ناول ”سدھارتھ“ ، فکری مطالعہ

انتساب
گمنام آہوں اور گمشدہ راہوں کے نام
جرمن لکھاری ہرمن ہیسے کے قلم سے تخلیق پانے والا ناول سدھارتھ 1922 ء میں جرمنی میں شائع ہوا۔ 1951 ء میں اس کا انگریزی ترجمہ امریکہ سے شائع ہوا۔ 1960 ء تک اس کی شہرت عام ہو چکی تھی۔ یعقوب یاور نے 1982 ء میں اسے اردو کے قالب میں ڈھال کر ہندوستان کو اس سے متعارف کروایا۔ سدھارتھ سنسکرت زبان کا لفظ ہے جو سدھ اور ارتھ کا مجموعہ ہے۔ سدھ کا مطلب ”حاصل شدہ“ اور ارتھ کے معنی ”کوشش کرنا“ کے ہیں۔
اس لحاظ سے سدھارتھ کے معنی ”وہ حاصل ہو جانا جس کے لیے کوشش کی گئی ہو“ بنتے ہیں۔ اس ناول کے مرکزی کردار کا نام بھی سدھارتھ ہے۔ اس طرح ناول کا عنوان ذو معنویت کا حامل بن جاتا ہے۔ اس ناول کا مرکزی موضوع تناسخ (آواگون) سے نروان حاصل کرنا اور حقیقی سچائی جو کہ غیر فانی ہے کو پہچاننا ہے۔ دیگر تمام موضوعات اس موضوع سے منسلک ہو کر ناول کی فکر کو مضبوطی بخشتے ہیں۔ درج ذیل بحث انہی موضوعات کے متعلق ہے۔
نصیحت اور مشورہ میں حد تفاوق کھینچتے ہوئے اس نکتہ پر بحث کی گئی ہے کہ نصیحت کی بنیاد حکم پر ہوتی ہے، جبکہ مشورہ کی فصیل راہ دکھانے پر کھڑی ہے۔ نصیحت میں ایک راہ پر چلایا جاتا ہے۔ جبکہ مشورہ میں دو راہیں دکھا کر فیصلہ مشار پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ ناول کے کردار سدھارتھ کے مطابق نصیحت بے معنی ہے، اس کا کچھ فائدہ نہیں، صرف وقت اور الفاظ کا ضیاع ہے۔ مشورہ کے متعلق سدھارتھ کے عمل سے اس رمز سے بھی پردہ چاک ہوتا ہے کہ مشورہ ہمیشہ متعلقہ آدمی سے کیا جانا چاہیے۔ اس وجہ سے سدھارتھ دولت اور محبت کے حصول کا مشورہ طوائف سے کرتا ہے۔
علم اور سیکھنے کے عمل کے متعلق اس ناول میں مفصل تفصیل موجود ہے۔ علم کے حوالے سے سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ کوئی بھی معلم اس وقت تک متعلم کو تعلم کے عمل میں نہیں ڈھال سکتا جب تک متعلم خود علم سیکھنے پر رضا مند نہ ہو۔ اگر آدمی سیکھنے کی تمنا رکھتا ہو تو اسے کسی مخصوص معلم کی ضرورت نہیں رہتی، بلکہ وہ دنیا کی ہر چیز سے کچھ نہ کچھ سیکھ سکتا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سیکھنے کی بنیاد کس عمل پر ہے؟ اس کا جواب بھی ناول کے اندر موجود ہے اور وہ ہے ”حیرت“ ۔ جب آدمی کسی بھی چیز کو ایسے دیکھے کہ پہلی مرتبہ دیکھی ہو تو حیرت جنم لیتی ہے۔ حیرت کی کوکھ سے تجسس پیدا ہوتا ہے۔ اور تجسس علم کے حصول کی پہلی سیڑھی ہے۔
انسان ایک کتاب کی مانند ہے اور اس کتاب کی زبان کائناتی زبان ہے۔ فرد اپنے اندر جھانک تو سکتا ہے۔ مگر اس وقت تک اندرونی/ وجود میں پنہاں علم حاصل نہیں کر سکتا جب تک وہ کائناتی زبان سے آشنا نہ ہو۔ کائناتی زبان کا منبع، فطرت سے دوستی، دنیاوی مشاہدات اور تجربات ہیں اور انہی سے ہی یہ زبان سیکھی جا سکتی ہے۔ جس طرح ایک تحریر کو پڑھتے ہوئے اس کے اندر موجود تشبیہات و استعارات سے صرف نظر ممکن نہیں۔ اسی طرح روحانی وجود کو پڑھنے کے لئے کائناتی زبان سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا۔
