بدامنی کے بڑھتے ہوئے واقعات کا چیلنج


خیبرپختونخوا کے طول و عرض میں پولیس پر حملے روزمرہ کا معمول بن چکے ہیں شاید ہی کوئی دن ایسا گزرتا ہو گا جب صوبے کے کسی نہ کسی حصے سے پولیس فورس پر حملے کی اطلاعات سامنے نہ آتی ہوں۔ اس حوالے سے اب تک زیادہ واقعات شمالی وزیر ستان اور اس سے ملحقہ صوبے کے جنوبی اضلاع لکی مروت اور بنوں میں رپورٹ ہو چکے ہیں جن میں پولیس کی گشتی پارٹیوں کے علاوہ پولیس چوکیوں پر بھی حملوں کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ حیران کن امر یہ ہے کہ پولیس فورس پر ہونے والے ان زیادہ تر حملوں کہ ذمہ داری کسی بھی جانب سے قبول نہیں کی گئی اور نہ ہی اب تک ان حملوں کے ماسٹر مائنڈز اور ان حملوں میں ملوث افراد کی کوئی گرفتاری عمل میں آئی ہے اور نہ ہی اس حوالے سے تا دم تحریر کسی بڑے گروہ یا نیٹ ورک کی نشاندہی ہوئی ہے۔

صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ساتھ عام لوگوں خاص کر تجارت پیشہ افراد کو بھی بڑے پیمانے پر اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جس کی تازہ مثال گزشتہ دنوں شمالی وزیرستان کی تحصیل میر علی میں بنوں سے تعلق رکھنے والے سونے کے تین تاجروں کی بہیمانہ ہلاکت ہے جس پر بنوں قومی جرگے کے پلیٹ فارم سے شدید احتجاج بھی کیا گیا ہے۔ بنوں قومی جرگے نے ان تینوں تاجروں کی ہلاکت کے خلاف بنوں شہر میں مسلسل آٹھ روز تک شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج کے ذریعے اس واقعہ میں جاں بحق ہونے والے افراد کی مالی امداد اور اس واقعے میں ملوث کرداروں کو بے نقاب کر کے قرار واقعی سزا کے مطالبات پیش کیے ہیں۔

گو بنوں قومی جرگے کا یہ پر امن احتجاج صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ ملک محمد شاہ خان اور مقامی سول انتظامیہ کی کاوشوں پر ختم کر دیا گیا ہے لیکن جرگے کے مشران نے دھمکی دی ہے کہ اگر مذاکرات میں طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد نہ ہوا یا اس سلسلے میں لیت و لعل سے کام لیا گیا تو یہ احتجاج کسی بھی وقت دوبارہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ شروع کیا جاسکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس معاہدے میں نہ صرف جان بحق تینوں افراد کے خاندانوں کو 25 لاکھ روپے فی خاندان مالی امداد دینے کا وعدہ کیا گیا ہے بلکہ ان خاندانوں سے ایک ایک فرد کو سرکاری ملازمت دینے اور احتجاج کے دوران حرکت قلب بند ہونے سے جاں بحق ہونے والے فرد کے خاندان کو بھی پانچ لاکھ روپے امداد دینے پر اتفاق کیا گیا ہے جبکہ اس معاہدے کے تحت قاتلوں کی جلد از جلد گرفتاری کی یقین دہانی بھی کرائی گئی ہے۔

یہاں صوبے میں بد امنی کے جاری واقعات کے حوالے سے عوامی بیداری اور عوام میں اس حوالے سے پائے جانے والے اشتعال اور رد عمل کا اظہار چند ہفتے قبل سوات میں طالبان کے ازسر نو منظم ہونے اور ان کے ظہور پذیر ہونے کی اطلاعات کے خلاف اہل سوات نے پر امن اور منظم انداز میں جو بھر پور احتجاج کیا اور جس طرح بنوں میں یہی جوش و جذبہ دیکھنے کو ملا اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ صوبے میں اس مرتبہ طالبان کے ظہور پذیر ہونے اور ان کی جانب سے منظم ہونے کی اطلاعات اور کوششوں کو عوامی سطح پر نہ تو کسی قسم کی پذیرائی ملنے کا امکان ہے اور نہ ہی اس حوالے سے عوام کسی قسم کا دباؤ قبول کرنے کے لئے تیار نظر آتے ہیں۔ اس ضمن میں سوات اور بنوں میں کیے جانے والے احتجاج عوامی رد عمل کا واضح اظہار اور ثبوت ہیں۔ ان دونوں جگہوں پر ہونے والے احتجاج کی ایک اور خاص بات اس میں تمام جماعتوں کی بلا امتیاز شرکت اور سول سوسائٹی کا قائدانہ کردار ہے۔

صوبے میں بدامنی میں ہونے والے اضافے کا ایک اور خطرناک پہلو مختلف دہشت گرد گروہوں کی جانب سے مخیر لوگوں بالخصوص تجارت پیشہ افراد کو بھتہ کی وصولی کے لئے مختلف گمنام نمبروں سے کالوں کا کیا جا نا ہے جن میں سے بعض کالوں کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ یہ کالیں سرحد پار سے کی گئیں ہیں جبکہ اس حوالے سے بعض مخیر لوگوں کے گھروں پر دستی بموں کے حملوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں جس میں ایک تازہ واقعہ سابق صوبائی وزیر اور مسلم لیگ کے راہنما حاجی جاوید کے پشاور گلبہار میں واقع مکان پر دستی بم پھینکنے کی صورت میں سامنے آیا ہے۔ اس تمام صورتحال کا تقاضا ہے کہ متعلقہ حکومتی اداروں کو نہ صرف دہشت گردی کی ان بڑھتی ہوئی کارروائیوں کا فوری اور سختی سے نوٹس لینا چاہیے بلکہ ان واقعات کے موثر تدارک کے لیے نیکٹا جیسے اداروں کو بھی از سرنو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔

Facebook Comments HS