’بنوں میں یرغمالی اہلکاروں کی بازیابی کے لیے کوششیں جاری‘


خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں محکمۂ انسداد دہشت گردی کی عمارت میں شدت پسندوں کی جانب سے یرغمال بنائے گئے اہلکاروں کو 24 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی بازیاب نہیں کروایا جا سکا ہے اور علاقے میں حالات بدستور کشیدہ ہیں۔

ایک سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بنوں چھاؤنی کے علاقے میں کرائے کے ایک مکان میں سی ٹی ڈی کا دفتر قائم ہے جہاں شدت پسندی میں ملوث ملزمان کو تفتیش کے لیے رکھا جاتا ہے اور اتوار کو ان شدت پسندوں نے ڈیوٹی پر تعینات ایک اہلکار سے اسلحہ چھین کر فائرنگ کی اور وہاں موجود متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔

شدت پسندوں کی تعداد دو درجن کے لگ بھگ بتائی گئی ہے جبکہ فائرنگ کے واقعے میں تین اہلکاروں کے زخمی ہونے کی تصدیق بھی کی گئی ہے۔

بنوں پولیس یا پاکستانی فوج کی جانب سے اس واقعے کے بارے میں کوئی بیان تاحال سامنے نہیں آیا تاہم سرکاری ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد پاکستانی فوج نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور فوجی حکام ہی اس آپریشن کی نگرانی بھی کر رہے ہیں۔

ابتدائی طور پر سوشل میڈیا پر ایسی اطلاعات سامنے آئی تھی کہ شدت پسندوں نے سی ٹی ڈی کے تھانے پر حملہ کر کے اپنے ساتھیوں کو رہا کروانے کی کوشش کی تاہم اتوار کی شب صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ بنوں سی ٹی ڈی پولیس سٹیشن پر کسی نے حملہ نہیں کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سٹیشن میں کچھ ملزم دہشت گردی کے شبہے میں زیرحراست میں تھے جن سے تفتیش کی جا رہی تھی جہاں پر ان ملزمان نے سٹیشن میں موجود سکیورٹی اہلکاروں سے اسلحہ چھیننے کی کوشش کی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ حالات مکمل کنٹرول میں ہیں، سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لیا ہوا ہے، شرپسند عناصر کے خلاف آپریشن جاری ہے جو کچھ دیر بعد مکمل ہو جائے گا۔

سکیورٹی اہلکاروں کو یرغمال بنانے والے شدت پسندوں کی جانب سے اتوار کو ایک ویڈیو بھی جاری کی گئی ہے جس میں ایک یرغمالی اور چند مسلح شدت پسندوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

اس ویڈیو میں شدت پسند محفوظ راستہ فراہم کرنے کا مطالبہ کرتے دیکھے جا سکتے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ انھیں ہیلی کاپٹر میں افغانستان پہنچایا جائے۔

ویڈیو میں ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر انھیں محفوظ راستہ فراہم کیا جائے گا تو ہی وہ اہلکاروں کو رہا کریں گے اور ایسا نہ کیا گیا تو وہ یرغمالیوں کو قتل کر دیں گے۔

شدت پسندوں نے تو اس ویڈیو میں افغانستان جانے کے لیے محفوظ فضائی سہولت کا مطالبہ کیا ہے لیکن دوسری جانب کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے پیر کو جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ جیل کے عملے کو یرغمال بنانے والے بیشتر افراد ان کے ساتھی ہیں اور طویل عرصے تک قید میں رہنے کی وجہ سے انھیں حالات کا علم نہیں، اس لیے انھوں نے افغانستان جانے کی بات کی۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اس سلسلے میں اتوار کی شب حکومتی ذمہ داران سے بات ہوئی ہے کہ انھیں جنوبی یا شمالی وزیرستان منتقل کیا جائے لیکن اس بارے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

بنوں میں صورتحال

بنوں چھاؤنی کے علاقے میں بھی حالات بدستور کشیدہ ہیں اورشدت پسندوں کی جانب سے ویڈیو جاری کرنے اور سوشل میڈیا میں اس بارے میں متعدد باتیں سامنے آنے کے بعد انٹرنیٹ سروس معطل کر دی گئی تھی۔

چھاؤنی کو مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے، یہاں تک کے چھاؤنی کے رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں اور گھروں کے دروازے بند رکھیں۔

کینٹ کے متعدد رہائشی جو کل وقوعہ کے وقت چھاؤنی سے باہر تھے، وہ کل رات اپنے گھروں کو واپس نہیں جا سکے۔

ایک مقامی رہائشی نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کہ وہ کل اپنے دفتر سے چھاؤنی میں اپنے گھر نہیں جا سکے، اس لیے مجبوراً انھیں رات دفتر میں گزارنا پڑی اور اب صبح تک سارے راستے بند ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ انھیں مختلف اطلاعات مل رہی ہیں جس وجہ سے ان کی تشویش وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ رہی ہے۔

بنوں میں بیشتر سکول اور کالجز بھی آج بند ہیں جبکہ پشاور ہائیکورٹ کے بنوں بنچ میں بھی آج وکلا نہیں آ رہے۔

اس کے علاوہ بنوں میرانشاہ روڈ بھی بند ہے۔

مقامی صحافیوں نے بتایا ہے کہ علاقے میں خوف ہے اور چھاؤنی کے قریبی علاقوں میں سخت کشیدگی پائی جاتی ہے۔

اس واقعے کے بعد کل فائرنگ کی آوازیں سنی جا رہی تھیں لیکن اب فائرنگ کی آوازیں نہیں۔ کل شام تک چھاؤنی کی فضاؤں میں ہیلی کاپٹر بھی پرواز کرتے رہے ہیں۔

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp