دو دن غمخوار فون کے بغیر


وہ 24 نومبر 2020 کی شام تھی جب اچانک ہی میرے ہاتھ میں موجود میرے فون کی روشن اسکرین، جس پر میری انگلیاں مسلسل حرکت کر رہی تھیں، تاریک ہو گئی۔ میرا موبائل آٹو ری سٹارٹ پر سیٹ تھا اس لیے مجھے لگا کہ فون ری سٹارٹ ہونے لگا ہے، جو کہ اکثر ہوتا بھی تھا۔ لیکن اب کی بار یہ نہیں ہوا۔ فون کی اسکرین تاریک ہی رہی۔ میں نے پاور بٹن دبایا، کچھ نہیں ہوا، چارجر کا پلگ لگایا کوئی فرق نہیں پڑا اور پھر اپنے دیسی ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے ٹھونک بجا کر بھی دیکھا۔

غرض سبھی جگاڑ لگا لیے لیکن فون آن نہیں ہوا۔ اب میں واقعتاً پریشان ہو گئی کہ اسے کیا ہو گیا۔ فون اچھی کمپنی کا اچھا ماڈل تھا، اس طرح بند ہونا سمجھ میں نہیں آ رہا تھا۔ کافی دیر تک کوششیں کرنے کے بعد بھی فون آف ہی رہا تو میں نے اسے چلانے کی تدابیر ترک کیں اور اپنے سونے کی تدبیر شروع کر دی۔ رات کو بھی متعدد بار نیم خوابیدہ حالت میں میرا ہاتھ سرہانے دھرے موبائل تک جا کر اس کی نبض ٹٹولتا رہا، اس امید پر کہ شاید اس بدن میں روح لوٹ آئی ہو لیکن مایوسی کے سوا کچھ نہ ملا۔

رات گزری، صبح ہوئی، اور دن چڑھ کر اتر گیا۔ کیسے اور کہاں؟ معلوم نہیں۔ شام ہوئی تو میں نے ابا جی کو موبائل کی خرابی کی بابت بتایا اور ریپئرنگ کے لیے ان کے حوالے کر دیا۔

رات دوبارہ آ گئی تھی۔ میں البتہ پرسکون تھی، نیند بھی آ گئی۔ میں نے خود کو موبائل کے بغیر ”نارمل“ رہنے کے لیے ذہنی طور پر تیار کر لیا تھا۔

یہ 26 نومبر کی فجر تھی، میں نے نماز پڑھی اور زیر لب معمول کے اوراد پڑھتے ہوئے جائے نماز کا کونا موڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا لیکن اس سے پہلے کہ میں کونا لپیٹتی، میں نے ہاتھ پیچھے کر لیا اور خود سے سوال کیا کہ مجھے اتنی جلدی کس بات کی ہے؟ چند لمحے سکون سے بیٹھ کر دعا ہی مانگ لوں۔ ایک عرصہ ہوا تھا تسلی سے بیٹھ کر دعا کیے ہوئے۔ اللہ سے بات کیے ہوئے، اس سے کچھ شیئر کیے ہوئے۔ سلام پھیرنے کے بعد اور کئی طرح کے فضول و ضروری مشاغل توجہ گھیر لیتے تھے، اور وقت بھی۔

ایک عجیب قسم کی جلد بازی اور افراتفری سی شامل ہو گئی تھی زندگی میں، یوں کہ دعا مانگنا بھی ترک ہو چکا تھا۔ یہ احساس ہوا اور میں شرمندگی سے اپنی جگہ پر واپس بیٹھ گئی۔ میں بھول چکی تھی کہ آخری بار میں نے پرسکون ہو کر دعا کب مانگی تھی۔ خالی ہتھیلیوں پر نظر پڑی تو اندر باہر کئی پچھتاوے سر اٹھانے لگے، کیفیت بدلنے لگی۔ دعا پوری ہوئی تو میں ہمیشہ کی طرح کوئی کام کرنے کے بجائے بستر کی طرف چلی گئی۔ پھر خیال آیا کہ کئی ہفتوں بلکہ مہینوں سے قرآن کھولنے کی بھی توفیق نہیں ہوئی۔

