شکوہ خدا سے کرتے ہو

قلم اور انسان کی ترقی ابتدائے عالم سے ساتھ ساتھ چلتی آ رہی ہے۔ اس کا بنیادی مرکز انسان کو علم و تعلیم اور ہنر کے ساتھ ساتھ حقیقت اور اصلیت سے واقف کروانا ہوتا ہے۔ جو وہ اپنی سرگرمیوں کے ذریعے وضاحت کرتا ہے قلم کے ذریعے علم سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور یہی نسل در نسل تسلسل ہے۔ اس عمل کو انبیاء کی میراث بھی قرار دیا گیا تاکہ خدا اور مقصد حیات کو بھرپور انداز میں سمجھا جا سکے۔
جب انسان نے قلم کو راہ کارواں سمجھ کر علمی جستجو کو بھرپور انداز میں سمجھا تو اس نے قسمت کو بدل کر رکھ دیا۔ اس نے مقدر کو بدل کر تاریخ کے اوراق کو اعلان کرنے پر مجبور کر ڈالا کہ محنت اور کوشش واحد وہ چیزیں ہیں جو رب کائنات اور اس کے رحم کا مستحق بنا دیتی ہیں۔ مقدر بدلنے پر مجبور ہوا تو فرشتوں سے افضل اور آسماں کی بلندی کو چھونے کا حق دار بنا دیا۔ یہ سب اس قلم کی اہمیت کو جاننے اور اس کے موقف کو عمدہ طریقے میں سمجھنے کا نتیجہ ہے۔ جس قوم، معاشرہ اور لوگوں نے اس بات کا اندازہ کر لیا اور اس کو نہایت عمدہ سلیقہ مندی کا جوہر سمجھا، اس کو فیض یابی، مقدر کا سکندر اور بلند پروازی کا صلہ ملا۔
دوسری جانب وہ لوگ جو ہاتھ پر ہاتھ رکھے قسمت کی لکیروں پر شکوہ کرتے ملتے ہیں۔ ان لوگوں کا بنیادی وہی حال ہے، نہ کرنا ہے اور نہ کسی کو کرنے دینا ہے، نہ کھانا ہے اور نہ کسی کو کھانے دینا ہے۔ یہاں تک کہ کسی کو کھاتے اور محنت و ترقی کرتے برداشت بھی نہیں کرتے۔ ان کی زبانوں پر مسلسل شکوہ اور شکایت ہی سننے کو ملتی ہیں۔ وجہ اس کی صرف یہی ہے کہ وہ ابھی تک علم و ہنر، محنت و جدوجہد اور قلم کی طاقت سے ناواقف ہیں۔ براہ راست وہ الزام تراشی مقدر پر کرتے ملتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ زیادہ تر ہمارے اردگرد علاقے میں پائے جاتے ہیں۔
اکثر گلی، محلے، اسکول، کالج، دفتر، بازار بلکہ ہر جگہ ان لوگوں کی بھرمار بھرپور افکار لیے جگہ جگہ ڈیرے لگائے ملتے ہیں۔ جو صرف اسی بات کو نسل انسانی کی بقا سمجھتے ہیں۔ یہی آنے والی نسلوں کو بتاتے ہیں اور یہ نسل بھی بغیر تحقیق و تنقید کے آمین کرتی ہے۔ اس قسم کے لوگوں کا زیادہ تر رابطہ خدا اور قلم کی طاقت سے نہیں ہوتا بلکہ مسلسل ہڈ حرامی، نا اہلی، سستی اور کاہلی کا چھاج اٹھائے، دوسروں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ماہر جاہلیت کا لبادہ اٹھائے گلی و بازاروں میں گھومتے اور صدا لگاتے ہیں۔ بعد میں مقدر پر شکوے شکایت لگاتے ہیں۔
دوسروں کو اپنی بیوقوفی نا اہلی اور نکمے پن کے جال میں پھنسا کر ان کے ذہنی رویہ کو بد مزاج اور انا کا شکار کرتے، پھر یہی لوگ نظارے اقتدار اعلیٰ میں بے غیرتی کا لبادہ اوڑھ کر بے راہ روی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ جب برے کام کا برا نتیجہ نکلتا ہے تو پھر مقدر پر دعویٰ کرتے ہیں۔ لہذا ان لوگوں کا میری نظر میں یہی معیار کہ:
”امیدیں آدمیوں سے لگا کر شکوے خدا سے کرتے ہو کیا کمال کرتے ہو؟“
