ڈار صاحب جب آپ ڈھاکہ جائیں تو

بنگلہ دیش ہمارا کھویا ہوا بھائی ہے، ہم ان کی ہر ممکن حمایت اور مدد کریں گے۔ اسحاق ڈار یہ خبر میں نے وی پی این کی بدولت سنگاپور سے لاگ ان ہو کر ایکس پر ”Bangla Urdu | بنگلہ اردو“ نامی اکاؤنٹ پر پڑھی۔ دل چاہا کہ اس نام پر ہی کچھ دل ہلکا کروں پھر سوچا کہ جب عاطف اسلم اور راحت علی کے ڈھاکہ میں کامیاب کنسرٹس پر الیٹ اور مڈل کلاس بنگالی نوجوان جھوم رہے ہیں

Read more

سولہ دسمبر 1971۔ سولہ دسمبر 2024: تذلیل، توہین اور گمشدہ شناخت کے 19,359دن

ایک نسلی برادری، جو ”بہاری پاکستانی“ کے نام سے جانی جاتی ہے، بے دردی سے جانچی گئی ہے۔ میں نے اس کمیونٹی کے حوالے سے، اور خاص طور پر غیر بنگالی یا بہاری پاکستانی محصورین کے لیے، اپنی مقدور بھر آواز اٹھانے کی، آگاہی اور ہم دلی بیدار کرنے کی کوشش کی ہے۔ بیشتر میڈیا کے فورمز ایسی تحریر اور رائے کو رد کر دیتے ہیں یا ان کو جگہ دیتے ہیں جن کے عہدے اور مرتبے رعب اور دبدبے

Read more

جو رہی سو بے خبری رہی۔ بہاریوں کی پاکستان سے یک طرفہ محبت

انتساب : سابقہ مشرقی پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش، میں پاکستانی فوجیوں اور شہریوں کی بے گوروکفن لاشوں کے نام، ان بیٹیوں کے نام جن کی حرمت کی حفاظت نا کی گئی اور وہ کلکتہ کے چکلوں میں پہنچائی گئیں، میجر اکرم شہید 1971 نشان حیدر ہللی، راج شاہی کے ہیرو کے نام جو اب بھی دیناج پور بنگلہ دیش میں مدفون ہیں اور ان کی میّت کو پاکستان لانے کا خیال اب تک کسی کو نہیں آیا، اور ان کے

Read more

اجلا، کملا، اکتایا ہوا منیر نیازی اور پاکستان

بابا بلھے شاہ، استاد دامن، اور امرتا پریتم کے ساتھ ساتھ ہائی اسکول کے دور میں ایک اور ادبی جن، جن کی وجہ سے مجھے پنجابی ادب سے محبت ہو گئی، وہ منیر نیازی تھے۔ ماہ و سال گزرے۔ گزرے وقت کے ساتھ زندگی بھی گزاری جا رہی تھی، ”کہاں کی رباعی، کہاں کی غزل“ کے مصداق۔ ایک دن کشور آپی (کشور ناہید) کا پیار بھرا حکم آیا کہ آج کی شام منیر نیازی کے نام ہے، آ جانا۔ اس

Read more

ڈائنو سار کی ڈائری سے ایک ادھورا صفحہ

ایلیٹ اور ایلیٹزم کی بھینٹ چڑھ جانے والی پاکستانی بہاری بین الاقوامی شاعرہ کے نام پاکستان میں سماج، شناخت، کلاس، معاشی حیثیت اور فکری اڑان سے جڑے سمجھوتوں، گردابوں اور عذابوں کو صرف وہی پوری طرح جان سکتے ہیں جو زندگی کو اپنے طریقے سے جینا چاہتے ہوں اور زندگی کو، اس کی تمام رعنائیوں کو اپنی گرفت میں بھی رکھنا چاہتے ہوں۔ یاد کی دھند میں گزرے ماہ و سال میں ایسے انسانوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی ہوں

Read more

جینڈر واچ سے صنف آہن تک: ایک فیمنسٹ کی ڈائری کا ایک ورق

کچھ عرصہ قبل ڈائنو سار کی ڈائری لکھنی شروع کی، پھر سوچا کہ کس کو میری زندگی، میرے مشاہدوں اور تجربات میں دلچسپی ہوگی؟ کون میرے ساتھ بہاری المیے کی روداد پر غم زدہ ہو گا؟ اب تو سکرین پر لائیو جنگیں، خون ریزی، نسل کشی اور نورا کشتی دیکھ کر بھی ہم میں سے بہتر اخلاقیات اور اصولوں والے لوگ بھی محض آہ بھر کر چینل بدل دیتے ہیں۔ بھوک، روزگار، طاقت اور پیسہ ہی اصل حقیقت ہیں اور

Read more

پاکستانی دانشمندوں کی ”ہمدلی برائے پاکستانی بہاری محصورین“ اور ٹرمپ کا امریکہ

متحدہ ہندوستان سے سابقہ مشرقی پاکستان ”ہجرت“ کرنے والے ”پاکستانی بہاریوں“ کے مسئلے کے حوالے سے ایک ہمدلی یعنی ایمپیتھی پر مبنی سیاسی حل کیا ہو سکتا ہے؟ (ہجرت کو واوین میں اس لیے لکھا کہ میرے مطابق وہ ہجرت نہیں تھی بلکہ وہ بہاری اپنا حق، اپنے ووٹ کا پھل سمجھ کر اپنے گھر آئے تھے۔ ) یہ سوال خود سے اور کئی جانے مانے پاکستانی اساتذہ، دانشوروں، حساس ادیبوں، شعرا، سیاسی کارکنوں اور لیڈروں، انسانی حقوق، بچوں کے