سر مزید جھکا۔ میں نے ایک جانب بلندی پر رکھے جزدان کی طرف نظر کی اور آگے بڑھ کر اٹھا لیا۔ جزدان میں قرآن مجید کا کنگ فہد کمپلیکس مدینہ کا پرنٹ کیا ہوا انگریزی ترجمے والا نسخہ موجود تھا۔ یہ قرآن مجھے میری ٹیچر نے دیا تھا، میرے انٹرمیڈیٹ کے آخری دنوں میں۔ وہ حج سے واپسی پر اپنے ساتھ ایسے تین نسخے لائی تھیں، ایک اپنے لیے، دوسرا ایک کولیگ کے لیے اور تیسرا انہوں نے مجھے دیتے ہوئے کہا تھا کہ میں چاہتی ہوں یہ آپ کو دوں۔

وہ کم عمر تھیں، نفسیات پڑھاتی تھیں، پڑھاتی نہیں تھیں، پڑھنے والوں کی کھوپڑی میں پہنچا دیتی تھیں، ( میں نے البتہ ان سے نفسیات نہیں پڑھی، میں نفسیات میں کچھ خاص دلچسپی نہیں رکھتی تھی، میرے ساتھ ان کا تعلق کچھ اور وجوہات کی بنا پر قائم ہوا تھا ) تدریس کے شعبے میں آئے کچھ ہی سال ہوئے تھے انہیں، لیکن ایک بڑی تعداد میں سٹوڈنٹس ان سے اکتساب علم کر چکے تھے، کر رہے تھے۔ ان میں سے کسی کو بھی انہوں نے یہ نسخہ نہیں دیا تھا۔ تقریباً تین برسوں تک اپنے پاس سنبھالے رکھا، یہاں تک کہ قرعہ فال میرے نام نکلا۔

میں نے دھیرے سے جزدان کھولا اور قرآن مجید اٹھایا، اس کے ویلوٹ کے قرمزی غلاف پر اپنا ہاتھ پھیرا، بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا۔ وحشتیں دم توڑتی معلوم ہوتی تھیں۔ میں نے قرآن رحل پر رکھا، کھولا، سفید صاف ورق پر سیاہ روشنائی سے درود و سلام اور بسم اللہ تحریر تھی، نیچے ایک عبارت لکھی تھی:

To a very nice student…
From your Muallima.

میں بے ساختگی سے اپنی انگلیاں ان حرفوں پر پھیرنے لگی۔ کافی کچھ یاد آیا تھا۔ میں کیا تھی؟ میں کیا ہو گئی ہوں؟ میں نے خود سے سوال کیے اور جواب میں شرمندگی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ ایک طویل مدت سے میں چاہنے کے باوجود قرآن پڑھنے کو اپنے معمولات میں شامل نہیں کر سکی۔ رمضان میں پڑھتی تھی، یا کسی کے ایصال ثواب کے لیے۔ روانہ تلاوت کرنے کا شوق چند دن چلتا اور پھر کسی نہ کسی نام نہاد مجبوری کے سبب چھوٹ جاتا۔

خود ملامتی کے احساس سے دوچار میں نے چند اوراق پلٹے، سورت فاتحہ سامنے تھی۔ میں نے پڑھنا شروع کیا۔ سورت البقرہ آئی، ابتدائی آیات روانی سے پڑھ لیں اور پھر زبان ذرا ذرا اٹکنے لگی، روانی متاثر ہونے لگی۔ میرا رب کے کلام سے اتنا فاصلہ ہے، رب سے تو اس بھی زیادہ ہو گا، میں نے سوچا۔ اپنے آپ پر تاسف مزید بڑھا۔

