سر فرینک میسروی سے عاصم منیر پارٹ 1۔


75 سال میں پاک فوج کے 17 ”سپہ سالار“ ۔ بھارت کے 32 ”آرمی چیف“ پاکستان قائم ہوئے 75 سال ہو گئے ہیں اب تک 17 جرنیل ہی پاکستان کے سپہ سالا ر بنے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں بھارت جو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا تھا اب تک 32 آرمی چیفس بن چکے ہیں پاکستان میں بیشتر آرمی چیفس کا دور سپہ سالاری سالہا سال جاری رہا کچھ نے مارشل لاؤں کے ذریعے اپنے دور سربراہی کو طوالت بخشی ایوب خان، ضیاء الحق اور پرویز مشرف کچھ عرصہ نام نہاد جمہوری ادوار کا روپ دھار کر حکمرانی کی۔ کچھ جرنیلوں نے اپنے آپ کو فوج کے لئے ناگزیر سمجھتے ہوئے سول حکومت کو ”ایکسٹینشن“ دینے پر مجبور کر دیا۔

ان میں بیشتر اپنے آپ کو ناگزیر سمجھنے والے جرنیلوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں یا وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں آج کی نسل کو ان کے نام بھی یاد نہیں ہم اس کالم میں پاکستان کی مسلح کے ان جرنیلوں کے بارے میں بتائیں گے جو زندہ ہیں اور جن کی ”چھڑی“ کا جدھر رخ ہوتا تھا پاکستان کی 5 لاکھ سے زائد فوج کا رخ اس طرف ہو جاتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد جن 13 آرمی چیفس کی تقرریاں عمل میں لائی گئیں ان کی کمان سنبھالنے کی کوئی تقریب کی کوئی منعقد نہیں ہوئی۔

جنرل پرویز مشرف نے کمانڈ کی تبدیلی پر پہلی بار 29 نومبر 2007 ء کو جی ایچ کیو میں تقریب کا انعقاد کیا تو اس کے بعد اس کو ”عسکری تہوار“ کی حیثیت حاصل ہو گئی جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل قمر جاوید باجوہ نے ایکسٹینشن لے کر 6، 6 سال کے لئے اپنی باری لگائی جنرل راحیل شریف بھی ایکسٹینشن کے لئے ہاتھ مارتے رہے لیکن نواز شریف نے ایکسٹینشن نہ دی کیونکہ وہ شروع دن سے ایکسٹینشن کے حق میں نہیں تھے شاید ان کا یہی بڑا ”جرم“ تصور کیا جاتا کہ وہ ایکسٹینشن کے ”فرمان“ پر دستخط نہیں کرتے

جنرل راحیل کو سعودی عرب میں 50 سے زائد اسلامی ممالک کی فوج کی کمانڈ تو مل گئی مالی لحاظ سے سعودی عرب میں ملازمت منفعت بخش ہے لیکن دنیا کی نویں بڑی فوج کی سربراہی زیادہ اہمیت کی حامل ہے جہاں آئے روز دنیا بھر سے عمائدین پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ سے ملاقات کے ”مشتاق“ رہتے ہیں کچھ سالوں سے ریاست کے اندر ”راولپنڈی والوں“ کی متوازی حکومت ہوتی ہے نواز شریف کا ایک ”جرم“ یہ بھی تصور کیا جاتا ہے وہ ایک سابق آرمی چیف جنرل مشرف کو غداری کے الزام میں تختہ دار پر لٹکانے کی خواہش رکھتے تھے پھر اسی جرم میں نہ صرف ان کو اقتدار سے ہاتھ دھونا پڑے بلکہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا گیا پھر ان کے خلاف ایسا کھیل کھلا گیا کہ وہ آج تک اس سے مکمل طور پر نہیں نکل سکے

