The Kashmir Files (movie) !


اس فلم میں ہندو پنڈتوں کے ساتھ ہوا ظلم دکھایا گیا اور مسلمانوں کو ظالم اور دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔

حقیقت کیا ہے؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ ظلم کو ظلم ہی سمجھا جائے، چاہے وہ کسی بھی ذات، نسل، برادری یا کسی بھی مذہب کے پیروکار کے ساتھ برتا جائے۔ لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنی تکلیف نظر آتی ہے۔ مسلمانوں کے لیے یہ ہضم کرنا مشکل ہے کہ ہندوؤں کے ساتھ کوئی زیادتی کی گئی ہے جبکہ ہندوؤں کے لیے یہ ہضم کرنا مشکل ہے کہ مسلمانوں پہ ظلم کیا گیا ہے۔

کش۔ میر میں انیس سو نوے کے ہنگاموں میں محتاط اندازے کے مطابق دو سو سے چھ سو کے درمیان ہندو پنڈت مارے گئے۔ زیادہ رپورٹس یہ تعداد تین سو کے قریب بتاتی ہیں۔

اس سال بھارت میں اس موضوع پہ فلم بنائی گئی اور اس فلم کو خوب شہرت ملی۔ اس فلم میں ان پنڈتوں کے ساتھ ہوا ظلم دکھایا گیا اور مسلمانوں کو انتہائی برے روپ میں پیش کیا گیا۔

لیکن اس فلم میں مسلمانوں کے ساتھ ہوئے ظلم نہیں بتائے گئے۔ یہ نہیں بتایا گیا کہ جتنے ہندو پنڈت آج تک کشمیر میں قتل ہوئے، اس سے زیادہ مسلمان تو صرف پچھلے سال 2021 میں وہاں قتل کر دیے گئے۔

اس فلم میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انیس سو نوے سے دو ہزار سات تک جس دورانیے میں تین چار سو پنڈت مارے گئے، اس دوران پندرہ ہزار مسلمان بھی مارے گئے۔ اور یہ خبر خود کانگریس کرالہ نے ٹویٹ کی۔ اس ٹویٹ کو بعد میں ڈیلیٹ کر دیا گیا۔ (میں اس ٹویٹ کا سکرین شاٹ اور انڈیا ٹوڈے کی اس بابت خبر کا سکرین شاٹ ساتھ لگا رہا ہوں )

فلم میں وہاں کے دو فیصد پنڈتوں کی انتہائی تکلیف دہ صورت حال کو دکھایا گیا لیکن یہ نہیں دکھایا گیا کہ وہاں کے باقی اٹھانوے فیصد مسلمان بھی مسلسل اسی تکلیف دہ صورت حال میں جی رہے ہیں۔ ان اٹھانوے فیصد ظلم کا شکار ہونے والوں کو ہی ظالم بنا کر پیش کر دیا گیا۔

اس فلم میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ ہنگامے شروع ہونے سے پہلے وہ دو فیصد پنڈت تقریباً سارے حکومتی عہدوں پہ موجود تھے جبکہ اٹھانوے فیصد مسلمان اپنی نمائندگی اور کسی عہدے کے لیے ترس رہے تھے۔

اس فلم میں اس بات کا بھی ذکر نہیں کیا گیا کہ یہ قتل و غارت شروع کہاں سے ہوا تھا۔ تقسیم کے وقت کش۔ میر میں مارے گئے تقریباً بیس ہزار سے ایک لاکھ تک مسلمانوں کو بھی کسی کھاتے میں نہیں گنا گیا۔

ان مسلمانوں کے حقوق غصب کرنے کو موضوع بنایا ہی نہیں گیا، ان کی تکلیف کو دکھایا ہی نہیں گیا کیونکہ ہر کسی کو اپنی تکلیف ہی سب سے بڑی تکلیف لگتی ہے، چاہے دوسرا کوئی کئی گنا بڑی تکلیف میں ہی مبتلا کیوں نہ ہو۔

اپنی کٹی ہوئی انگلی کسی کے کٹے ہوئے بازو سے زیادہ تکلیف دہ لگتی ہے۔

پنڈتوں کے ساتھ جو ظلم ہوا نہ تو اس کی کوئی توجیہہ دی سکتی ہے نا اس ظلم کی جو مسلمانوں کے ساتھ ہوا۔ مسئلہ بس اتنا سا ہے کہ دو فیصد کے ساتھ ہوئے ظلم کو دکھاتے ہوئے باقی اٹھانوے فیصد پہ ہوئے مظالم کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اور ان اٹھانوے فیصد کی نمائندگی شامل کرنے کے بجائے ان کے روپ کو مکروہ بنا کر پیش کیا گیا۔ تاریخی حوالے سے حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنے انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اسی مووی میں ڈائیلاگ ہے کہ

”جھوٹی خبر دکھانا اتنا خطرناک نہیں ہے، جتنا سچی خبر چھپانا ہے۔“

اس مووی میں ظلم تو دکھایا گیا ہے لیکن سارا نہیں دکھایا گیا، سچ کو چھپا کر پیش کیا گیا ہے۔ اور کسی تاریخی واقعہ پہ مووی بناتے ہوئے سچ چھپانا بددیانتی ہوتی ہے۔

میرے نزدیک یہ ایک فضول مووی تھی، جسے دیکھنے کا فیصلہ وقت کا ضیاع تھا۔ اور اس میں کش۔ میر کی اصل آزادی کی تحریک کو مجروح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس میں بھارتی فوجیوں کے ظلم اور زبردستی کو جواز فراہم کیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS