صحافی خواتین اور ہراساں کرنا
زندگی کی طالبہ اور بے ثمر کاموں کی عادی ایک پاکستانی فیمینسٹ۔
اگر اپ نے عنوان پڑھ کر یہ فرض کر لیا ہے کہ یہ تحریر خواتین صحافیوں پر ان لائن اور اف لائن ہونے والے تشدد یا ہراساں کیے جانے کے متعلق ہے تو یہ مفروضہ غلط ہے۔
تاہم یہ واضح کرنا میرے لئے ضروری ہے کہ میں اس نا انصافی اور بے رحمی کا شکار ہونے والی تمام خواتین اور صحافی خواتین کے ساتھ ہمیشہ دام درم سخن یکجہتی کرتی رہی ہوں اور ایسا ہی کرتی رہوں گی لیکن اب جو بات کرنے کی ہے۔ وہ کچھ خواتین یا صحافی نما خواتین کی جانب سے میرے جیسی بے حیثیت کو ہراساں کرنے سے متعلق ہے۔
ڈر اتنا ہے اور اتنا ہی ہے۔ جتنا مجھ کو کچھ وکیل نما غنڈوں اور غنڈے نما جانبازوں سے جن کا تعلق وغیرہ وغیرہ سے ہوتا ہے، لگتا ہے۔
تو اج میں سپرد قلم یا کیبورڈ بورڈ کرتی ہوں تین عورتیں تین کہانیاں تینوں عورتوں کے نام مخفی رہیں گے۔ بوجہ خوف۔ وہ تینوں عورتیں صحافی ہیں اور زندگی کے مختلف مرحلوں پر ان سے ایسا واسطہ پڑا کہ اب بھی ایسا لگتا ہے کہ گھاؤ تازہ ہے۔
پہلی کہانی
یہ سب سے نئی ہے اور اس وقت کی ہے جب میں پچاس سال کی زندگی جی چکی تھی اور اس گمان میں تھی کہ اب تک تو مجھ کو کچھ عقل اور دوسروں کو کچھ رحم آ ہی گیا ہو گا۔ ہو سکتا ہے کہ جو نوجوان لڑکیاں میڈم کہتی ہیں۔ مینٹور مانتی ہین دل سے بھی ایسا سمجھتی ہوں ہو سکتا ہے کہ بیس پچیس سالوں پر محیط جو پیشہ ورانہ روابط قائم ہوئے ہیں۔ ان میں اخلاص ہو اسی خوش فہمی میں ایک سماجی رابطے کے فورم پر صحافت سچائی اور مفادات کے ٹکراؤ کی بات کردی تھی۔ مگر جس بات کا سارے فسانے میں ذکر ہی نہ تھا۔ وہ بات ان کو ناگوار گزری۔
پتہ چلا کہ ایک سے زیادہ خواتین ملوث ہیں۔ دھمکی میری بہت ہی پیاری ”دوست“ نے ایک اور ”قریبی (اچانک احساس ہوا کہ قریبی کا قافیہ فریبی ہوتا ہے۔ ) تعلق کے ذریعے پہنچائی معافی بھی منگوائی اور میں نے وہ اکاوئنٹ ہی ختم کر دیا۔
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے۔
دوسری کہانی
یہ ان سالوں میں ایک سال تھا جب میں جامعات میں تدریس کا کام بھی کرتی تھی۔ میرا شمار مخلص محنتی مگر سخت گیر اساتذہ میں ہوتا تھا جو اصولوں پر چلتے ہیں۔ میرا اصول تھا کہ کلاس میں پابندی وقت ہوگی اور فائنل امتحان سے پہلے کلاس پرفارمنس اور حاضری پر بھی طالب علموں کو جانچا جائے گا۔ بہرحال قصہ مختصر مجھ پر دباؤ ڈال کر ایک با اثر خاتون کو جو پورا سال کلاس نہیں آئی تھیں نہ صرف امتحان دلوایا گیا علیحدہ سے بلکہ کامیاب بھی کروایا گیا تاہم ان کو اے گریڈ دینے کے دباؤ تک میری بس ہو چکی تھی۔ میں نے پڑھانا چھوڑ دیا مارے شرمندگی اور بے بسی کے مجھ کو وہ تمام طالب علم مجھ سے سوال کرتے نظر آئے جن کو میں نے صرف دیر سے آنے پر ڈانٹا ہوتا تھا۔
تیسری کہانی
یہ ایک ایسی کہانی ہے جو اب تک میرے اندر اور میں بھی اس کہانی میں جی رہی ہوں اس کہانی میں جو خاتون صحافی ہیں۔ میں ان کی قابل رشک قابلیت اور کامیابیوں کی اب بھی شیدائی ہوں ان کی جانب سے کئی سالوں تک میں تضحیک اور توہین کا شکار رہی۔ ان کا ہدف میں نہیں تھی بلکہ اس وقت کی ایک طاقتور شخصیت تھی۔ چونکہاس شخص کا براہ راست مذاق اڑا نے یا اس پر کھل کر تنقید کی اجازت نہیں تھی تو انھوں نے اس عورت کو آڑے ہاتھوں لیا جس کا کوئی وارث نہیں اور جس سے ان کو کوئی خطرہ نہیں تھا۔ کاش انھوں نے صحافت کے مروجہ اصولوں کو مد نظر رکھتے ہوئے کبھی مجھ سے میرا موقف بھی جاننے کی کوشش کی ہوتی مگر ان کے لئے ان کو دی گئی خبر ہی کافی تھی۔ پہلے پہل تو آنسوؤں سے روتی تھی پھر رونا جاری رہا پر آنسو خشک ہو گئے۔
اب کبھی کبھی ان کی طنزیہ گپ شپ یاد اتی ہے تو ٹیپیکل مڈل کلاسیوں کی طرح یہ کہہ کر دل کو تسلی دیتی ہوں کہ اللہ کی شان ایک لاچار عورت کی بلینگ (BULLYING) سے ایک بڑا اخبار بکا کیا بات ہے۔ اللہ تیرا شکر۔
ان کہانیوں کو پڑھ کر شاید کسی کے دماغ میں یا دل میں یہ خیال آئے کہ یہ کتنی بے وقوف اور ڈرپوک عورت ہے۔ یہ خیال بالکل درست ہے۔ میں نے چند ایک بار عقل مند اور بہادر بننے کی کوشش کی تھی۔ اس معاشرے کے کچھ دانشوروں نے سمجھا دیا اور میں سمجھ گئی۔


