ٹاکسک پیرنٹنگ : کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں

  ہر نئی نسل کے بچوں کی تمنا خالد کاش ماں باپ نئے سانچوں میں ڈھالے جائیں (ڈاکٹر خالد سہیل) ”والدین“ ہمیشہ اولاد کا بھلا چاہتے ہیں۔ یہ معاشرے کا وہ جنرلائزڈ جملہ ہے جس سے والدین کی ہر طرح کی نا انصافی اور رویوں کی بدصورتی کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ماں باپ کے اتنے فضائل بیان کیے جاتے ہیں کہ اگر وہ اولاد کو تباہ کر دیں، ڈپریشن کا مریض بنا دیں تب بھی ان سے

Read more

ایک شخصیت دو نسبتیں

پاکستان میں صنفی تفریق محض گھریلو یا سماجی مسئلہ نہیں، ایک ریاستی و انتظامی حقیقت بھی ہے جس کے اثرات عالمی سطح پر بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ 2025 کے گلوبل جینڈر گیپ انڈیکس میں پاکستان کا شمار مسلسل بدترین کارکردگی والے تین ممالک میں ہوا ایک ایسی فہرست جس میں پاکستان کے اعداد و شمار سوڈان اور چاڈ جیسے قحط اور جنگ زدہ ممالک کے اعداد و شمار کے برابر کھڑے ہیں۔ معمولی رد و بدل کے ساتھ گزشتہ کئی

Read more

مشرقی طرزِ معاشرت: پرندوں سے ہی کچھ سیکھ لیں

میرے گھر کی بوگن ویلیا میں ہر سال کی طرح اس بار بھی چڑیوں، بلبلوں اور فاختاؤں نے گھونسلے بنائے، انڈے دیے اور بچے پالے۔ عموماً گھونسلے اونچی شاخوں پر ہوتے اور وہاں کا روزمرہ میری آنکھوں سے اوجھل رہتا۔ بس پروں کی پھڑپھڑاہٹ، اور چھوٹی چونچ کی ہلکی آوازوں کا شور سنائی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ پرندوں کے بچے گھونسلوں سے باہر نکلتے اور پرندے انہیں پرواز کا ہنر سکھاتے دکھائی دیتے۔ اس بار فاختہ کا گھونسلا بہت

Read more

ٹیگور کی نوبل انعام یافتہ کتاب: ”گیتانجلی“ (آفاقی محبت کے گیتوں کی مالا) کا تعارف اور تبصرہ

رابندر ناتھ ٹیگور صرف بنگال کے نہیں بلکہ برصغیر کے فکری، ادبی اور روحانی افق کے ایک درخشاں ستارے تھے۔ وہ شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، ڈرامہ نویس، فلسفی، موسیقار، تعلیم دان، مصور، اور سب سے بڑھ کر ایک مفکر تھے۔ انہیں ”گرو دیو“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے، اور اردو میں اکثر رابندر ناتھ ٹھاکر لکھا جاتا ہے۔ ان کی ادبی زندگی کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ شاعری، افسانے، ناول، ڈرامے، سفرنامے، مضامین، اور گیت، انہوں نے

Read more

ہمیں اپنے سگنی فائر اور سگنی فائڈ بدلنے کی ضرورت ہے

لفظ وہ برتن ہے جس میں ہم اپنے جذبات یا تجربات انڈیل دیتے ہیں۔ اور وہ تجربہ یا تصور جو ہمارے ذہن میں لفظ سن کر ابھرتا ہے، وہ اس برتن کا مواد ہے۔ اگر آپ نے کسی بھی زبان یا ادب میں ماسٹرز کیا ہے تو آپ لسانیات/لنگویسٹکس پڑھتے ہوئے سگنی فائر اور سگنی فائڈ کے تصور تک ضرور پہنچے ہوں گے۔ یہ سیمینٹیکل تصور ہے اور کسی بھی لفظ کو سننے کے بعد ذہن میں اس سے منسلک

Read more

راجہ گدھ کا موضوعاتی مطالعہ اور تجزیہ

1۔ تعارف اور کہانی کا خلاصہ مشہور کتابوں کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ان کو سمجھا کم جاتا ہے اور انہیں سجاوٹ اور دکھاوے کے لیے زیادہ استعمال کیا جاتا ہے۔ ایک کتاب کے لیے ایک عام رائے خواہ وہ غلط ہی کیوں نہ ہو، بن جائے تو تبدیل نہیں ہو سکتی۔ کچھ ایسا ہی معاملہ راجہ گدھ کے ساتھ ہوا۔ راجہ گدھ سب سے پہلے 1981 میں شائع ہوا اور اپنی پہلی اشاعت سے ہی مقبول ہو گیا۔