اس وقت جنرل مرزا اسلم بیگ، جنرل عبد الوحید کاکڑ، جنرل جہانگیر کرامت، جنرل پرویز مشرف، جنرل اشفاق پرویز کیانی، جنرل راحیل شریف اور جنرل قمر جاوید باجوہ بقید حیات ہیں۔ جنرل مرزا اسلم بیگ نے فرینڈز کے نام سے تھنک ٹینک بنایا لیکن پیرانہ سالی اور وسائل کی کمی کے باعث یہ ادارہ بھی غیر فعال ہو گیا ہے انہوں نے عوامی قیادت پارٹی بنائی تھی جو اپنی موت آپ مر گئی جنرل مرزا اسلم بیگ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا بیشتر وقت سرکاری طور پر تعمیر کر دیے گئے گھر میں ہی گزارتے ہیں

نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی کمان سنبھالنے کی تقریب میں صرف دو ہی سابق آرمی چیفس جنرل اشفاق پرویز کیانی اور جنرل راحیل شریف نظر آئے جنرل کیانی شیروانی اور جناح کیپ زیب تن کیے ہوئے تھے اس لئے بیشتر شرکا ان کو پہچان سکے البتہ جنرل راحیل شریف نے سوٹ پہن رکھا تھا وہ لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے رہے متعدد لوگوں نے ان کے ساتھ سیلفیاں بنوائیں۔ کچھ جرنیلوں کے بیرون ملک اثاثوں کا ذکر ہوتا ہے لیکن تاحال کسی کے اثاثوں کا ثبوت فراہم نہیں کیا گیا جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ سے چند روز قبل ایک ویب سائٹ پر ایف بی آر کے حوالے سے ان کے اثاثوں کا انکشاف کیا گیا جس کی آئی ایس پی آر نے تردید کر دی۔

بظاہر جنرل عاصم منیر کو نیا آرمی چیف اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کو چیئرمین جوائنٹ چیفس بنانے کے بعد ملک میں اہم عسکری عہدوں پر تعیناتی کے بارے میں جہاں ”ہیجانی“ کیفیت ختم ہو گئی ہے وہاں ”سازشی تھیوریاں اور قیاس آرائیاں“ بھی دم توڑ گئی ہیں پچھلے 7 ماہ سے ”اپنا“ آرمی چیف لگانے کی غیر ضروری بحث نے اس اہم منصب پر تقرری کو متنازع بنا دیا تھا کچھ حلقوں کی جانب سے دانستہ اس اہم منصب پر تقرری پر جی بھر کر سیاست کی گئی حتیٰ کہ وزیر اعظم کی جانب سے صدر مملکت کو آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ سٹاف کمیٹی کی تقرری کے لئے بھجوائی جانے والی سمری پر کھیل کھیلنے کا عندیہ دے کر ریاستی اداروں کے لئے پریشان کن صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کی گئی فوج کے نئے سپہ سالار کی تقرری کو کرکٹ کے کھیل سے تشبیہ سراسر زیادتی اور ریاستی اداروں کے ساتھ سنگین مذاق تھا دونوں جرنیلوں نے روایت کے مطابق صدر مملکت اور وزیر اعظم کے ہاں حاضری بھی دی سب نے دیکھا کہ جرنیلوں نے وزیر اعظم کو جہاں سیلوٹ کیا وہاں وزیر اعظم نے بھی آگے بڑھ کر اپنے آفس کے دروازے پر ان کا خیر مقدم کیا ممکن ہے ”سازشی کہانیاں“ گھڑنے والے عناصر کو باہمی عزت و احترام کے رشتہ پر مایوسی کا سامنا کرنا پڑ اہو۔

شنید ہے جنرل باجوہ نے اپنی ڈاکٹرائن کے مطابق مزید ایکسٹینشن لینے کی کوشش کی اس کے لئے دو مسلم لیگی رہنماؤں نے لندن میں نواز شریف سے ملاقاتیں کیں لیکن نواز شریف جہاندیدہ سیاست دان ہیں۔ وہ جنرل باجوہ کے لئے پیغام رسانی کرنے والوں کو طرح دے گئے پھر ایک سابق وزیر اعظم ایک اور ایجنڈا لے کر گئے لیکن انہیں بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا نواز شریف نے آخری وقت تک کسی کو اپنے ارادوں کے بارے میں نہیں بتایا بلکہ وہ سب کو ”خوش خوش“ بھجواتے رہے حتیٰ کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو سینیارٹی سے ہٹ کر کوئی فیصلہ نہ کرنے کی ہدایت کی پھر وہی ہوا وزیر اعظم نے سینیارٹی کے مطابق تقرریاں کر کے ”اپنا“ آرمی چیف لگانے کے پراپیگنڈا کو دفن کر دیا پچھلے 6، 7 ماہ سے ان اہم عہدوں کی تقرری پر کچھ عناصر نے خوب سیاست کر کے عوام کی رات کی نیندیں حرام کر دی تھیں اب نئی عسکری قیادت آ گئی ہے۔

