شمالی کوریا کی میزائل تجربات اور جنگی جنون
یوکرین پر روسی جارحیت سے، روس اور چین کی امریکہ کی ساتھ حالیہ کشیدہ تعلقات سے فائدہ اٹھا کر شمالی کوریا اپنے سرد جنگ کے اتحادیوں سے تعلق بہتر بنا رہا ہیں۔ یہ اکیلا صرف نئی سٹریٹجک صف بندی نہیں بلکہ اس سے شمالی کوریا نہ صرف اپنی داخلی معیشت کو مستحکم کرے گا بلکہ ایٹمی و میزائل پروگرام کو بھی وسیع اور جدید بنانے کا کوشش کرے گا۔
2022 کے آغاز سے پیانگ یانگ نے بڑے پیمانے پر میزائل تجربات شروع کی جس میں مزید شدت اس نومبر کے اوائل میں دیکھنے کو آئی۔ یہ اقدامات شمالی کوریا کی رہنما کم جونگ ان کے اس پانچ سالہ جنگی پلان کا حصہ ہے جو اس نے جنوری 2021 میں ورکر پارٹی کانگریس میں پیش کیا تھا۔ شمالی کوریا کی اس جنگی جنون کا ایک اور وجہ امریکہ کا معاشی پابندیوں میں مزید نرمی کا نہ کرنا بھی ہے۔
امریکہ کے موجودہ صدر جو بائیڈن کی ترجیحات میں شمالی کوریا کبھی شامل نہ رہا ہے، اور دونوں ریاستوں میں تعلقات اس سطح پر بھی قائم نہیں ہے جو ٹرمپ کے صدارت میں جنوبی کورین صدر کے توسط سے بہتر ہوئی تھے۔ اکتوبر 2019 میں امریکہ کے ساتھ عائد معاشی پابندیوں میں مزید رعایتوں کے حصول میں ناکام مذاکرات کے بعد کم جونگ اب دوبارہ روس اور چین کی جانب پلٹ رہا ہیں۔ شمالی کوریا اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل کے موجودہ غیر فعال پوزیشن سے بھی فائدہ اٹھانے کا خواہشمند ہیں، خصوصی طور پر چائنیز لیڈرشپ کی اس رویے سے جو عالمی طاقتوں کے راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے کہ وہ اس کی پڑوسیوں روس اور شمالی کوریا کی خلاف کوئی کارروائی کریں۔
حقیقت میں شمالی کوریا کی روس اور چین کی جانب واپسی کسی نظریاتی یا سٹریٹجک صف بندی کے لیے نہیں بلکہ وقتی فوائد کے حصول کے لیے ہیں۔ 14 جولائی کو پیانگ یانگ نے مشرقی یوکرائن کے قابض علاقوں پر روسی حق کو تسلیم کیا۔ 12 اکتوبر کو شمالی کوریا ان چار ممالک میں سے تھا جس نے اقوام متحدہ کے اس قرارداد کے خلاف ووٹ دیا جو یوکرائن کی چار علاقوں کو روس میں ضم کرنے کی متعلق تھا۔ اوائل اگست میں شمالی کوریا نے تائیوان میں امریکی مداخلت کے کھلی الفاظ میں مذمت کی۔
ان عوامل کو شمالی کورین داخلی معاشی بحران سے الگ تناظر میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ پیانگ یانگ ہر اس راستے پر چلنے کی کوشش کرے گا جس سے ملکی خزانے میں ترسیلات زر میسر آ سکتی ہوں، چاہے روس اور چین کو ہنرمندوں کے بھجوانے سے ہوں۔ بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزیوں سے ہو۔ یا روس اور چین کی اس پشت بانیوں سے ہو جو اسے مزید عالمی پابندیوں سے محفوظ رکھیں۔