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل اور مقدس مجید کی کتاب ”نئے خواب، نیا نصاب“ پر تبصرہ

  آپ کو ”مسٹر چپس“ ناول کا یہ فقرہ ضرور یاد ہو گا: ”Youth and age often combine well۔“ اس کا ایک بہترین ثبوت ہمارے پاس ڈاکٹر خالد سہیل اور مقدس مجید کی مشترکہ کاوش ”نئے خواب، نئے نصاب“ کی صورت میں ہے۔ ڈاکٹر خالد سہیل پاکستانی نژاد کینیڈین ماہر نفسیات، تھیراپسٹ، مصنف، شاعر اور سیاح ہیں۔ زیر نظر کتاب ان کے اور ایک پاکستانی نوجوان طالبہ مقدس مجید کے درمیان خطوط پر ہونے والی گفتگو کا مجموعہ ہے۔ یہ

Read more

چائلڈ میرج رسٹرین بل 25۔ 2024 اور مُلّا

  سب سے پہلے تو شکر ہے کہ دیر سے ہی سہی مگر یہ بل پاس ہو گیا۔ افسوس اس بات کا ہے کہ مائیک والے مولوی سے لے کر اسلامی نظریاتی کونسل میں بیٹھے ہوئے سند یافتہ تک کو یہ بل بے دینی اور غیر اسلامی لگ رہا ہے۔ سوال ہے کہ کیا اٹھارہ سال سے کم عمر لڑکی یا لڑکی کی شادی پر پابندی سے دینی احکام میں کوئی خلل واقع ہو رہا ہے؟ چائلڈ میرج رسٹرین بل

Read more

دا کائٹ رنر: مطالعہ تجزیہ اور تبصرہ

  3۔ کائٹ رنر: خالد حسینی کا پرو امریکن اور پرو ویسٹرن ازم کائٹ رنر پڑھتے ہوئے مصنف کا بیانیہ واضح طور پر مغربی افکار اور نظریات سے متاثر محسوس ہوتا ہے۔ اس بنا پر ”دا کائٹ رنر“ کتاب کچھ حد تک مشکوک بھی ہو جاتی ہے کہ کیا یہ کسی ایجنڈے کے تحت کی گئی تصنیف ہے یا واقعی غیر جانبداری سے حقائق اور احساسات بیان کرنے کی کوشش کی گئی؟ کیا مصنف کوئی منطق اور ثبوت فراہم کر

Read more

دا کائٹ رنر موضوعاتی مطالعہ : پاکستان کی نمائندگی میں غیر علانیہ تعصب کی جھلکیاں (حصہ اول)

  1۔ تعارف اور کہانی کا مختصر خلاصہ دا کائٹ رنر (The Kite Runner)  اس صدی کا مشہور انگریزی ناول ہے جسے افغان نژاد امریکی مصنف خالد حسینی نے تحریر کیا۔ یہ ان کا ڈیبیو ناول تھا جو 2003 میں شائع ہوا اور فوری طور پر عالمی شہرت حاصل کر گیا۔ ناول افغانستان کے سیاسی اتار چڑھاؤ، سماجی عدم مساوات، دوستی، غداری، ندامت اور کفارے جیسے موضوعات کو بیان کرنے کی کوشش ہے۔ یہ کہانی کابل کی پرانی خوبصورتی سے

Read more

روپی کور کی کتاب پر تبصرہ: Milk and Honey

  روپی کور ہندوستانی نژاد کینیڈین مصنفہ ہیں۔ ملک اینڈ ہنی روپی کی ڈیبیو کتاب ہے جو انگریزی شاعری اور نثری شاعری کا مجموعہ ہے۔ روایت پسند اور کلاسیکیت سے جڑے لوگ شاید اسے شاعری کا درجہ دینے سے گریز کریں کیونکہ کتاب کے مضامین کافی غیر روایتی انداز میں اور مروجہ قواعد کو نظر انداز کر کے قلم بند کیے گئے ہیں۔ روایتی رائم اور ردھم کا استعمال نہیں کیا گیا۔ یہ ”بلینک ورس“ بھی نہیں ہے، ”آئیمبک پینٹا

