بسمہ۔ کراچی کی ایک باہمت بیٹی کی کہانی
بسمہ۔ کراچی کی ایک ایسی باہمت بیٹی جس کو وقت نے اپنے شوہر اور بچوں سے دور کیا۔ لیکن اس کے حوصلہ نے ہار نہ مانی۔ وہ وقت کی سختی کا سامنا کرتی رہی اور بالآخر مکمل نہیں لیکن زندگی کی تھوڑی سی چھاون حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
آخر بسمہ ہی کیوں؟ پتہ نہیں کتنی بسمہ جیسی ہماری کراچی کی بیٹیاں اس وقت بھی استحصال کا شکار ہوں گی؟
بسمہ کی کیا کہانی ہے؟ پانچ دسمبر کا دن تھا۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے مزار کے سامنے باغ جناح میں جماعت اسلامی کے زیرانتظام ”بنوقابل“ پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔
کراچی کے نوجوان بچوں اور بچیوں نے ایک کثیر تعداد میں اس پروگرام میں حصہ لیا۔
جماعت اسلامی نے کراچی میں ہزاروں طالبات کو بہتر تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے کے لئے اپنی فلاحی تنظیم الخدمت کی جانب سے باغ جناح میں ”بنوقابل“ پروگرام کا انعقاد کیا۔ ”بنو قابل“ پروگرام کا مقصد انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں ہنر پر مبنی تربیت، وظائف اور جدید پروگرامز پیش کر کے ٹیلنٹ کے پول کو بڑھانا تھا۔
اس امتحان کے لیے، شرکاء نے دیگر تکنیکی مہارتوں کے ساتھ ساتھ ویب ڈویلپمنٹ اور ویب ڈیزائننگ کے کورسز میں شرکت کی۔ اس ٹیسٹ کے بعد منتخب ہونے والے طلباء اس پروگرام کے ذریعے مفت کورسز حاصل کر سکیں گے۔
ان کامیاب طالبات میں ایک بسمہ بھی تھی۔ معصوم سی لیکن چہرے پر دکھ اور غم کے گہرے سائے۔ بہت سے سوالات کو جنم دے رہے تھے۔ ایسا کچھ تھا۔ اس کے چہرے میں کہ میں اس سے بات کیے بنا نہ رہ پائی۔ اور اس سے بات کرنے کے بعد اس کی کہانی لکھے بغیر نہ رہ سکی۔
بسمہ کی کہانی شاید کوئی انوکھی نہیں لیکن درد بھری ضرور ہے۔ اور شاید یہ کہانی کراچی کی اور بہت سی بیٹیوں کی بھی ہے۔ کراچی سے تعلق رکھنے والی بسمہ کسی اور کے نہیں بلکہ اپنی ہی قوم کے لوگوں کے ہاتھوں مشکلات سے دوچار ہوئی۔
کراچی کے علاقے نارتھ کراچی کی رہائشی بسمہ خان بتاتی ہیں کہ اس کے شوہر کا تعلق کراچی کی ماضی میں ایک طاقتور جماعت سے تھا۔ جماعت ٹوٹی اور دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ دھڑوں میں تقسیم ایک دھڑ نے میرے شوہر سے کہا کہ آپ ہماری جماعت میں شامل ہو جائیں۔
اس دھڑ کا میرے شوہر پر کافی دباؤ تھا کہ آپ ہمارے ساتھ شامل ہوجائیں۔ لیکن میرے شوہر نے ایسا نہیں کیا۔ پھر کیا تھا اس جماعت کے لیڈروں نے میرے شوہر کو رینجرز سے اٹھوا دیا۔
رینجرز نے میرے شوہر کو رات کے اندھیرے میں اٹھایا اور وہ اندھیرا ایسا تھا جو تین سال بعد ختم ہوا۔ وہ رات بہت بھاری تھی۔ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ اللہ اللہ کر کے صبح ہوئی۔ میں کورٹ گئی اور اپنے شوہر کی گمشدگی کے خلاف پٹیشن دائر کی۔
پھر کیا تھا۔ تاریخ پر تاریخ پڑتی رہی اور ایک دن مجھے پتہ لگا کہ ”اپنوں“ نے میرے شوہر اور مجھے نارتھ کراچی میں پی ایس پی کے دفتر پر حملہ میں سہولت کاری کے الزام میں ایف آئی آر اور چالان میں نام ڈال دیا۔
جولائی کا مہینہ تھا اور اس دن میری سالگرہ تھی۔ اس دن اخبار میں ایک خبر آئی کے بسمہ خان ایک اشتہاری مجرم ہے۔ وہ خبر میرے لیے حیران کن تھی۔ خبر نے مجھے اور میرے گھر والوں کو پریشان کر دیا۔
پولیس نے مجھے میرے گھر سے اٹھایا اور میرے شوہر اس وقت مسنگ پرسن میں تھے۔ ان کا کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا۔ سمجھ نہیں آ رہا تھا کروں تو کیا کروں؟
میرے پاس وسائل نہیں تھے۔ 22 مہینے جیل کاٹی۔ وہ قید کے 22 مہینے بھیانک خواب کی طرح آج بھی پیچھا نہیں چھوڑتے۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم نے میری ضمانت کروائی۔ میری امی نے اپنا گھر بیچ کر 5 لاکھ روپے دیے۔ میری رہائی کے بعد میرے شوہر کو کورٹ میں پیش کیا گیا۔ ابھی وہ جیل میں ہیں اور میں تین بچوں کے ساتھ ان کی رہائی کی منتظر ہوں۔”
بنو قابل کی ٹیم نے مجھ سے کہا کمپیوٹر کی تعلیم حاصل کرو۔ کورسز کرو۔ اپنے بچوں کی اچھی تربیت کرو۔“ بنوقابل ”کی ٹیم نے مجھے حوصلہ دیا۔ اعتماد دیا۔
میرے بچے ابھی چھوٹے ہیں۔ ان کے لئے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔ اپنے پیروں پر کھڑا ہونا چاہتی ہوں۔ میری والدہ کا سایہ بھی اب میرے سر پر نہیں رہا۔ لیکن اللہ کا ساتھ ہمیشہ میرے ساتھ ہے اور اس کا مجھے یقین ہے۔
یہ کہنا تھا اور بسمہ اپنے آپ پر قابو نہ کر پائی اور دل کے دکھ آنکھوں کے راستے آنسوؤں کی صورت میں ٹپکنے لگے۔ بچے اسکول نہیں جاتے۔ ان نے اور اپنے کھانے کا ۔ شوہر کے جیل کا خرچہ بہت مشکل سے پورا کر پاتی ہوں۔
”بنوقابل“ میں آنے والے تمام شرکاء کی الگ الگ کہانی ہو گی۔ لیکن بسمہ کی کہانی ایسی ہے جس کو سن کر اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں اچھائی اور برائی کی موجودگی ہے اور بالکل ہے۔ لیکن آخر میں جیت ہمیشہ اچھائی اور سچ کی ہوتی ہے۔


