آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟ عالمی کتب میلے کی روداد


کسی سنجیدہ اور بہترین انسان نے، کسی بہترین اور سنجیدہ مضمون میں لکھا تھا کہ نئی صدی کی ابتداء میں کسی ادب کے سنجیدہ عاشق کو اپنے ساتھ ادب کی چند چنیدہ کتب لے کر جانا چاہیے۔

حال ہی میں ایک کتب میلہ ہوا اور اس پر ایک سنجیدہ اور سنجیدہ سے ذرا زیادہ رنجیدہ لکھاری نے لکھا کہ اسے عالمی کتب میلا نہیں بلکہ مذہبی کتب میلا ہونا چاہیے۔

کتب میلے میں کیونکہ مذہبی کتب زیادہ تھیں لہذا کچھ کتب فروشوں نے سوچا کہ چلتی پھرتی کتابوں کو بھی مدعو کر لیا جائے تاکہ بکنے والی کتابیں بک جائیں، اور خریدنے لائق کتابیں خرید لی جائیں، اور جو لوگ ان دونوں فہرستوں میں نہ ہوں وہ کم از کم خودی (بمعنی سیلفی) کی فہرست میں تو ضرور شامل ہوجائیں۔ سو جو اچھے کتب فرش تھے انہوں نے بڑی کتب کو اپنے ٹھیلے پر مدعو کر لیا جو کسی تنظیم یا انجمن سے وابستہ تھے انہوں نے اس کا فائدہ اٹھایا۔

یوں ہم بھی اپنے شریک کتب بینی جن کا ہر کتب میلے میں یہی کہنا ہوتا ہے کہ ”جناب آپ کے دم سے ہماری کتابیں ہیں“ کے ساتھ اس ”بظاہر ادبی کتب میلے“ میں پہنچے، کئی اچھے لوگوں سے ملاقات رہی اور اس بار کا کتب میلہ ہم نے داؤد رہبر کے نام کیا۔ کیونکہ سنا یہی ہے کہ جس نے انہیں نہیں پڑھا سمجھیے اس نے تقریباً کچھ نہیں پڑھا۔ سو اپنا نصب العین بنا کر ہم چلے تلاش رزق علم میں۔

سب سے پہلے ہال نمبر ایک میں پہنچے تو دوسرے سنجیدہ شخص کی بات پر ”آمنا و صدقنا“ کہنے میں عار نہ رہا۔ یہاں ہمیں چند کتب خریدی جانے والی نظر آئیں ورنہ زیادہ بکنے والی، مطلب یہاں قاسم علی شاہ کے شیدائی ہلا بولے ہوئے تھے۔

پھر حال نمبر دو پہنچے تو وہاں ایک ایسے شخص نے ہمیں پہچانا جسے آج تک شاید کوئی نہ پہچان سکا ہو گا۔ ارے ہم علی اکبر ناطق صاحب کی بات کر رہے ہیں۔ ناطق صاحب کو اپنا نام بتانا تھا، بس پھر کیا۔ انہیں ہم، ہمارا کتب منگوانا، پھر شکایت کرنا اور غزل کہنا سب یاد آ گیا۔ بہت دیر گفتگو رہی، شریک کتب بینی بھی چھپے رستم نہ تھے بلکہ موصوف کو ہم سے زیادہ لوگوں سے واقفیت تھی اور یوں تھا کہ ہم اپنے شریک کتب بینی کے زیر سایہ ان شخصیات سے مل رہے تھے۔

سو اس ملاقات کے بعد ہم نے ان سے کہا ”جناب آپ کے دم سے ہماری کتابیں ہیں“ تو وہ کہنے لگے ”ارے باجی کیسی باتیں کر رہی ہیں“ ہم نے دل میں سوچا ”لو بھئی اس قدر معقول انسان پر بھی ہماری نالائق صحبت کا اثر ہو گیا جو اسے اتنی سادہ بات نہ سمجھ آئی“ ۔ خیر، یہ بک کارنر جہلم تھا اور سمجھیے کہ یہ خریدی جانے والی کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔ یہاں زندہ کتب کی صورت علی اکبر ناطق، کاشف رضا، سلیم مغل، زہرہ صابری، رفاقت حیات اور انعام ندیم صاحب ملے۔ چھپی ہوئی کتب کی تصویریں تو یہاں چسپاں ہو ہی رہی ہیں۔