Read more

کتاب ”رب سے جڑنے کا سفر“: (2)

4۔ ہدایت و تبلیغ کے نام پر شدت پسندی کا فروغ یہ ناول اتنا شدت پسندانہ انداز سے تحریر کیا گیا ہے کہ مجھے محسوس ہوا القاعدہ اور داعش جیسی گم راہ تنظیموں کے نظریات کو عین دین حق سمجھ کر پھیلایا گیا ہے۔ ابنِ قیم اور ابن تیمیہ جیسوں کی کتب کے حوالے اس کا ثبوت ہیں۔ ذیل میں مختلف جہتوں سے شدت پسندانہ نظریات کی نشان دہی کی ہے ان نکات پر غور کریں۔ 1۔ احساسِ گناہ کو

Read more

ام ہریرہ کی کتاب: رب سے جڑنے کا سفر

  صنف: ناول کیٹیگری: اسلامی حلال ناول، ریگولر نہیں سپیشل والا 1۔ تعارف، کہانی کا خلاصہ اور بیانیہ رب سے جڑنے کا سفر از امِ ہریرہ بظاہر ایک مذہبی روحانی اور اصلاحی ناول ہے، جس میں مرکزی کردار فاطمہ اور قرة العین کے درمیان تعلق کے ذریعے انسان اور خدا کے تعلق، توبہ، ہدایت اور روحانی تبدیلی جیسے موضوعات کو اجاگر کیا گیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ناول فنی اعتبار سے ادب تو کیا پاپولر فکشن کے

Read more

انقلاب کی بنیاد شعور ہے

کبھی کبھی تاریخ کو بغور پڑھنے سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے قوموں کی تقدیر صرف ہتھیاروں، نعرہ بازی اور جذباتی طوفانوں سے نہیں بدلی، بلکہ اصل تبدیلی وہاں آئی جہاں ذہن بدلے، شعور بیدار ہوا، اور انسانوں نے خود کو اخلاقی اور فکری سطح پر بلند کیا۔ دنیا کے بیشتر خونی انقلابات چاہے وہ جتنا بھی بڑا نعرہ لے کر آئے ہوں بالآخر زوال پذیر ہو گئے۔ ان کی بنیاد جبر، طاقت، غصے، یا نفرت پر تھی، اور تاریخ

Read more

افلاطون کی غار کی کہانی- کیا ہم اسیرِ غار ہیں؟

افلاطون نے اپنی کتاب ”ریپبلک“ کے ایک باب میں یہ فرضی کہانی بیان کی ہے۔ جو سچائی، حقیقت، انصاف اور خوبصورتی کے تعین کے سفر کو فلسفیانہ انداز میں پیش کرتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ ایک مکالمہ ہے جو سقراط اور اس کے شاگرد گلوکون جو افلاطون کا بھائی تھا، کے درمیان ہوا۔ مگر سقراط نے کوئی کتاب نہیں لکھی اس لیے ہم اسے افلاطون کی تخلیق کا حصہ قرار دیتے ہیں۔ فرض کیجیے ایک غار ہے جس میں

Read more

آخر ہم کب تک عقل دشمنی کرتے رہیں گے؟

  ہم سب نے کتابوں میں پڑھا ہے کہ ایک دور تھا جب مسلمان سائنس، ایجادات، فلسفے، تعلیم، کیمیا گری، فن تعمیر اور طب سمیت ہر شعبے میں دنیا کی راہ نمائی کر رہے تھے۔ اسے مسلمانوں کی عظمت کا دور کہا جاتا ہے۔ پھر یہ زمانہ طویل ہونے کے بجائے ختم ہو گیا۔ وجہ کیا تھی؟ وجہ تھی عقل دشمنی۔ امام غزالی اور ان کے مکتب فکر کے وہ فتوے جس میں انہوں نے کہا کہ فلسفہ دین کا

Read more

غلامی انسانوں کی ہی نہیں سکرینز کی بھی بری ہے

ہمیں لگتا ہے کہ سکرینز نے ہمیں ارد گرد سے غافل کیا ہے، ہمیں ہمارے رشتوں سے دور کیا ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ سکرینز نے ہمیں ہمارے اپنے آپ سے الگ کر لیا ہے۔ وہ وقت جو ہم نے اپنے آپ کو دینا تھا وہ بے حد خاموشی کے ساتھ سکرینز نگل گئیں۔ اس نے ہم سے ہماری ”سلا لیکوی“ چھین لی۔ ہم نے خود کلامیاں ترک کر دیں۔ ہمارا اپنے آپ سے مکالمہ ختم ہوا اور رابطہ

