بوسنیا کی چشم دید کہانی۔ 23


جیسا کہ پہلے بیان کیا گیا ہمارا اسٹیشن ابھی تک اپنے اصل مقام سٹولک کے بجائے میجی گوریا نامی قصبے میں واقع تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی سٹولک جنگ سے بری طرح متاثر ہوا تھا۔ یہاں مسلمانوں اور سربوں کی عمارتوں کو کچھ اس طرح تباہ کیا گیا تھا کہ وہ اب قابل رہائش نہیں رہی تھیں۔ ایسی عمارتیں جو تباہی کا نشانہ بننے کے باوجود قابل رہائش بنائی جا سکتی تھیں وہ ان کروایٹ مہاجرین کے نام کر دی گئی تھیں جو مسلمان اور سرب اکثریتی علاقوں سے ہجرت کر کے یہاں پناہ گزین ہوئے تھے۔

سٹولک میں بہت کوشش کے باوجود کوئی عمارت ایسی نہ مل سکی تھی جسے یو این اسٹیشن کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ فرینک سرور نے ضلع افسر کا عہدہ سنبھالتے ہی اس مسئلے کا حل نکالنے کے لیے بلدیہ سٹولک سے مذاکرات شروع کر دیے تھے۔ وہ ہر حال میں ہمارا اسٹیشن جلد از جلد سٹولک منتقل کرنا چاہتا تھا۔ وہ ”بلا بچہ“ تھا سٹولک کو پچاس کلو میٹر دور میجی گوریا میں بیٹھ کر مانیٹر کرنا اسے کسی صورت قابل قبول نہ تھا۔ ان مذاکرات کے نتیجے میں مسئلے کا یہ حل نکالا گیا کہ بلدیہ سٹولک ہمیں DM 2200 /۔ ماہانہ کرائے پر تقریباً دو کنال کا قطعہ اراضی فراہم کرے گی جس پر اسٹیشن کے قیام کے لیے کنٹینر استعمال کیے جائیں گے۔ فرینک سرور نے اس پیش کش کو قبول کر لیا۔ یہ معاہدہ ہوتے ہی اسٹیشن کے قیام کے لیے ضروری کام کا آغاز ہو گیا۔

یہ تکونا خطۂ زمین سٹولک کی گنجان آبادی والے حصے سے ذرا باہر واقع تھا۔ اس کے گرد و نواح میں فلیٹوں پر مشتمل چند عمارتیں تھیں جن کے بعد کھیت شروع ہو جاتے تھے۔ پلاٹ کی صفائی کا کام بلدیہ سٹولک نے سر انجام دیا جب کہ ریجنل ہیڈ کوارٹر نے یہاں دفاتر کے قیام کی غرض سے چار کنٹینر فراہم کیے۔ مرکزی دفتر کے طور پر استعمال ہونے والا Container وسعت میں دو کے برابر تھا۔ اس کے ساتھ ایک کنٹینر ترجمانوں کے استعمال کے لیے اور ایک اسٹیشن اور ڈپٹی اسٹیشن کمانڈر کے دفتر کے طور پر رکھا گیا۔

ایک کنٹینر ٹائیلٹ اور باتھ رومز پر مشتمل تھا جو ان تینوں سے ذرا فاصلے پر رکھا گیا تھا۔ بجلی کے متبادل انتظام کے طور پر جنریٹر اور گاڑیوں کے لیے ڈیزل کے ذخیرے کے لیے ایک ٹینک فراہم کیا گیا۔ احاطے کو محفوظ بنانے کے لیے اس کے ارد گرد خاردار تار لگائے گئے۔ ایک طرف ایک گیٹ نصب کیا گیا۔ مرکزی دفتر کے بالکل سامنے ایک پرانا اور گھنا درخت تھا جس کے سائے میں گاڑیاں کھڑی کی جاتی تھیں۔