میں ایسی ہی تھی شروع سے؟ میں نے خود سے پوچھا۔ نہیں، میں ایسی نہیں تھی۔ ایک وقت تھا جب میں قرآن کو وقت دیتی تھی، میرے سرہانے موبائل اور چارجر کے بجائے کتاب، پین اور ڈائری ہوتی تھی۔ زندگی صاف، سیدھی اور پرسکون تھی۔ پھر حالات بدل گئے۔ وقت کتابوں کے بجائے موبائل کو ملنے لگا اور قرآن سے فاصلہ اور بھی بڑھ گیا۔ شروع شروع میں ضمیر کا چابک پڑتا تھا، میں نے قرآن کریم ایپ ڈاؤن لوڈ کر لی۔ تلاوت بھی کر لیتی تھی، لیکن اس میں باقاعدگی نہ آ سکی، بعد میں اتنا بھی نہیں ہوتا تھا۔ اب قرآن سامنے تھا، میں پڑھ رہی تھی اور ماضی کسی فلم کی طرح ذہن میں چلنے لگا، بہت کچھ یاد آ رہا تھا۔ میں نے چند رکوع پڑھے، اور قرآن جزدان میں بند کر کے واپس اپنی جگہ پر رکھا، پہلے دن اتنا کافی تھا۔ عمل تھوڑا ہو لیکن اس میں استقلال ہو یہ بہتر ہے بجائے اس کے کہ کثیر عمل ہو لیکن شاذ و نادر ہو۔

اسی دن میرے بڑے ماموں کی بیٹی کی شادی تھی، میں نے پوری تقریب آرام سے گزاری۔ تصاویر اور سیلفیوں کے بغیر، اور کوئی قیامت نہیں آئی تھی۔

موبائل سے محرومی کا دوسرا روز صبر و سکون کے ساتھ گزر رہا تھا۔ کوئی منٹ منٹ کی ٹوں ٹوں نہیں تھی، کوئی ٹوں ٹوں کے بعد میسج پڑھنے کی بے قراری نہیں تھی۔ کوئی کال میری نیند میں خلل نہیں ڈال رہی تھی۔ کوئی بیل مجھے ارد گرد کو چھوڑ کر موبائل سنبھالنے کے لیے مجبور نہیں کر رہی تھی۔ کسی کا فون پک نہ ہونے کا ڈر نہیں تھا، کسی کو رپلائی میں تاخیر کرنے کا افسوس نہیں تھا۔ کوئی فوٹو اپ لوڈ کرنے کی تحریک نہیں تھی۔ کوئی پوسٹ ذہن کو اپنے ساتھ نہیں چپکا رہی تھی، میں آرام سے اپنا کام کر سکتی تھی، فیملی کو وقت دے سکتی تھی، کچھ لکھ سکتی تھی، کوئی ڈسٹربنس نہیں تھی۔ زندگی قرون وسطیٰ میں چلی گئی تھی۔ سب اچھا تھا۔

شام نے سہ پہر کی جگہ لی، میں کھانا کھا کر کمرے کی طرف جا رہی تھی جب میرے بھائی نے مجھ سے وہ بات کہی جس نے مجھے یہ سب کچھ لکھنے پر مجبور کر دیا۔ اس نے میرے اٹھنے پر مجھے مخاطب کر کے کہا: ”کچھ دیر بیٹھی رہو، آج تو تمہارا غم خوار بھی نہیں ہے۔“ میں کھسیانی ہنسی ہنسنے لگی۔ ایسی صورت حال میں بندہ یہی کر سکتا ہے۔

چند گھنٹے بیتے اور میرا چھوٹا بھائی آیا، مجھے میرا ”غمخوار“ لوٹانے۔ کہہ رہا تھا کہ اب یہ بالکل ٹھیک ہے۔

یہ مجھے کم و بیش پچاس گھنٹے بعد ملا تھا، یعنی دو دن اور دو راتیں اس کے بغیر گزری تھیں۔ لگتا تھا کوئی بچھڑ کر ملا ہے۔

ان دو دنوں میں میں نے سیکھا کہ ہم نے اپنی زندگی میں ٹیکنالوجی کو ضرورت سے زیادہ داخل کر لیا ہے۔ اور خود کو ایکا طرح سے اس کا پابند کر لیا ہے، اس کے بغیر زندگی مفلوج ہونے لگتی ہے۔ ان دو دنوں میں فون کے بغیر رہ کر میں نے سنجیدگی سے یہ سوال خود سے پوچھا: کیا سکرین ہمارے حقیقی رشتوں کا وقت کھا رہی ہے؟ کیا ہم ضرورت سے ڈیجیٹل ہو کر اپنا اور اپنے گھر والوں کا حق غصب نہیں کر رہے؟ اور کیا واقعی ہم نے اپنے موبائل کو اپنا ”غمخوار“ بنا لیا ہے؟

Facebook Comments HS