Read more

زبان، لہجہ اور الفاظ: ہم کہاں کھڑے ہیں؟

ہم لوگ پڑھے لکھے ہونے کے باوجود کتنے مہذب ہیں وہ ایک جملے ”وڑ گیا“ کی قبولیت اور مقبولیت نے ہمیں بتا دیا ہے۔ ہم لوگ من حیث القوم کم اخلاق بد زبان لوگ ہیں۔ (غصہ مت ہوں، میں نے خود کو الگ نہیں کیا) ہمیں بد اخلاقی، بد زبانی پسند ہے، ہم اس کی طرف راغب ہوتے ہیں جن اور سراہتے بھی ہیں۔ (ملک میں چیخنے دھاڑنے والے مرکزی کردار والے ڈرامے ایسے ہی مقبول نہیں ہو رہے )

Read more

اس نسل کو روایتی مذہبی تہوار بیزار کن کیوں لگ رہے ہیں؟

ہماری اس نسل میں ایک بڑی تعداد کا خیال ہے کہ ”عید“ بہت بور اور بیزار کن سا تہوار ہے، انہیں عید کا دن سو کر گزارنا پڑتا ہے۔ ایسی اجتماعی سطح کی ناشکری کی گفتگو کائنات کے کانوں نے شاید ہی کبھی سنی ہو۔ انہیں ہالووین تک اکسائٹنگ لگتا ہے لیکن عید پر ان کا مزاج ایسا ہوتا ہے جیسے سٹاک ایکسچینج میں سرمایہ ڈوب گیا ہو۔ عام دنوں میں اچھے خاصے ہوں گے، عید والے دن نادیدہ غموں

Read more

لاعلمی کا تکبر: مجھے سب پتا ہے

ویسے تو ہمارے اندر بہت سی تہذیبی برائیاں ہیں لیکن وہ برائی جسے بہت معمولی سمجھا جاتا ہے وہ ہے، ”میں سب جانتا ہوں“ یا ”مجھے سب معلوم ہے“ کا رویہ۔ مجھے بہت حیرانی ہوتی ہے کہ اگر کسی بھی شخص کے سامنے جسم کی کسی تکلیف کا ذکر کر دیا جائے تو وہ بلا تاخیر معالج بن کر چند نسخے تجویز کر دیتا ہے۔ قوموں کے باہمی تعلقات کی بات ہو تو وہ خارجہ پالیسی میکر بن جاتا ہے۔

Read more

مردانگی کی تعریف بدلنے کی ضرورت ہے

مردانگی وہ صفت ہے جو عمومی طور پر مردوں کے لیے استعمال ہوتی ہے، حالانکہ لفظ ”مردانگی“ بطور مؤنث استعمال ہوتا ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کا مطلب دلیری ہے، اور عمومی طور پر اسے صنفِ کرخت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا یہ صفت محض مردوں تک محدود ہے؟ اگر بہادری اور جسمانی قوت ہی مردانگی کی اصل پہچان ہے تو پھر یہ کئی جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے، جیسے کہ شیر، چیتا

Read more

گلزار کی شاعری

  چلو لمحے چھیلیں! مروڑیں اسے، انگلیوں میں لپیٹیں، اڑائیں ستاروں کی ڈھیری میں ڈھک دیں! کبھی چھیل کر، ایک لمحے میں جھانکو تو اس میں بھنور، جیسی نا بھی ملے گی تمہیں کال کی۔ جہاں سے وہ لمحہ چلا تھا وہیں پہ ڈبو دیں؟ چلو لمحے چھیلیں! گزشتہ و موجودہ صدی کی جدید اردو شاعری میں نمایاں نام ”گلزار“ ہے۔ ان کے لہجے میں روایت اور جدت کا الگ امتزاج ہے۔ گلزار کو میں نے سب سے پہلے ایک

