی میں اک بے اختیار سی خواہشیں کے نتیجے میں کی جانے والی اک رائیگاں سی کاوش ہے۔

نہیں جانتا کہ ان لمحوں کی شفافیت اور ہیئت کو کیسے بیان کیا جائے مگر اک کوشش کر کے شرمندہ ہونا اک احساس رائیگاں سے شاید بہتر ہو۔

سلگتے ہوئے، چٹختے ہوئے چنگاریاں برامد کرتے اک بجھتے ہوئے الاؤ کے نزدیک ہم چار نے یادوں کو روشن کرنے والے پل بتائے اور ان کو اک خزانے کی مانند اپنے ذہن کے اک دستیاب گوشے میں فروزاں کر دیا۔

زندگی کیا ہے؟
خوشی کیا ہے؟
اک مثلث ہے
الاؤ، سرد موسم اور اکٹھے بیٹھنا،
یا
دوست، مقام اور کیفیت،
یا
دسمبر، لمبی رات اور ہم،
یا
کچھ اور،

ریاضی سے فلسفے تک مثلث کا اک ظاہری رخ اور باطن میں بہت کچھ پنہاں ہے جو بہت سوں کے لیے کم و بیش یا مکمل پوشیدہ ہے۔

کہ راز، علم، جواب ہر اک کے لیے کہاں۔
کچھ وقت اور مقام قدرت نے آوارہ گردوں اور سرگرداں لوگوں کے نصیب میں لکھ دیے۔
کہ ہر کوئی ہر جگہ موجود کیسے ہو، جب کہ سوال اور ان کے جواب ہر اک کی قسمت میں کہاں۔
تو ہم چار وہاں اک الگ سی کائنات میں جینے لگے تھے،
اور اس کائنات میں دراصل اک خاموشی تھی اور بس۔

اوپر آسمان پہ بہت سے تارے تھے۔ ہمیں کیا پتہ چلتا اگر ہم نے اوپر آسمان کو نہ دیکھا ہوتا اور وہاں اس رات آسمان جیسے ستاروں کی سرزمین سا لگتا تھا۔

اک جیسے دمکتی روشنیوں کے بہت سے شہروں سے بھرا ہوا۔

اور کون جانتا ہے کہ وہاں آسمان پہ جو بہت سی روشنیاں ہیں جو بہت سے ستاروں اور کائناتوں کے جھرمٹ ہیں تو وہ ان میں سے کہاں سے آیا ہے۔

بڑا وقت گزر گیا اتنا کہ یادداشتوں کو گم ہوئے بھی لاکھوں لاکھ صدیاں گزر گئیں۔

ہاں مگر کبھی کبھی، اگر سرد رات ہو، اک الاؤ ہو اور الاؤ کے گرد بیٹھے بیٹھے اوپر آسمان کو دیکھیں تو یادداشت کے خفتہ سے باب کسی اک لمحے کے اک مختصر سے حصے میں چمک اٹھتے ہیں اور جیسے گم شدہ سی کسی سنہری یاد کی اک جھلک نظر آتی ہے اور کھو جاتی ہے۔

Facebook Comments HS

One thought on “الاؤ اور آسمان

  • 13/12/2022 at 12:43 صبح
    Permalink

    بہت عمدہ 👍

Comments are closed.