یکم اکتوبر 1996 کو ہم یہاں منتقل ہو گئے۔ سٹولک میں اسٹیشن منتقل کرنے کے بعد فرینک سرور نے اگلا حکم نامہ یہ جاری کیا کہ ہر مانیٹر ستمبر کے آخر تک اپنی رہائش بھی لازمی طور پر سٹولک منتقل کرے گا۔ کرس اور بولک نے اچھے ماتحت ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے جلد ہی سٹولک کے نواح میں ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک گھر کا اوپر والا حصہ کرائے پر حاصل کر لیا۔ اس گھر کی مالکن برانکا نامی ایک خاتون تھی جو لوینیا کی والدہ کے ہمراہ سٹولک میں ایک انشورنس کمپنی میں کام کرتی تھی۔

اس کا خاوند ٹرک ڈرائیور تھا۔ ان کی کوئی چودہ سال کے لگ بھگ ایک اکلوتی بیٹی تھی۔ برانکا ایک خوش شکل اور ہنس مکھ عورت تھی۔ وہ عام طور پر شرمیلی واقع ہوئی تھی لیکن کبھی کبھار جب کھلتی تھی تو تمام تکلفات بر طرف ہو جاتے تھے۔ ایک شام میں کرس کو ایک سرکاری پیغام پہنچانے اس کے گھر گیا تو وہ، اس کا خاوند، کرس اور بولک ڈرائنگ روم میں بیٹھے گپ شپ لگا رہے تھے۔ مجھے بھی محفل میں جگہ دے دی گئی۔ بولک کو ترجمان بناتے ہوئے برانکا نے مختلف سوالات شروع کر دیے۔ یہاں خواتین کا پسندیدہ موضوع مسلمان مرد کا چار شادیوں کا اختیار ہوا کرتا تھا۔ برانکا یہ جاننا چاہتی تھی کہ یہ بات کہاں تک سچ ہے اور کیا اس کی عملی صورت ممکن بھی ہے؟

ہاں مسلمان مرد کو اس کی اجازت ہے بشرط یہ کہ وہ سب بیویوں سے منصفانہ سلوک روا رکھنے کی پوزیشن میں ہو لیکن عملی طور پر ایسے مردوں کی تعداد بہت کم ہے جن کی ایک سے زائد بیویاں ہوتی ہیں۔ میں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔

ایک سے زائد شادیوں کی صورت میں کیا یہ ممکن ہے بیویوں سے ہر لحاظ سے برابری کے تعلقات رکھے جا سکیں۔ برانکا بولی

بدقسمتی سے مجھے یہ شرف ذاتی طور پر حاصل نہیں ہے لہٰذا میں اس بارے میں کوئی بات وثوق سے نہیں کہہ سکتا۔ میں نے عرض کی

مترجم کا اشتیاق بتا رہا تھا کہ اس موضوع میں اس کی دل چسپی بھی برانکا سے کچھ کم نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی کوشش تھی کہ برانکا اس موضوع پر سوالات کا سلسلہ جاری رکھے، خاص طور پر اس موڑ پر پہنچنے کے بعد کہ جب اگلے سوالات کا زیادہ بے تکلف ہونا یقینی تھا۔ بولک کی کوششوں سے برانکا نے ”برابری کے تعلقات“ کی مزید وضاحت چاہی۔ ان سوالات کے جواب میں اگر میری طرف سے کوئی کوتاہی رہ بھی جاتی تو بولک اپنی کوشش سے جواب کو برانکا کی تشفی کی حد تک معقول بنا لیتا اور یوں ہر جواب پر قہقہے بکھرنے لگتے۔ برانکا اس موقع پر کچھ اتنا کھل کر ہنستی کہ مجھے بار بار انور مسعود کا یہ مصرع یاد آتا

ع۔ نی کاہدہ چامل چڑھیا جے کیوں ہاسے ڈھل ڈھل پیندے جے

بولک اورکرس کے بعد پلامین اور ٹونی نے بھی اسٹیشن کے قریب ہی ایک فلیٹ تلاش کر لیا اور اس میں منتقل ہو گئے۔ اقبال اس سلسلے میں زیادہ عجلت پسندی کے حق میں نہ تھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ بھابھی اماں بوزانا کے ساتھ کچھ ایسی گھل مل گئی تھیں کہ اس گھر کو چھوڑنا مشکل ہو رہا تھا۔ ادھر میرا اندیشہ یہ تھا کہ چونکہ سٹولک میں گھروں کی شدید قلت ہے اور جلد یا بدیر وہاں منتقل تو ہونا ہی ہے لہٰذا ہمیں اس سلسلے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔

مقامی پولیس کا ایک تھانے دار، ٹونی کا بہت گہرا دوست تھا۔ ٹونی نے اس کی وساطت سے ہمارے لیے بھی اسٹیشن کے قریب ہی ایک فلیٹ ڈھونڈھ لیا۔ یہ دو کمروں، ایک ڈرائنگ روم، ایک چھوٹے سے ڈائننگ، ایک باتھ اور ایک کچن پر مشتمل مختصر سا فلیٹ تھا جو ہمیں پسند آیا۔ یہ فلیٹ مقامی پولیس کے سربراہ کی سیکرٹری کے والدین کی تحویل میں تھا جو ان کے بیٹے کے نام پر انھیں مہاجر ہونے کی بنا پر الاٹ ہوا تھا۔ ہم ستمبر کے تیسرے ہفتے میں یہاں منتقل ہوئے۔

پریم اور شیوا بھی ہمارے پڑوس میں عمارت کے تہہ خانے میں واقع ایک بیڈ روم پر مشتمل فلیٹ حاصل کرنے میں کام یاب ہو گئے۔ یہ فلیٹ سٹولک میں کرائے پر حاصل کردہ گھروں میں سب سے گئے گزرے معیار کی رہائش گاہ تھی۔ ہمیں اس بات پر سخت حیرت تھی کہ شیوا جیسے آدمی نے جو کہ روزانہ بلا مبالغہ 50 مارک تو پینے پلانے پر لٹا دیتا تھا اس نے آخر اس رہائش کو کیسے قبول کر لیا۔ یہ معمہ بھی جلد ہی حل ہو گیا۔ یہ عام سا فلیٹ اس خاتون کی ملکیت تھا جو بلاشبہ سٹولک کی سب سے خوب صورت خاتون تھی اور قصبے کے مرکز میں واقع ایک پھولوں کی دکان کی مالک تھی۔

یہ وہی خوش شکل خاتون تھی کہ ازونووچی میں ڈیوٹی کے دوران جس کی دکان کا ”پھیرا“ کسی نہ کسی بہانے ہر مانیٹر ضرور لگاتا تھا۔ وہ دیسی مانیٹروں کے ہاں ”پھولوں والی“ کے نام سے مشہور تھی۔ اس سراپا رنگ و بو کا اصل نام جاننے کی کسی نے کبھی ضرورت محسوس نہ کی تھی۔ شیوا تو ملنگ آدمی تھا، عاشقی سے اسے بھلا کیا واسطہ البتہ پریم بظاہر معصوم سا شخص ہونے کے اسم بامسمی ٰتھا اور پھولوں والی کا کرایہ دار بننا اسی کا انتخاب تھا۔ اب نہ معلوم یہ حسن بیگانہ ٔاحساس جمال تھا یا حالات کی ستم گری کا شکار کہ خاتون اپنی اتوار کی ہفتہ وار چھٹی کے دن ازخود شیوا اور پریم کے کپڑے ان کی رہائش گاہ پر آ کر دھوتی تھی۔ اس کے بدلے 50 مارک ماہانہ اضافی آمدنی حاصل کرتی تھی۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ ایسی خاتون کا نصیب ایسی زندگی کیوں کر ہے۔

یوں ذہن میں اٹھتے بہت سے چبھتے سوالوں کا جواب پنجابی کے ایک شعر کی صورت ہی بن پاتا تھا۔
۔ ایہہ ساری کھیڈ مقدراں دی، ایہہ لیکھاں والا تھندا اے

Facebook Comments HS