Read more

ڈاکٹر خالد سہیل کا فلسفہ گرین زون

میں نے کچھ دنوں پہلے آن لائن کورسز کے بے فائدہ ہونے پر لکھا اور آپ کو ان سے دور رہنے کا مشورہ دیا۔ مجھے اس امر کی پوری سمجھ ہے کہ کچھ لوگوں کے لیے وہ کورسز آخری امید ہوتے ہیں، انہیں لگتا ہے انہیں لینے کے بعد وہ بہتر محسوس کریں گے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہوتا۔ آن لائن کورسز سے بہتر چیز کا مشورہ ہے میرے پاس۔ یہ ہے گرین زون فلاسفی۔ ڈاکٹر خالد سہیل پاکستانی نژاد کینیڈین

Read more

ادب، فن تنقید اور قارئین کی نا انصافی

دنیا کے ہر کونے کے لوگ ارسطو کی ذہانت کے قائل ہیں، اس کا فلسفہ اور کتابیں آج بھی پڑھی جاتی ہیں۔ ارسطو ایک عظیم انسان تھا کہ اس نے لوگوں کو سوچنے کی راہ پر لگایا۔ لیکن وہ ایلیٹ کی حکومت (Aristocracy) کا حامی تھا، وہ غلامی کے حق میں تھا، اور اسے ”نظامِ قدرت“ قرار دیتا تھا۔ عورتوں کے بارے میں اس کے نظریات متعصبانہ اور برے تھے۔ جارج واشنگٹن نے امریکہ کو آزادی دلوائی، وہ گریٹ تھا،

Read more

آخر محمد رضوان کی تسبیح ہی کیوں بری لگ رہی ہے؟

”کھیل کے میدان میں لڑنے والے دو فریقوں میں فاتح ایک ہی ہوتا ہے، اور یہ وہ ہوتا ہے جس کے پاس بہتر منصوبہ سازی، کھیل کی مہارت، جیت کا عزم اور مضبوط اعصاب ہوں۔ نہ کہ وہ جو تسبیح، وظائف کثرت سے کرتا ہو۔“ یہ وہ تنقید ہے جو پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم پر چیمپئنز ٹرافی 2025 سے پہلے مرحلے میں باہر ہو جانے کے بعد ہو رہی ہے۔ ان سے ملتے جلتے الفاظ میں یہی بات ٹی

Read more

سنگھاسن بتیسی : ایک موضوعاتی مطالعہ

  کتاب: سنگھاسن بتیسی مصنف: نا معلوم مترجم: انتظار حسین سنگھاسن بتیسی۔ (سنگھاسن یعنی تخت اور بتیسی یعنی بتیس 32 ) یہ سنسکرت کی مشہور منظوم داستان کا اُردو نثری ترجمہ ہے۔ اس سے ملتی جلتی ایک اور داستان بیتال پچیسی ہے۔ متن اس کا یہ ہے کہ راجہ بھوج اجین نگری میں راج کرتا ہے، اس کی سلطنت میں ایک شخص ایک کھیت کی رکھوالی کے لیے ایک مچان پر چڑھتا ہے، چڑھتے ہی بلند آواز سے حکمیہ انداز

Read more

تشکیک کیوں ضروری ہے

  یونانیوں کا ماننا تھا کہ فلسفے (دانش مندی) کی ابتدا ”حیرت“ سے ہوتی ہے، جب کہ سترہویں صدی کے فرنچ فلاسفر رینے دیکارت نے کہا کہ فلسفے کی شروعات ”شک“ سے ہوتی ہے۔ اول الذکر سے تو فی الوقت ہمارا لینا دینا نہیں ہے۔ ہم نے تشکیک کے متعلق بات کرنی ہے جو ہر صحت مند سوچ کے لیے ضروری ہے۔ آگاہی اور علم کی سرحد ہوتی ہے، لیکن جہالت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ انسان کا شعوری ارتقاء

Read more

دا ٹھگ ڈاٹ کام – ڈیجیٹل کورسز

سوشل میڈیا کئی طرح کے مسائل کا گڑھ بن چکا ہے، اور ان میں سے ایک ہے آن لائن کورسز، ایسے کورسز جن کا فائدہ تقریباً صفر ہے۔ جیسے ذہنی صحت بہتر کرنے اور دین سکھانے کے ڈیجیٹل اور آن لائن کورسز۔ سوشل میڈیا انفلوئنسرز کے پاس لوگوں کو بے وقوف بنانے کے کئی کارگر ہتھکنڈے ہیں۔ ان میں ایک طریقہ یہ ہے کہ چند دن موٹی ویشن دے کر اور ہمدردی دکھا کر لوگوں کو یہ یقین دلا دیا