تو یہ سب رامائن سنانے کا مقصد یہ ہے کہ جو پہلے سنجیدہ اور بہترین آدمی نے کہا تھا کہ نئی صدی میں کوئی کتاب لے جانا چاہیے تو ہم نے، اور ہمارے بھیا یعنی شریک کتب بینی نے ہر زندہ کتاب سے پوچھا کہ آج کل آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟

جناب سلیم مغل ایک سفر نامہ لکھ رہے ہیں جو امریکہ کے بارے میں ہے۔ ان کی گفتگو سے لگا کہ یہ ایک بہترین سفر نامہ ہو گا جس میں انشاء کے سفر نامے کا رنگ ہو گا، یعنی معلومات کا خزانہ اور پر لطف انداز۔ اور کیا معلوم سلیم مغل اس میں اپنے انوکھے انداز کی چھب بھی دکھائیں۔ اس سفر نامے کا نام ہے *ایک لڑکا سا میں نکل آیا*، مزے کی بات یہ ہے کہ فی الوقت وہ اس سفرنامے کو تحریر کرنے کے لیے امریکہ کے مقامات اور ان کی ہسٹری پڑھ رہے ہیں تاکہ وہاں کی تاریخ اور روایت بھی بیان کر سکیں۔ باقی تو سب سفر نامہ پڑھ کر ہی معلوم ہو گا۔ یہ انشاء اللہ اگلے سال تک منظر عام پر آ جائے گا۔

زہرہ صابری آج کل اپنے طلبہ کے لیے ہوئے تراجم اور جنٹلمینز پرامس پڑھ رہی ہیں، تراجم مختلف زبانوں کے ہیں اور جنٹلمینز پرامس اصل میں ”فلسطین پر غاصب یہودیوں“ کی تاریخ پر ہے۔ یہاں فلسطین پر غاصب کا صیغہ یوں استعمال کیا کیونکہ کتاب کا نام جنٹلمین ہے۔

کاشف رضا ہسٹری آف سویلائیزیشن (History of Civilization) پڑھ رہے ہیں گیارہ جلدوں پر ہے، پی ڈی ایف میں۔ ہمارے بھیا نے ان کا نمبر لیا ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ وہ یہ لنک ان سے منگوا کر یہ کتاب لازمی پڑھیں گے۔

اس کے بعد ملاقات ہوئی رفاقت حیات صاحب سے وہ اپنے ناول پر کام کر رہے ہیں اور اسی حوالے سے چند کتب کا مطالعہ بھی ساتھ ہے جن کے نام میری بے عقلی کہ یاد نہ رکھ سکی۔

پھر آخری ملاقات ہوئی انعام ندیم صاحب سے، ان کا رجحان کلاسکز پر ہے یعنی وہ کلاسک پڑھ رہے ہیں جیسے طلسم ہوشربا، کلیلہ و دمنہ ( ہندی کہانیاں ) وغیرہ۔

ہال نمبر تین میں عکس پبلیکیشن کا ٹھیہ ہی توجہ سمیٹ پایا کیونکہ یہاں بھی رش ان جگہوں پر تھا جہاں کچھ بھی کرنے کے سو طریقوں والی کتب رکھی تھیں۔ یہاں جب ہم پہنچے تو کوئی زندہ کتاب نظر نہ آئی۔

ہمیں یہ اندازہ ہے کہ ہمارے شریک کتب بینی، ہمارے عزیز بھائی، بہت بڑے کتابی کیڑے ہیں اور بہت نیک نام اور اعلی مقام کے حامل ہیں، آپ اس کا اندازہ اسی بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہم انہی سے پوچھ کر کتابیں خریدتے اور پڑھتے ہیں۔ سو ہم نے کتب میلے سے باہر کی راہ لیتے ہوئے ان سے بھی پوچھ لیا کہ ”آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟“ ، کہا ”ارے باجی ہم تو فی الوقت تھیسس سے متعلق کتابیں ہی پڑھ سکتے ہیں“ پھر انہوں نے ہم سے استفسار کیا کہ ”باجی آپ کیا پڑھ رہی ہیں؟“ ہم نے کہا ”ہم بھی فی الوقت کالج کے طلبہ کے وسط مدتی امتحانات کی جوابی کارروائی ہی پڑھ سکتے ہیں“

سو اب یہی سوال آپ سے ہے۔
اب آپ بتائیے۔ آپ کیا پڑھ رہے ہیں؟
کیونکہ یہ تو حدیث بھی ہے ناں کہ (مفہوم) ”طالب علم بنو یا عالم، ورنہ ہلاکت مقدر ہو جائے گی“

Facebook Comments HS