یہ وہ بنیادی طرز زندگی اپنا چکے ہیں جو اس قومیت کے معماروں اور لیڈروں تک اپنا اثر رسوخ دکھاتا نظر آتا ہے۔ اس نظریے کا بنیادی مقصد نہ کرنا اور نہ کسی کو کرنے دینا ہے اور نہ کھانا ہے اور نہ کسی کو کھانے دینا ہے۔ بات صرف یہاں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ملک اور قوم کے منصفوں تک جا پہنچی ہے۔ جو اس بات کی علامت بن چکے ہیں کہ انصاف بولیوں سے فروخت ہوتا ہے۔ بات اکتوبر 2022 کی کروں تو پاکستان میں سموگ نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے پاکستان کے دل پر گندگی اور آلودگی نے تہہ در تہہ قبضہ کیا ہوا تھا۔ جس کی وجہ سے پورے جسم میں گندا خون دوڑنے پر مجبور تھا۔ ہر طرف لوگ، بچے، بوڑھے سبھی بیماریوں کا شکار تھے۔ ہسپتالوں میں مریضوں ہجوم تھا۔ دنیا کا آلودہ اور گندا ترین پہلی نشست پر براجمان ہونے کا اعزاز حاصل ہو گیا۔
اکتوبر گزرا یہاں تک کہ نومبر بھی اختتام ہو کر دسمبر کو خوش آمدید کہتا بنا مگر اس قوم کے معماروں، ٹھیکے داروں اور انصاف کے علمبرداروں کو فرق نہ پڑا۔ دسمبر بھی اپنی روانی میں رواں دواں تھا آخرکار انصاف کے ترازو میں سے بدنما بدبو آئی اور چاروں طرف پھیل جانے کا نام لیا۔ ایک تو پہلے ہی اس بدبو اور گردوغبار نے عقل و دل پہ پردہ ڈال رکھا تھا۔ اندھا، اندھے کو راہ دکھائے گا تو دونوں گھڑے میں گریں گے۔ تو صرف ایک ہی بات کا اعلان سوچا کہ تعلیمی ادارے بند کیے جائیں اور فوراً عمل درآمد کروایا جائے۔ اب مقدر پر الزام دینے والوں کا ایک ہی عمل سامنے آیا۔ جو ان کی جاہلیت، سستی پن، پڑھے لکھے، ہونے کی نشانی قرار دیتا ہے۔
عام طور پر ترازو کو انصاف کی علامت قرار دیا جاتا ہے مگر میرے نزدیک کسی شے کو فروخت کرنے کی علامت بھی یہی ہے۔ ایک تو پہلے یہ قوم تعلیم حاصل کرنا نہیں چاہتی کیوں کہ ان کو ذہنی طور پر پہلے ہی مقدر کا سکندر بنا کر بٹھا دیا گیا ہے۔ دوسری جانب تعلیم کو تجارت کی نظر کر کے بیڑا غرق کر دیا گیا۔ تیسرا بدعنوانی کو ثواب کی نیت قرار دے کر ملک و قوم کا ستیاناس کر دیا۔ اور آخر پر جو تھوڑی بہت رمق باقی تھی وہ ان عدالتوں نے نکال دی۔
جو قوم امید آدمیوں سے لگا کر، رشوت خوری، پروٹوکول، ہڈ حرامی، بے ضمیری اور نہ جانے کیا کیا اپنا کر الزام قسمت پر لگاتی ہے۔ ان حالات میں مجھے سدوم اور عمورہ کی تباہی، طوفان نوح اور بنی اسرائیل پر مختلف قسم کی بیماریوں کا آنا یاد آتا ہے۔ جو کہ ماضی کے ٹھیکے داروں اور ہنرمندوں کی ہنرمندی کا عکس آج بھی بالکل درست ثابت کرتی ہے۔ گدھ کا رنگ بھی تو کالا ہی ہوتا ہے ہمیشہ اس نے مردار کو ترجیح دے کر اپنی فطرت اور حرام کھانے کی عادت کو واضح کیا۔ بانو قدسیہ نے نہایت ہی عمدہ انداز میں ایسے گدھوں کی شناخت کی ہے۔ جو اپنی آوازوں اور بے ترتیب للکاروں سے اپنے ارد گرد ماحول کو زیر حراست کرنے کی آرزو کرتے ہیں۔ اپنی بدبودار حرکتوں سے ہر طرف حرام کھانے کی آواز بلند کرتے ہیں۔ بانو قدسیہ ناول راجہ گدھ میں لکھتی ہیں :
” کرگس جاتی لوگوں کی کوئی قسم نہیں ہوتی۔“
آج کے حالات و واقعات کی روشنی میں اسی ذہنیت کے مالک اسی رنگ و شکل میں اکثر اوقات اردگرد بھرمار کی صورت میں ملتے ہیں۔ جو حرام، دھوکہ، مردار اور فریب کو اپناتے ہیں اور پھر ہڈیوں تک شفاف کر دیتے ہیں اور آخر میں قسمت پر الزام تراشی کرتے ہیں۔ اب اسی بات کو بطور ثبوت لیتے ہوئے اسی ترازو کے ٹھیکیداروں کی قلم کے ذریعے دیکھتے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے (Judgement) AIR۔ 1925۔ LHR 549 میں کہا گیا کہ:
” دنیا کے ہر کونے میں مرنے والا شخص کبھی نہیں جھوٹ بولتا مگر پاکستان واحد وہ علاقہ ہے جہاں مرتا ہوا شخص جھوٹا بیان دے کر بے گناہ کو بھی مقدمہ میں ملوث کر کے جاتا ہے۔“
مطلب واضح ہے کسی بھی زاویے سے اس قوم اور اس کے پس منظر پر غور کریں تو ہم وہی پرانے کرتوت اور جاہلیت کی انتہا ملتی ہے۔