کائناتی زبان کو سمجھنے کے لئے خیال، احساس اور غور و فکر کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔ جب انسان خود میں غور و فکر کرتا ہے تو کائنات کی روح کے ساتھ ہم آہنگی ہو جاتی ہے۔ اور وہ معنی جو کسی ایک وجود میں نہیں بلکہ ہر وجود میں موجود ہیں وا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے غور و فکر اور کائناتی مطالعہ کو بنیاد بنا کر پیش کیا گیا ہے تا کہ انسان اپنی زندگی عین فطرت کے مطابق گزار سکے۔
چشم ہو تو آئینہ خانہ ہے دہر
منہ نظر آتا ہے دیواروں کے بیچ
علم، مقصد کے حصول میں اہم عنصر ہے۔ اس وجہ سے مقصد کے متعلق ناول میں لکھا گیا ہے کہ مقصد کے حصول کے لیے بھوک، سوچ اور انتظار لازم ہیں۔ اور جب یہ تین چیزیں ہمنوا ہو جائیں تو مقصد تک پہنچا جا سکتا ہے۔ مقصد کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں، چائے وہ مخفی مغلظ نجس ہوں یا صریحاً سبک، من کی راہ میں حائل نہ ہونے دیں اور پانی میں پھینکے گئے پتھر کی مانند ڈوبتے جائیں تو منزل مل جائے گی۔
اس فانی دنیا میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ انسان مقدر کا بہانہ بنا کر اپنی شکست کا ملبہ خدا پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس ناول میں اس نکتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ انسان اپنے مقدر کو تبدیل کر سکتا ہے اور کوئی دوسرا شخص کسی دوسرے آدمی کے لئے ہزاروں سال کوشش کرے تو بھی مقدر کی تبدیلی ممکن نہیں۔ سادہ الفاظ میں، ”ہر فرد ہے اپنی ملت کے مقدر کا ستارہ“ ۔ اور ملت تب ہی معراج حاصل کرتی ہے جب ہر فرد اپنا مقدر خود بناتا ہے۔
ناول میں ضمیر کی آواز کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اور یہ بتایا گیا ہے کہ جب انسان ”ضمیر کی آواز“ خاموش کر دیتا ہے تو دنیاوی ہوس کہر کی مانند اس کے دل پر چھا جاتی ہے اور وہ فانی دھندے میں جکڑ جاتا ہے۔
محبت کے متعلق ایک اچھوتا نظریہ اس ناول میں پیش کیا گیا ہے۔ انسان، مانگ کر، مول لے کر محبت پا سکتا ہے۔ دے بھی سکتا ہے۔ لیکن وہ چرائی نہیں جا سکتی۔ جسم ایک راز ہے اور جنسی تناظر میں ان رازوں سے محبت کرنے والا ہی مسرت محسوس کر سکتا ہے۔
اس ناول میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ ہر شخص وہی چیز دے سکتا ہے جو اس کے پاس ہوتی ہے۔ جیسا کہ کسان چاول دے سکتا ہے تو معلم علم اور تاجر دولت۔ اس لیے غیر مطلقہ شخص سے خاص چیز کی درخواست نہیں کرنی چاہیے۔ اور درخواست کرنا یا امید رکھنا بے وقوفی ہے۔
بات کو کس طرح سنا جاتا ہے اور کسی کو قائل کرنے کے لئے کون سی زبان کارگر ہے اس ناول سے سیکھی جا سکتی ہے۔
ممتا کو ایک احساس، ایک جذبے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مصنف اس راز کو بیان کرتا ہے کہ ممتا والد میں بھی ہو سکتی ہے۔ بانو قدسیہ نے بھی یہی کہا تھا کہ کوئی ماں بن کر بھی ممتا نہیں ہوتی۔ اور کوئی بانجھ ہو کر بھی ممتا ہوتی ہے۔
ضخامت کے لحاظ سے یہ ناول وسیع نہیں مگر فکری لحاظ سے وقیع ضرور ہے۔ علم، مقصد، غور و فکر، احساس، جذبات، کائناتی زبان کے ساتھ ساتھ محبت کے موضوع پر بہت کچھ موجود ہے جو پڑھنے والا ہی حاصل کر سکتا ہے۔ اقتباس کے ساتھ اجازت چاہوں گا۔
”لفظ بہتر ہے مگر فکر بہترین، ہوشیاری بہتر ہے مگر صبر بہترین۔“