یوٹیوبرز اور سوشل میڈیا کے بے مہار کارندوں کو فوج کے صبر کا مزید امتحان نہیں لینا چاہیے حکومت کی طرف سے صدر مملکت کو بھی یہ باور کرا دیا گیا تھا۔ حکومت صدر کے منصب کا احترام کرتی ہے۔ یہ ان کے پاس آخری موقع ہے۔ وہ آئینی عمل میں رکاوٹ بن کر اپنے خلاف تحریک مواخذہ کو دعوت نہ دیں 1973 ء کے آئین میں 18 ویں ترامیم کے بعد صدر کا عہدہ صرف علامتی رہ گیا ہے۔ جیسا کہ دنیا بھر کے جن ممالک میں ”ویسٹ منسٹر ڈیموکریسی“ کا نظام رائج ہے وہاں صدر وزیر اعظم کی ایڈوائس پر عمل درآمد کا پابند ہوتا ہے۔

صدر عارف علوی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف ضرور ہیں لیکن وہ خود آئین کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہیں۔ یہی وجہ ہے جب ان کو سمری موصول ہوئی تو انہوں عمران خان کے سامنے تابع محمل بننے کی بجائے ایک پوزیشن لی اور اہم عسکری تقرریوں کو متنازع نہیں بنایا بلکہ آئینی تقاضوں کے سامنے سر تسلیم کر دیا جن 6 جرنیلوں کے نام تجویز کیے گئے ہیں۔ ان میں سے کسی کے بارے میں پیشہ ورانہ اہلیت بارے کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا البتہ ایک آدھ جرنیل پر نواز شریف کو کچھ تحفظات تھے۔

عام تاثر یہ ہے کہ نواز شریف ”اپنا“ آرمی چیف لانا چاہتے ہیں۔ اس کے لئے وزیر اعظم شہباز شریف کو بار بار مشاورت کے لئے ”لندن یاترا“ کرنا پڑی ایسا نہیں بلکہ پاکستان میں جنرل باجوہ کی لابی بڑی مضبوط تھی جو نواز شریف کو ایکسٹینشن یا ان کی مرضی کا آرمی چیف لگانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن انہیں معلوم نہیں تھا۔ اتنی ٹھوکریں کھانے کے بعد نواز شریف کس قدر سیانا ہو گیا اور اس نے کسی کو آخری وقت تک اپنے دل کی بات کسی کو بتائی۔

اسے حسن اتفاق کہیں یا کچھ اور جنرل عاصم منیر اور ساحر شمشاد مرزا دونوں کا تعلق خطہ پوٹھوہار سے ہے جنرل عاصم منیر کے آبا و اجداد کا تعلق جالندھر سے ہے جنرل ضیاء الحق کا بھی تعلق جالندھر سے تھا جنرل عاصم منیر ڈھیری حسن آباد راولپنڈی اور جنرل ساحر شمشاد مرزا کا تعلق چکوال کے موضع ملہال مغلاں کے متوسط گھرانوں سے ہے۔ سب سے سینئر جنرل عاصم منیر کو آرمی چیف اور دوسرے نمبر پر جنرل ساحر شمشاد کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی بنا دیا گیا۔

وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی کے صاحبزادے مونس الٰہی نے ایک فرمائشی انٹرویو میں جہاں جنرل قمر جاوید باجوہ کی ”غیر جانبداری“ کا پول کھول دیا ہے۔ وہاں ان کے وکٹ کے دونوں اطراف کھیلنے کا انکشاف کر کے نیوٹرل ہونے کے دعوے کی بھی بڑی حد تک قلعی کھول دی ہے۔ اب تو عمران خان سمیت سب ہی جنرل باجوہ کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ گئے ہیں۔ اب عمران خان نے تو ان پر غداری کا الزام لگا دیا ہے۔

جنرل باجوہ نے اپنی ریٹائرمنٹ کو گمنامی کی زندگی سے تعبیر کیا ہے۔ وہاں پراجیکٹ عمران کے ایک اور کردار جنرل فیض حمید کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے سیاسی معاملات میں ان کا کس حد تک عمل دخل تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آرمی چیف کے سیریس امیدوار تھے اور آخری وقت تک اس منصب کے حصول کے لئے کوشاں رہے مونس الٰہی کا تازہ ترین انکشاف جنرل باجوہ کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے کہ فوج کا ادارہ فروری 2021 ء سے غیر سیاسی ہو چکا تھا۔

حقائق اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ رواں سال اپریل تک غیر سیاسی نہیں تھی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اب تک جنرل باجوہ یا آئی ایس پی آر نے مونس الٰہی کے بیان کی تردید نہیں کی۔ یہ بات برملا کہی جا رہی ہے۔ اگر مسلم لیگ (ن) کی طرف سے چوہدری پرویز الہی سے ڈیل ہو جائے تو نہ تو وہ صوبائی اسمبلی توڑیں گے اور نہ ہی مزید عمران خان کی مزید تابعداری کریں گے۔

اگرچہ 10 اپریل 2022 ء کو عدم اعتماد کے ووٹ نے ”ہائبرڈ رجیم“ کا خاتمہ کر دیا تھا لیکن جنرل باجوہ کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی جہاں ”باجوہ ڈاکٹرائن“ بھی ختم ہو گئی وہاں ”پراجیکٹ عمران“ بھی اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے۔ یہ سیاسی اصطلاحات جنرل باجوہ کی 6 سالہ ”عسکری حکمرانی“ کے دوران ہی رائج ہوئیں جبکہ عمران خان نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے ہٹائے جانے بعد پی ڈی ایم رجیم کو ”امپورٹڈ حکومت“ کا نام دینے کی ہر ممکن کوشش کی پچھلے 6 ماہ کے دوران کو عوام کا کوئی مسئلہ حل ہوا یا نہیں لیکن سیاسی حلقوں میں ان نئی اصلاحات کا بڑی بے رحمی سے استعمال ہوا ہے۔

بظاہر کہیں فوج نظر نہیں آئی لیکن ہر جگہ ”باجوہ ڈاکٹرائن“ کا عمل دخل ہی نظر آیا ایسا دکھائی دیتا تھا۔ جیسے ”ہائبرڈ رجیم“ ایک غیر مری قوت کے سائے میں چل رہا ہے۔ قدم قدم پر راولپنڈی سے عمران خان کی انگلی پکڑ کر چلانے کی ہر ممکن کو شش کی جاتی رہی پھر ایسا وقت بھی ایسا آیا کہ راولپنڈی والوں نے عمران خان سے مایوس ہو کر ہاتھ جھٹک دیا اور ان کو منتشر اپوزیشن کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا

پھر اس کمزور لیکن دانا اپوزیشن نے دنوں میں عمران خان کی حکومت کو لپیٹ دیا۔ بعض لوگ اس تبدیلی کا کریڈٹ آصف علی زرداری کو دیتے ہیں لیکن میں عمران خان کو اس بات کا کریڈٹ دیتا ہوں جنہوں نے نواز شریف، آصف علی زرداری اور مولانا فضل الرحمن کو متحد کر دیا۔ عمران خان جنرل باجوہ کو ”باس“ اور وہ ان کو جواباً ”باس“ کہہ کر پکارتے۔ شہر یار آفریدی نے تو ایک موقع پر جنرل باجوہ کو قوم کا ”باپ“ قرار دے دیا تھا لیکن پی ٹی آئی والے آج باجماعت اسی ”باپ“ کو گالیاں دے رہے ہیں۔ دونوں ”پارٹنر اور ایک ہی پیج“ کے الفاظ بکثرت استعمال کرتے تھے لیکن دونوں نے ”پیج“ کو اپنے پاؤں تلے روند کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا ہے۔ (جاری ہے۔ ) ۔

Facebook Comments HS