بینکنگ سیکٹر کے کچھ کرپٹ عناصر کا اربوں روپے کا دھندا


طالب علموں کی جعلی بنک دستاویزات کے حصول میں مددگار
بیرون ملک پہنچ کر بھی طالب علموں کی مشکلات کم نہیں ہو پاتیں، خصوصی رپورٹ
علی ظیف

برطانیہ، یورپی یونین اور بالخصوص آسٹریلیا میں تعلیم کے حصول کے ہم وطن خواہش مندوں کی تعداد کچھ کم نہیں۔ اس سلسلے میں آسٹریلیا جانے والے پوری منصوبہ بندی سے ساتویں براعظم کا رخ کرتے ہیں، وہ معاشی طور پر بھی مستحکم حیثیت کے حامل ہوتے ہیں مگر یورپ جانے والوں کے لیے حالات بہت زیادہ سازگار نہیں۔ بہت سے تارکین وطن اب بھی غیرقانونی طریقے اختیار کر رہے ہیں اور بہت سے قانون میں رہتے ہوئے ”غیرقانونی“ طریقے اختیار کرتے ہیں جن میں ملک کے سرکاری اور نجی بینکوں کے اہلکاروں اور بیرون ملک جانے کے خواہاں طالب علموں کا کردار بنیادی اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ سٹوڈنٹ ویزا کے حصول کے لیے بینک سٹیٹمنٹ کا ہونا ضروری ہے جس کا حصول بیرون ملک جانے کے خواہش مند امیدواروں کی اکثریت کے لیے آسان نہیں۔

سویرا بتول (فرضی نام) 2014 میں طالب علم ویزا پر برطانیہ گئیں۔ ان کا ٹیلی فون پر برطانیہ میں مقیم ایک پاکستانی شہری علی جٹ سے نکاح ہوا تھی جن کی قانونی حیثیت (اس وقت ) پرماننٹ ریزیڈنٹ کی تھی جنہیں فی الحال شہریت نہیں ملی تھی اور وہ دو دہائیاں قبل غیرقانونی طور پر برطانیہ پہنچے تھے۔ سویرا بتول نچلے متوسط طبقے مگر اعلیٰ تعلیم یافتہ خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ انہوں نے لندن کے ایک تعلیمی ادارے میں داخلہ لیا مگر جب برطانیہ جانے کا مرحلہ درپیش ہوا تو سویرا بتول کے لیے دستاویزات کی تیاری کسی چیلنج سے کم نہیں تھی اور سب سے اہم چیلنج بینک سٹیٹمنٹ کا بندوبست کرنا تھا جس کے لیے تعلیمی ادارے کی شرط کے مطابق اکاؤنٹ میں 40 لاکھ کا ہونا ضروری تھا۔

سویرا بتول، چوں کہ، ایک ایجنٹ کے ذریعے اپنی ویزا پراسیسنگ کروا رہی تھیں تو اسی کے مشورے پر انہوں نے تین فی صد شرح سود پر وسطی پنجاب کے ضلع ننکانہ صاحب کے ایک سرکاری بینک سے بینک اسٹیٹمنٹ بنوا لی۔ ان کے دیگر کاغذات مکمل ہوئے تو انٹرویو باآسانی پاس کیا اور برطانوی ویزا حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ سویرا بتول کا علی جٹ سے چوں کہ نکاح ہو چکا تھا جس کے باعث انہوں نے چند روز ہی اپنا تعلیمی سلسلہ جاری رکھا اور ایک ماہ بعد ہی کالج چھوڑ دیا جس کے باعث برطانوی قانون کے مطابق ان کی تارک وطن کی حیثیت غیرقانونی ہو گئی۔

ان کے شوہر علی جٹ کو چوں کہ پرماننٹ ریزیڈنٹ کی حیثیت حاصل ہو چکی تھی مگر سویرا بتول کو اس کے باوجود بہت سی قانونی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے علی جٹ کے ساتھ برطانوی قانون کے مطابق نکاح رجسٹرڈ کروایا، اور قانونی کاغذات مکمل کرنے میں چھ ماہ لگے جس کے بعد ان کو برطانیہ رہنے کی اجازت مل سکی۔ وہ اب دو بچوں کی ماں ہیں مگر ان کو برطانیہ کی مکمل شہریت حاصل نہیں ہو سکی۔ یہ درست ہے کہ ان کی بینک اسٹیٹمنٹ قانونی تھی مگراس کے بنوانے کا طریقۂ کار قانونی نہیں تھا اور برطانیہ جاکر تعلیمی ادارہ چھوڑنے کے بعد ان کی حیثیت مکمل طور پر غیرقانونی تارک وطن کی ہو گئی جس کے لیے انہوں نے ایک طویل قانونی جنگ لڑی۔

سویرا بتول نے اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا،

”میں گومگو کی کیفیت کا شکار ہو گئی تھی۔ کبھی یہ محسوس ہوتا کہ مجھے ڈی پورٹ کر دیا جائے گا، میرے وہ دن ہمہ وقت خوف میں گزرے۔ بہرحال، میرے شوہر نے اس حوالے سے میری بھرپور مدد اور حوصلہ افزائی کی اور یوں میں پرماننٹ ریزیڈنٹ کی قانونی حیثیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی جب کہ میں دو بچوں کی ماں ہوں جن کی پیدائش برطانیہ کی ہی ہے۔“

16 سالہ محمد حسن (فرضی نام) کی کہانی بھی کچھ مختلف نہیں۔ انہوں نے چند روز قبل ہی برطانیہ کا اسٹڈی ویزا حاصل کیا ہے اور ان دنوں برطانیہ میں مقیم ہیں۔ انہوں نے ایک ایجنٹ کے ذریعے بینک اسٹیٹمنٹ بنوائی جو بیرون ملک تعلیم کے حصول کے لیے نہایت اہمیت کی حامل ہے۔ محمد حسن کے والد نے پانچ فی صد انٹرسٹ ریٹ (ان دنوں برطانیہ چوں کہ بڑی تعداد میں ویزے جاری کر رہا ہے جس کے باعث انٹرسٹ ریٹ بھی زیادہ وصول کیا جا رہا ہے ) پر چھ ماہ کے لیے 60 لاکھ روپے کی بینک اسٹیٹمنٹ بنوائی۔ محمد حسن کچھ عرصہ کے لیے تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے کے بعد برطانیہ میں سیاسی پناہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں، انہوں نے مگر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ سیاسی پناہ کے حصول کے لیے کیا جواز پیش کریں گے۔

خیال رہے کہ لاہور کے علاقے نیو مسلم ٹاؤن میں ایجوکیشن کنسلٹنسی کے بہت سے ادارے کام کر رہے ہیں۔ شہر کے ایک ممتاز ایجوکیشن کنسلٹنٹ سے جب اس رپورٹر نے رابطہ کیا اور کہا کہ وہ یورپ جانے کا خواہش مند ہے مگر بینک اسٹیٹمنٹ کا مسئلہ درپیش ہے اور کیا وہ بینک اسٹیٹمنٹ بنوا کر دے سکتے ہیں؟ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا، ہم پہلے بینک اسٹیٹمنٹ بنا دیتے تھے مگر اب نہیں بناتے کیوں کہ ہمارے لیے بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

انہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مزید کہا،

” یورپ کے دیگر ملکوں میں بھی صورت حال مختلف نہیں۔ بینک اسٹیٹمنٹ ہونے کے بعد بھی اگر آپ کو مغربی ملک کی شہریت یا پرماننٹ ریزیڈنٹ نہیں مل پاتی اور آپ اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں تو آپ غیرقانونی تارکین وطن کی فہرست میں شمار کیے جائیں گے اور آپ کو ہر ملک میں تارکین وطن کے لیے رائج قوانین کے تحت سزاؤں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس میں ڈی پورٹ کرنا بھی شامل ہے جب کہ ان تارکین وطن کو ، جس کرب سے گزرنا پڑتا ہے، اس کا لفظوں میں بیان ممکن نہیں۔ “

برطانیہ کے ایک معروف پاکستانی نژاد برطانوی قانون دان (سولیسیٹر) احمد صغیر، جو برطانیہ کی ایک معروف لا فرم سے منسلک ہیں، نے واٹس ایپ پر اس رپورٹر سے بات کرتے ہوئے کہا، ”طالب علم برطانیہ یا یورپی یونین کے کسی اور رکن ملک آنے کے بعد دو طرح سے مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ وہ طالب علم جو تعلیمی سلسلہ جاری رکھنا چاہتے ہیں، وہ متعلقہ ملک کی پالیسی کے مطابق، ایک مقررہ وقت کے لیے تعلیم کے ساتھ ملازمت کا سلسلہ بھی جاری رکھ سکتے ہیں۔

برطانیہ میں ایک طالب علم قانونی طور پر 20 گھنٹے تک کام کر سکتا ہے مگر بہت سے طالب علم اپنی صحت کی پروا کیے بغیر اور قوانین کو نظرانداز کرتے ہوئے 50 گھنٹے یا اس سے بھی زیادہ کام کرتے ہیں جو قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے جس کے باعث ان کو برطانوی معاوضوں کے قانون سے کم معاوضہ ملتا ہے اور یوں، وہ بدترین معاشی استحصال کا سامنا کرتے ہیں مگر ان کے پیش نظر کسی بھی طور پر اپنا تعلیمی سلسلہ مکمل کرنا ہوتا ہے جب کہ بہت سے طالب علم ایک سمیسٹر پڑھنے کے بعد تعلیمی سلسلہ منقطع کر دیتے ہیں جس کے بعد ان کی حیثیت غیرقانونی تارک وطن کی ہوجاتی ہے، کچھ نوجوان چند ماہ کے لیے تو کم ترین تنخواہوں پر کام کرلیتے ہیں، تاہم قانون کی گرفت میں آ جائیں تو ان کو ان کی قانونی حیثیت کا تعین کرنے تک جیل میں رکھا جاتا ہے اور بہت سوں کو فوری طور پر ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے اور وہ تارکین وطن جو گرفتار نہ ہوں، ان کو رہائش سے لے کر روزمرہ ضروریات پوری کرنے کے لیے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔“

متذکرہ بالا صورت حال کے تناظر میں پاکستان کے نجی اور سرکاری بینکوں کا کردار اس لیے تشویش ناک ہے کہ وہ ان کا بینک اسٹیٹمنٹ بنانے کا طریقۂ کار کسی طور پر قانونی قرار نہیں دیا جاسکتا اور طالب علموں پر اضافی معاشی بوجھ کا باعث بھی بنتا ہے۔

اس رپورٹر کی گجرات کے ایک نواحی قصبے میں ایک ایجنٹ کے توسط سے ایک نجی بینک کے اہل کار سے ملاقات ہوئی جس نے بینک اسٹیٹمنٹ تیار کرنے کی ہامی بھر لی جس کے لیے ایک مخصوص شرح کے مطابق رقم ماہانہ ادا کرنا تھی۔ اس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا،

”یہ سالانہ کروڑوں نہیں بلکہ اربوں روپے کا کاروبار ہے کیوں کہ ہم اگر پانچ فی صد ماہانہ شرح منافع وصول کریں تو تین فی صد سرمایہ کاری کرنے والے کے ہوتے ہیں، یوں وہ چند ماہ میں اچھا منافع کما لیتا ہے جب کہ بینک اہل کاروں کو بھی بچت ہوجاتی ہے اور بیرون ملک جانے کے خواہش مندوں کی مشکل بھی آسان ہوجاتی ہے۔“

اس ساری صورت حال میں یہ پاکستان میں قائم بیرون ملک کے سفارت خانوں کے علاوہ قانون نافذ کرنے والے متعلقہ اداروں اور بینکنگ سیکٹر کے واچ ڈاگز کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس منفی رجحان کو روکیں کیوں کہ بینک اسٹیٹمنٹ ویزا کے حصول کے لیے ایک اہم ترین دستاویز ہے جس کے باعث اس کے بنائے جانے کا عمل بھی قانونی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔

Facebook Comments HS