پاکستان کے وزیر خارجہ کا انڈین وزیر اعظم کو ’گجرات کا قصائی‘ کہنے پرانڈیا میں غم وغصہ: بے جی پی کا ملک گیر احتجاج کا اعلان
مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ بلاول بھٹو کا بیان ’ انتہائی مذموم اور شرمناک ہے اور آج کے دن ہندوستان کے ہاتھوں شکست کے پاکستان کے درد کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔"
پاکستان کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کی جانب سے پاکستان کو دہشتگردی کا مرکز قرار دینے اور القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی مہمان نواز کرنے کے بیان کے پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ ’ اسامہ بن لادن مر چکا ہے لیکن گجرات کا قصائی آج انڈیا کا وزیر اعظم ہے جس پر وزیر اعظم بننے سے پہلے امریکہ میں داخلے پر پابندی تھی۔‘
بھارتیہ جنتا پارٹی نے پاکستانی وزیر خارجہ کے خلاف بیان کو ’ شرمناک اور توہین آمیز’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان کے خلاف ہفتے کو ملک بھر میں احتجاج کرے گی۔
بی جے پی نے جمعہ کے روز ایک بیان میں کہا، ‘ان کا تبصرہ انتہائی توہین آمیز، ہتک آمیز اور بزدلی سے بھرا ہوا ہے اور یہ صرف اقتدار میں رہنے اور (پاکستان) حکومت کو بچانے کے لئے دیا گیا ہے۔‘
بھارت کی حکمران جماعت نے 17 دسمبر کو ملک بھر کے تمام دارالحکومتوں میں احتجاج کرے گی اور اس کے ارکان پاکستان اور اس کے وزیر خارجہ کے پتلے جلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بھٹو نے جس طرح کی زبان استعمال کی ہے وہ انتہائی قابل مذمت ہے جو سیاست کی حقیقی روح کی عکاسی نہیں کرتی اور عوامی زندگی میں شائستگی کی حد کو بھی پار کرتی ہے۔
بی جے پی کے بیان میں کہا گیا کہ بلاول بھٹو کے ‘توہین آمیز’ بیان نے عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو مزید خراب کیا ہے۔
وزیر مملکت برائے امور خارجہ میناکشی لیکھی نے بلاول بھٹو کی طرف سے نریندر مودی کو گجرات کا قصائی’ پر کہا کہ پاکستان سے اس سے بہتر کچھ بھی توقع نہیں کی جا سکتی۔ "عام طور پر کسی بھی خودمختار ملک کے وزیر خارجہ اس طرح سے بات نہیں کرتے ہیں۔ لیکن یہ پاکستان ہے. آپ اس سے کیا توقع کر سکتے ہیں؟
بی جے پی کے فارن افیئرز ڈپارٹمنٹ کے سربراہ نے کہا کہ پاکستان میں بھی کوئی بھی بھٹو کے تبصرے کو سنجیدگی سے نہیں لیتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت اسٹارٹ اپس اور انکیوبیشن پر کام کر رہا ہے جبکہ پاکستان دہشت گردی کے انکیوبیٹر کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت ایک ماہ کے لیے انڈیا کے پاس ہے۔
بلاول بھٹو نے مسئلہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر عمل درآمد کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ کشمیر میں امن لانے کے لیے اپنے عزم کو ثابت کریں۔
وزیر خارجہ بلاول بھٹو کے اقوام متحدہ میں بیان سے قبل پاکستان کی وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کھر نے پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کا ذمہ دار بھارت کو قرار دیا تھا۔
پاکستان کے سیکریٹری خارجہ اسد مجید خان نے اسلام آباد میں غیر ملکی سفارت کاروں کو ایک ڈوزیئر بھی سونپا تھا جس میں ان کے ملک میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں بھارت کے مبینہ کردار کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔ ایک ماہ کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی عارضی صدارت سنبھالی تھی۔

