رانا ثناء اللہ منشیات کیس
انیس سو چوراسی پچاسی کی بات ہے۔ ایک زمیندار کی بھینس چوری ہو گئی، گاؤں میں لوگ چوری کو بے عزتی اور چوری برآمدگی کو عزت سے جوڑتے ہیں۔ بھینس والوں نے عزت بچانے کی خاطر تلاش شروع کردی، چند دنوں بعد ایک باڑے کو مشکوک کرار دے دیا، وہاں لوگ جمع ہو گئے، چارپائیاں لگ گئیں، حقوں کی مہک اڑنے لگی، پگوں والے چارپائیوں پر اور عام ارد گرد کھڑے ہو گئے۔ بات چلی اور ختم اس پر ہوئی کہ آپ ہمیں اس بات کا قرآن دیں کہ آپ چور نہیں۔
قرآن کے لیے نام مانگے گئے، جب نام سامنے آئے تو مشکوک گھرانے سے اعتراض آیا کہ ہماری صفائی پیش کرنے کے لیے آپ بڑے بڑے نام دے رہے ہیں جب کہ ہم غریب لوگ ہیں ہمارا قرآن ہمارے قد کے بندے سے لیا جائے۔ پنچایتیوں نے کہا کہ ان کا اعتراض درست ہے، نئے نام دیے جائیں۔ بھینس والوں نے ان ہی کے گھر کے ایک بندے کا نام دیا جو دن بھر واڑوں اور میروں پر بھینسیں چرایا کرتا تھا۔
اس نے اپنے خاندان کے بندوں کی صفائی لی اور ایک ہفتے بعد بھینس کے مالکوں کو پیغام بھیجا کہ ہم بے گناہ ہیں، آپ آئیں اور ہم سے قرآن لے لیں۔ جب اتنی بات ہو جائے تو سمجھا یہی جاتا ہے کہ قرآن ہو گیا ہے۔ بظاہر بات ختم ہو گئی اور جیسا کہ ہمیشہ ہوتا ہے اندر خانے باتیں چلتی رہتیں ہیں بھینس چوری کی بات بھی اندر خانے چلتی رہی۔
سات ماہ بعد سرگوشیاں شروع ہو گئیں کہ قرآن جھوٹا دیا گیا تھا۔ قرآن دینے والا دوبارہ سرگرم ہوا اور وہ جلد ہی اس نتیجے پر پہنچا کہ مجھ سے میری اولاد نے جھوٹ بلوایا تھا۔ زمیندار غریب اور سادہ تھا مگر ایمان و غیرت کی دولت سے مالا مال تھا۔ اس نے وہی پنچایتی جو پہلی بار اکٹھے ہوئے تھے بلائے اور ان کی منت کی کہ مجھے بھینس والوں کے گھر لے چلو۔
نیک کام تھا، لوگ ساتھ چل دیے۔ جب سب لوگ بیٹھ گئے تو قرآن دینے والا کھڑا ہو گیا، اس نے دونوں ہاتھ جوڑے اور بولا ”میں نے آپ کو غلطی سے جھوٹا قرآن دیا تھا، میں پہلے اللہ سے، پھر آپ سے اور اس ساری پنچایت سے معافی مانگتا ہوں، مجھے بتاؤ بھینس کی قیمت کیا ہے“ ۔
خاموشی چھا گئی، لوگ سوچ رہے تھے پتہ نہیں اب آگے سے کیا جواب آتا ہے۔ بھینس والا بھی عزت دار تھا اور سمجھتا تھا گھر آئے کی عزت کیسے کی جاتی ہے۔ چند لمحوں بعد وہ کھڑا ہو گیا، اس نے پنچایت کا شکریہ ادا کیا اور کہا میں نے آپ کو قرآن معاف کیا اور بھینس بھی اور میری اللہ سے دعا ہے کہ وہ بھی آپ کو قرآن معاف کرے۔ لوگ واہ واہ کرتے ہوئے گھروں کو چل دیے۔
آج اتنی پرانی بات کیسے یاد آ گئی؟ اس کی وجہ رانا ثنا اللہ کی منشیات کیس سے ہونے والی بریت ہے۔ آپ میں سے اکثر کو جولائی 2019 یاد ہو گا، جب ایک وزیر مملکت برائے امور داخلہ اور اے این ایف کے ڈی جی میجر جنرل عارف ملک صاحب ٹیلی وژن کے مختلف چینلز پر دائرے میں گھوم کر قسموں، قرآنوں، قبروں اور موت کے حوالے دے کر لوگوں کو یقین دلا رہے تھے کہ رانا ثنا اللہ منشیات کے کسی بین الاقوامی گروپ کا ممبر ہے۔ ان صاحبان کا یہ دعوی بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ ہمارے پاس ویڈیوز موجود ہیں۔
پتہ یہ کرنا تھا کہ کیا رانے کی بریت کے بعد الزام لگانے والے دونوں یا کسی ایک میں اس ان پڑھ جانور پالنے والے پینڈو برابر اخلاقی جرات ہے کہ وہ کہہ دیں کہ ”ہم سے غلطی ہوئی، ہم معافی مانگتے ہیں رانے سے قوم سے اور خدا رسول سے جس کا نام لے کر ہم جھوٹی کہانیاں سناتے رہے ہیں“ ۔ ایسا کرنے سے الزام لگانے والوں کی اخلاقی برتری ثابت ہو گی اور ملک میں اچھی رسم بھی قائم ہو گی۔
لگے ہاتھوں رانا صاحب سے گزارش ہے، آپ طاقت ور آدمی ہیں پھر بھی آپ نے چار سال جھوٹے کیس میں رگڑا کھایا ہے، سوال یہ ہے کہ جو غریب و کمزور بے گناہ ایسے کیسوں میں جیل بند ہیں ان کی مدد کون کرے؟
آپ وزیر داخلہ ہیں کوئی ایسی قانون سازی سر انجام دیجیے کہ بے گناہوں ایسے رگڑے نہ لگیں۔