Read more

نظریات کو سمجھیں، پھر فیصلہ کریں

  ہم ایک ایسے روایتی معاشرے کا حصہ ہیں جہاں کسی نئے خیال یا نظریے کو جگہ بنانے کے لیے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر اوقات یہ مخالفت کسی حقیقی فکری اختلاف کی بنیاد پر نہیں بلکہ محض ناسمجھی اور غیر ضروری خوف کے نتیجے میں کی جاتی ہے۔ ایسے کئی فلسفے اور نظریات جو انسانی بھلائی کے لیے کارآمد ہو سکتے تھے، معاشرتی مزاحمت کے باعث متروک اور مکروہ قرار دیے گئے۔ کچھ مخصوص مفادات رکھنے

Read more

پاکستانی اور ان کی شناخت کا بحران

شناخت کے حوالے سے ایک سوال میں نے خود سے بھی کیا اور اپنے جاننے والے اکثر لوگوں سے پوچھا: آپ کے خیال میں انسان کی شناخت کس بنیاد پر ہونی چاہیے؟ آسانی کے لیے کچھ آپشنز بھی دیے : یقین کی بنیاد پر، یعنی وہ دلی اور ذہنی طور پر جن نظریات اور عقیدوں کو مانتا ہے وہی اس کی پہچان ہیں۔ انسسٹری، بائیولوجی، بلڈ لائن، نسل کی بنیاد پر۔ زبان کی بنیاد پر۔ جغرافیہ کی بنیاد پر۔ ان

Read more

دو ہزار سالہ قدیم ریاست دیپالپور

ہم کسی بھی سفر پر نکلیں تو اکثر منزل نگاہ میں ہوتی ہے۔ لیکن بعض اوقات اس کے برعکس بھی ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ بھی پچھلے ہفتے ایک ایسا ہی واقع پیش آیا جب مجھے دیپالپور کا سفر کرنا پڑا۔ نانی کے بھائی اسی شہر میں رہتے تھے، سو کہا جا سکتا ہے کہ خاندانی جڑیں وہاں موجود ہیں۔ ایک عزیز کی وفات پر تعزیت کے لیے جانا تھا پر یہی تعزیتی نیت والا سفر ایک تاریخی مقام سے

Read more

وہ جن کے لیے ذائقوں پر سمجھوتا مشکل اور ضمیر پر سمجھوتا آسان ہے

میں نے کبھی غزہ اور فلسطین کے متعلق عوامی جگہوں پر اپنے خیالات نشر نہیں کیے۔ مجھے یہی لگتا تھا کہ پہلے مجھے اپنی زندگی کو وہاں لانا ہے جہاں میں نے اپنے ہاتھوں کو خونِ ناحق کے دھبوں سے بچانا ہے۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اسرائیل کو سپورٹ کرنے والی پروڈکٹس اور برانڈز کے بائیکاٹ کی مہم اور اعلانات ہوئے۔ جن کے اندر خدا نے کچھ رکھا تھا، جو اصلاً حساس تھے انہوں نے بائیکاٹ کر

Read more

ٹاک ٹاک کا استعمال اور سکڑتی ہوئی ارتکاز کی صلاحیت

اگر آپ روزانہ اپنے فون پر ٹک ٹاکس دیکھنے کے عادی ہیں تو سنبھل جائیں۔ ٹک ٹاکس کے اخلاقی اور مذہبی نقصانات کیا ہیں، یہ میرا موضوع نہیں ہے۔ اس وقت سب سے اہم مسئلہ جو ٹک ٹاک اور ریلز سکرولنک کی وجہ سے پنپ رہا ہے وہ ہے ارتکاز اور توجہ کے دورانیہ میں کمی۔ Decrease in attention span and ability to focus اگر کوئی ہر روز ایک گھنٹہ بھی ٹک ٹاکس دیکھتا ہے تو یہ اس کے کسی