2013 میں کم جونگ اس فلسفے پر عمل پیرا تھا کہ داخلی استحکام اور معاشی ترقی ایک مضبوط فوج اور نیوکلیائی طاقت کی بدولت سے ہی ممکن ہیں۔ 2018 میں کم جونگ نے مکمل نیوکلیائی طاقت بن جانے کے دعوے کے موقع پر ایک خاکہ ”نئی سٹریٹجک لائن“ کا اعلان کیا کہ اب تمام تر صلاحیتیں ریاست کی داخلی معاشی استحکام اور اسے مزید ترقی کے لیے بروئے کار لائے جائیں گی۔ لیکن کوویڈ۔ 19، موسمیاتی تبدیلیوں، سست عالمی معاشی نمو اور نامکمل بنیادی ڈھانچے جیسے عوامل نے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو نے دیا۔
جنوری 2020 سے ملکی سرحدوں کی بندش پچھلے دہائی کے عالمی پابندیوں کے مقابلے میں داخلی معیشت کے لئے زیادہ خوفناک ثابت ہوئی۔ اواخر 2020 میں کم جونگ نے اس ناکامیوں کا ذمہ دار سرکاری افسران کو قرار دیا کہ وہ اس کے ہدایت پر عمل نہ کر سکے۔
10 اگست 2020 کو کم جونگ نے کوویڈ کے خلاف تاریخی فتح کا اعلان کر دیا اور ساتھ ریاستی سرحدوں کو کھولنے کا اعلان کر دیا گیا۔ چین کے ساتھ باہمی تجارت کی دوبارہ شروعات کی تاہم کرونا وائرس کی دوبارہ پھیلاؤ کی روک تھام کی حفاظتی تدابیر کے وجہ سے تجارت سست روی کے شکار رہی۔
پیانگ یانگ، بیجنگ اور ماسکو میں تعلقات ہمیشہ سے پائیدار نہیں رہی۔ تعلقات میں اس وقت دراڑیں پیدا ہوئے جب سرد جنگ کے خاتمے پر 1990 اور 1992 میں روس اور چین نے جنوبی کوریا سے تعلقات کا آغاز کیا۔ پیانگ یانگ کے مسلسل مصالحتی کاوشوں اور روس میں پوٹن کے آمرانہ حکمرانی سے پھر سے دوستانہ تعلقات میں گرم جوشی پیدا ہوئے۔ 2014 میں روسی پارلیمان نے شمالی کوریا کی ذمہ سویت دور کے 90 فی صد قرضہ جات جس کی مالیت تقریباً دس ارب امریکی ڈالر تھی معاف کر دی۔ 2019 میں کم جونگ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی اور تعلقات میں مزید مضبوطی کا اعادہ کیا۔
پیانگ یانگ اور بیجنگ تعلقات میں اس وقت گرم جوشی دیکھنے کو ملی جب حال ہی میں بیجنگ کی ہانگ کا نگ میں کریک ڈاؤن کی پیانگ یانگ نے حمایت کی۔ شی چن پنگ کی 2019 میں شمالی کورین دورے سے بھی کم جونگ اور شی کی ذاتی تعلق میں بہتری آئی۔ اسی طرح دونوں ملکوں نے جولائی 2021 میں چینی کوریائی معاہدے کی ساٹھ سالہ تقریبات کے موقع پر رابطوں میں مزید بہتری کی عزم کا اعادہ کیا۔
اگر چہ یوکرائن پر روسی جارحیت سے شمالی کوریا کو یہ ایک مناسب موقع ملا ہے کہ وہ روس کے شانہ بشانہ کھڑا ہو کر اس سے فوائد سمیٹے۔ پیانگ یانگ اس امید پہ ہے کہ وہ روس کو ہنر مند افراد برآمد کرے یا اسلحہ ( جس کی حکومت نے تردید بھی کی ہے ) ، اس کے علاوہ چین سمیت روس بھی سفارتی و معاشی میدانوں میں مدد فراہم کرے گا۔
چین اور روس دونوں شمالی کوریا پر مزید عالمی پابندیوں کی حق میں نہیں ہیں باوجود اس کے کہ خیال ظاہر کیا جا رہا ہے پیانگ یانگ نے مزید ایٹمی تجربات کی ہیں۔ بیجنگ اور ماسکو امریکی اور اس کے اتحادیوں کے دشمنی میں پیانگ یانگ کو اپنے ساتھ رکھے ہوئے ہیں یا کہ ایک اور ”شرارتی“ ریاست کو پال رہے ہیں۔


