تمھیں کھانا پکانا نہیں آتا


بھئی میں تو بہت پچھتا رہی ہوں ڈاکٹر بہو بیاہ کر مجال ہے جو میری کوئی بات سمجھ لے۔ رخسانہ بیگم پڑوسن فاخرہ بیگم سے بیٹھ کر بہو کی برائیاں کر رہی تھی۔ ایسا کیا ہو گیا جو تم ایسے کہہ رہی ہوں۔ ارے ڈھنگ کی ایک ہنڈیا نہیں بنا سکتی۔ ایسا کیسے ممکن ہے کچھ نہ کچھ تو پکا ہی لیتی ہوں گی ۔ ہاں کچھ نہ کچھ تو پکا ہی لیتی ہیں جیسے کیا کہتے ہیں اسے اسپیگٹی، پیزا مگر آلو سالن، پلاؤ نہیں بھئی۔ تم تو ایسے کہہ رہی تھی جیسے بالکل ہی کوری ہو۔

ارے میں تو کوری ہی کہتی ہوں گھرداری کے معاملے میں بالکل کوری ہے اب کل ہی میں نے کہا ذرا کچن تو چمکا دو نہ بابا نہ موڈ خراب ہو گیا بیگم کا۔ ارے وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا۔ نہیں ہوتا ٹھیک وہ کہہ چکی ہے وہ ہسپتال جائے گی ڈاکٹری کریں گی۔ یہ سب تو پہلے سوچنا چاہیے تھا رخسانہ تمھیں فاخرہ بیگم نے دکھ میں ساتھ دیا۔ تبھی تو کہہ رہی ہو پچھتا رہی ہوں۔

عمومی طور پر ہمارے معاشرہ میں ایک لڑکی ڈاکٹر، انجنیئر، مصورہ، لکھاری کچھ بھی بن جائے اور اس کی زندگی کتنی ہی مصروف کیوں نہ ہو مگر جب اس کو رشتے کے لیے خواتین دیکھنے آتی ہیں تو ان کا پہلا سوال ہوتا ہے گھر کے کون کون سے کام کر لیتی ہو؟ کھانا پکانا آتا ہے؟ یوں محسوس ہوتا ہے گویا لڑکے کی ماں کو اپنے بیٹے کے لیے بیوی اور گھر کے لیے بہو نہیں بلکہ ایک باورچن اور ماسی کی ضرورت ہو جو بوقت ضرورت باورچن اور ماسی دونوں کے کردار بخوبی نبھا سکے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آج اکیسویں صدی میں ہونے کے باوجود ایک لڑکی کو رشتہ کے لیے شرف قبولیت بخشوانے کے لیے امور خانہ دوری میں طاق ہونا کیوں ضروری سمجھا جاتا ہے؟ یہ اور بات ہے کہ جب پتا چلتا ہے کہ لڑکی ایم بی بی ایس ہے تو کہا جاتا ہے ماشا االلہ ذہین ہوگی تبھی ڈاکٹری پڑھ لی ورنہ ڈاکٹری پڑھنا آسان کام نہیں اگر ڈاکٹری پڑھنا آسان کام نہیں تو اس سب میں اس لڑکی کے پاس اس بات کی فرصت کیسے ہو سکتی ہے کہ وہ مرغ پلاؤ اور پتیلیاں چمکانے کے ٹوٹکے پڑھ کر ان پر عمل کرسکے۔

اگر اس نے ڈاکٹری پڑھی ہے تو اس کا مطلب فی الوقت اسے اس حد تک ہی کھانا پکانا آتا ہو گا جو زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہو اور آگے بھی وہ یہیں چاہے گی کہ وہ اپنی زندگی کا خواب ایک قابل ڈاکٹر بننے کو پورا کرسکے نہ کہ آپ کے گھر کا چولہا ہانڈی سنبھالے تو کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ایک ایسی لڑکی کا انتخاب کر لے جس نے تعلیم کو خیر آباد کہہ کر خود کو امور خانہ داری میں طاق کیا ہو اور اس کی خواہش گھر داری کرنا اور اسی میں خوش رہنا ہو تاکہ کسی کے خواب نہ ٹوٹے۔

ان سب باتوں کے پیچھے صرف ایک بات ہیں کہ نہ جانے کیوں ہم آج کہ اس ترقی یافتہ دور میں ہونے کے باوجود یہ نہیں سمجھ پاتے کہ ایک عورت کی تخلیق کا مقصد کیا ہے قدرت نے کیا عورت کو صرف اس لیے تخلیق کیا ہے کہ وہ کسی مشین کی طرح بچے پیدا کریں اس کے پاس ان کی پرورش کرنے ان کی تعلیم و تربیت کو اہمیت دینے کا وقت نہ ہو کیونکہ اسے سسرال کی خدمت کرنی ہو۔

آج ہم دیکھتے ہیں ہمیں اپنے اردگرد ایسے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں نظر آتے ہیں جو مختلف نشوں کے یا پھر ذہنی بیماریوں میں مبتلا ہے گھروں سے باہر ادھر ادھر بھٹک کر توجہ ڈھونڈ رہے ہیں اور ان کی مائیں گھروں میں کبھی الماریاں صاف کر رہی ہیں، کبھی ماسی کے ساتھ جھاڑ پھٹک کر رہی ہیں کیونکہ انھوں نے اپنی زندگی اس فلسفے پر ہی گزار دی کہ عورت کا کام گھرداری سنبھالنا ہے اور آج بھی اسی نقش قدم پر چلا جا رہا کاش آج کوئی یہ سمجھے کہ ایک عورت کا کام گھرداری سنبھالنا کم نسل سنوارنا زیادہ ہے مگر اگر اسے نسل سنوارنے کا وقت دیا جائے گا تو ہی تو وہ نسل سنوارے گی ورنہ بگڑو کے بارے میں دنیا یہیں کہتی ہے سب تربیت کا کھیل ہے تربیت کا تربیت ہوگی تو تربیت کا کھیل ہو گا نہ۔

Facebook Comments HS