Read more

گھاس چرتے خچر

میں نے اپنے بچپن میں اپنے گاؤں سے باہر کھیتوں میں خچروں کو گھاس چرتے دیکھا تھا۔ ان کو گھاس چرنے کے لیے چھوڑنے کا طریقہ دیگر جانوروں کی نسبت تھوڑا سا مختلف تھا۔ ہوتا کچھ ایسے تھا کہ خچر کی آگے والی ٹانگ کو پیچھے والی ٹانگ سے ایک رسے کے ساتھ باندھ دیا جاتا تھا، اگلی دائیں ٹانگ کو پیچھے والی بائیں ٹانگ کے ساتھ یا پھر آگے والی بائیں ٹانگ کو پیچھے والی بائیں ٹانگ کے ساتھ

Read more

فورٹی رولز آف لو (چالیس چراغ عشق کے ) ایک موضوعاتی مطالعہ

فورٹی رولز آف لو اگر ایک عام قاری پڑھتا ہے تو اسے یہ وہم لازمی ہوتا ہے کہ اس نے کوئی کلاسیک ادبی شاہکار پڑھ لیا ہے۔ لیکن اصل میں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ سچ ہے کہ فورٹی رولز آف لو نے ایلف شفق کو عالم گیر شہرت دی ہے۔ لیکن کوئی کتاب مشہور ہو جائے تو یہ اس کے شاہکار ہونے کا پیمانہ نہیں ہے۔ ناول فلسفہ، تصوف، عشق، روحانیت، شاعری اور اس کی اثر پذیری، قدیم

Read more

فیس بک ناولز اور ادب کی بے توقیری

”تعلیم انسان کو پڑھنا سکھا دیتی ہے، لیکن یہ نہیں سکھاتی کہ کیا پڑھنا ہے اور کیا نہیں پڑھنا۔“ اس کا ثبوت دیکھنا ہو تو فیس بک پر شیئر ہونے والے اردو ناولز پر نظر کریں۔ یہ ایسے ناولز ہیں جن کو ناول کہنا ہی لفظ ناول کی توہین ہے۔ یہی ناولز، ان کے سینز، ان کے کردار انسٹاگرام ریلیز اور یوٹیوب پر آڈیو پلس پیج ویو کے ساتھ اپ لوڈ ہو کر تشہیر پا رہے ہیں۔ آپ ان کے

Read more

ٹیلی کام بدمعاشیا طبقہ

یوں تو یہ داستان گریہ و غم خاصی طویل ہے اور اب تک اسے نوک زباں پر نہیں لایا گیا تو وجہ اس کی کچھ بے خبری، کچھ لاپروائی، صبر اور کچھ مجبوری رہی۔ پر اب کے چرکے نے مجھے لب وا کرنے پر بے بس کر دیا۔ اگر آپ کسی پاکستانی نیٹ ورک کے پری پیڈ صارف ہیں اور انٹرنیٹ وائی فائی کے بجائے سم ڈیٹا سے لے رہے ہیں تو یقینی طور پر آپ کے ساتھ یہ واردات

Read more

ڈاکٹر غلام مرتضیٰ عاطر کی کتاب ”استفسار“ کا ریویو

”استفسار“ کو آج ایک بار ھر پڑھا تھا۔ اب تک میں اسے چار بار پڑھ چکی ہوں۔ جب اسے پہلی بار پڑھا تو لگتا تھا ایک نہ ایک دن یہ غم مذکورہ ماضی کا حصہ بنیں گے اور انسان، ہمارے معاشرے کا انسان ان غموں سے آزاد ہو گا۔ اس بار ”استفسار“ کو پڑھا، ملک اور معاشرے کی حالت دیکھی تو لگا کہ یہاں کبھی کچھ نہیں بدلنے والا۔ ایک قدم آگے اٹھاتے ہیں تو چار قدم پیچھے رکھتے ہیں۔

Read more

”خوشبو“ کے حصار میں

میں دس گیارہ سال کی تھی جب میرا ”خوشبو“ سے پہلی مرتبہ تعارف ہوا۔ میری ایک کزن تھی اس کے پاس ایک پاکٹ سائز کتاب تھی جس میں پروین شاکر کا تعارف، منتخب کلام، انٹرویوز اور اس کی وفات کے بعد مختلف ادبی شخصیات کی آراء اور تعزیتی اشعار درج تھے۔ میں نے وہ کتاب کئی بار اپنی کزن کے ہاتھ میں دیکھی تھی اور یونہی جس طرح بچے شوق شوق میں پوچھتے ہیں، میں نے بھی اس سے پوچھا

Read more

ارشد شریف۔ قتل، وجوہات اور انصاف

معروف صحافی ارشد شریف کو دنیا سے گئے دو ماہ ہو چکے ہیں۔ 23 اکتوبر کی رات نیروبی کینیا میں ان کا قتل ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ قتل کینین پولیس نے نشان دہی میں غلطی پر کیا۔ پاکستان میں ارشد شریف کے قتل کے حوالے سے مختلف آراء، قیاس، تبصرے اور تجزیے ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔ ایک عام قیاس اور موقف یہ ہے کہ اپریل میں ہونے والی رجیم چینج کے بعد ارشد شریف نے جس

Read more

دو دن غمخوار فون کے بغیر

وہ 24 نومبر 2020 کی شام تھی جب اچانک ہی میرے ہاتھ میں موجود میرے فون کی روشن اسکرین، جس پر میری انگلیاں مسلسل حرکت کر رہی تھیں، تاریک ہو گئی۔ میرا موبائل آٹو ری سٹارٹ پر سیٹ تھا اس لیے مجھے لگا کہ فون ری سٹارٹ ہونے لگا ہے، جو کہ اکثر ہوتا بھی تھا۔ لیکن اب کی بار یہ نہیں ہوا۔ فون کی اسکرین تاریک ہی رہی۔ میں نے پاور بٹن دبایا، کچھ نہیں ہوا، چارجر کا پلگ

Read more

اردو پاپولر فکشن رائٹرز کی بے مغزی

"تا حدِ نگاہ بجلی کے بلب جیسے ٹیولپس کا فرش بچھا تھا۔ فضا میں تازہ گلابوں کی خوشبو بھی رچی تھی۔” یہ جملے کچھ روز پہلے ایک مشہور مصنفہ کے ناول میں پڑھنے کو ملے تو حیرت و افسوس ایک ساتھ وارد ہوئے۔ مصنفہ خواتین کے مؤقر رسائل میں لکھ رہی ہیں۔ تقریباً دو درجن کتب بھی بازار میں آ چکی ہیں۔ یعنی وہ نو آموز نہیں ہیں اور نہ ان کے قاری کم ہیں۔ مگر تحریر کا حال کیا

Read more

مہسا امینی کا خون اور ایرانی ریاست

یہ تہران شہر ہے۔دن 13 ستمبر ہے۔اسی دن اسی تہران کے کسریٰ ہسپتال میں ایک خوش رو نو عمر لڑکی کو اسٹریچر پر لایا جاتا ہے۔ جب لڑکی کو ہسپتال منتقل کیا گیا تھا تو اس کی کلینیکل موت واقع ہو چکی تھی۔ وہ کوما میں تھی۔ چند دن اسی حالت میں رہنے کے بعد اس کی نبض بھی بند ہو گئی۔یہ لڑکی مہسا امینی تھی۔ اس کا تعلق ایران کے مغربی علاقے سقاز سے تھا اور نسلاً کرد تھی۔

Read more

سٹراگلنگ تھرو فائر ( Straggling Through Fire )

ایک لمبے وقت سے لٹریچر اور کتابیں پڑھتے، چباتے، نگلتے اور ہضم کرتے ہوئے میں انتظار کر رہی تھی کسی ایسی کتاب کا جسے میں پڑھنا شروع کروں تو درمیان میں کئی بار مجھے رکنا پڑے، اس کی اثر انگیزی کو قبول کرنے کے لیے اسے بند کر کے ایک طرف کرنا پڑے۔ اور آنکھیں میچے، ایک طویل آہ کی صورت سانس خارج کر کے دوبارہ کھولنا پڑے۔ بالآخر میرا انتظار تمام ہوا۔ اور مجھے وہ کتاب مل گئی۔ وہ

Read more

میرا ملک، میری نظر میں

تعارف: میرے ملک کا نام پاکستان ہے۔ پاکستان کا مطلب ہے پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ۔ ایسے لوگ جن کی پاکیزگی کے درجے تک کوئی نہ پہنچ سکے۔ پہنچنا تو در کنار کوئی ان سے یہ سوال بھی نہ کر سکے کہ تم نے پاک اور مطہر ہونے کا سرٹیفیکٹ کہاں سے لیا؟ اور کوئی دوسرا تمہارے برابر کیوں نہیں ہو سکتا؟ پاکستان میں ناپاک لوگ نہیں رہ سکتے۔ تاریخی پس منظر: پاکستان کی کوئی تاریخ نہیں ہے۔ پاکستان

Read more