Read more

ڈھاکہ والا گھر اور بھٹو صاحب

ایک کالم (نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟ ) جو ”ہم سب“ پر 06 اکتوبر 2024 کو شائع ہوا، میں نے اپنے مرحوم والد کے ڈھاکہ والے گھر کی بات قلمبند کی تھی۔ کچھ نے پوچھا، ”اب کون رہتا ہے؟“ میں نے کہا، ”مجھے کیا معلوم؟ میں نے تو پتا بھی پوچھ پوچھ کر لکھا تھا۔“ یہ دنیا ایک سرائے ہی تو ہے۔ اس گھر پر اب پروفیسر نظیر صدیقی کا نام نہیں لکھا ہوا ہے، جن

Read more

نہتے بہاریوں پر گزری قیامت کون بیان کرے گا؟

کہتے ہیں کہ ناموں کا انسانوں کی زندگی پر اثر ہوتا ہے۔ شاید مقامات کے ناموں کے ساتھ بھی یہی معاملہ ہو۔ سنا ہے کہ اسلام آباد کا اصل نام راج شاہی تھا۔ ایک راج شاہی ہمارے سابقہ مشرقی پاکستان اور حالیہ بنگلہ دیش میں بھی ہے۔ وہاں کے کیڈٹ کالج سے کئی نامور حضرات کا تعلق ہے جن میں ایک توحید حسین بھی ہیں۔ وہ اس وقت ڈاکٹر محمد یونس کے چیف ایڈوائزر ہیں۔ انہوں نے 1981 میں بنگلہ

Read more

سروج دیوی اور رضیہ پروین: کاش خارجہ پالیسی آپ کے ہاتھ میں ہوتی

آپ میں سے اکثریت شاید یہ کالم/ بلاگ پڑھنے کی ہی زحمت نہ کرے کیوں کہ عنوان میں کوئی سنسنی خیزی نہیں ہے۔ ان قابل صد احترام خواتین کے نام سے آپ واقف نہیں ہیں۔ لیکن اگر آپ یہ سطر نظر سے گزار چکے ہیں تو آپ نے بھانپ لیا ہے کہ یہ خواتین گمنام نہیں ہیں اور نہ ہی عام ہیں۔ سروج دیوی ماتا جی ہیں چندی گڑھ ’ہریانہ بھارت کے عالمی شہرت یافتہ مایہ ناز جولین تھرو کے

Read more

بنگلہ دیش اور پاکستانی بہاری: حقیقت، خاموشی، اور فکر

انگریزی کا ایک فقرہ جس کا آزاد اردو ترجمہ کچھ یوں بھی ہو سکتا ہے کہ ”صرف ہم پلہ ہی موازنے کے اہل ہیں“ میرے دماغ میں بار بار آ رہا ہے جب سے میں نے بنگلہ دیش کی حالیہ صورت احوال کے پس منظر میں سوشل میڈیا پر مختلف اسٹیک ہولڈرز بشمول ایسے ”صحافیوں“ کے ( جو ان فورمز سے بھی منسلک ہیں جو کبھی معروف اور معتبر فورمز جانے جاتے تھے ) تبصرے اور تجزیے پڑھے ہیں۔ ان

Read more

عام انتخابات اور جمال آگیں ”عامیانہ“ خطابات

یادش بخیر آمر ضیاء نے ایک بدنام زمانہ یا کمال ہنر کا شہکار ریفرنڈم کروایا تھا۔ اس میں ووٹرز سے کیے گئے بنیادی سوال پر آج تک کا کالمز اور کتابیں لکھی جاتی ہیں اور جگتیں کسی جاتی ہیں، اور بہت سے سوالات اٹھائے جاتے ہیں۔ ریکارڈ کی کامل مطابقت کے لیے یہ بھی لکھنا واجب ہے کہ سوال کرنے والے تو جیسی تیسی جمہوریت میں بھی اٹھوائے جاتے ہیں۔ آمر جو نا ضیاء تھا نا ہی حق مگر نصیب

Read more

میں بھی وزیراعظم نہیں تھا، ملازمت دی گئی تھی: شاہد خاقان

”یہاں کرسی کی کوئی طاقت نہیں، میں بھی وزیراعظم نہیں تھا، ملازمت دی گئی تھی: شاہد خاقان“ ۔ 13 جنوری 2024 کو سابقہ چڑیا اور حالیہ ایکس نامی پلیٹ فارم پر جیو اردو نیوز پر یہ بین نما بیان پڑھا۔ جہاں خراب میں دکھوں، دھوکوں، ڈھونگ اور ڈھنڈوروں کی کوئی کم کمیابی تھی کہ یہ ”نایاب معلومات“ مجھ جیسے لوگوں تک بھی پہنچ گئی۔ کمیونیکشن یک طرفہ نہیں ہوتی ہے یا نہیں ہونی چاہیے۔ سماجی رابطے کی سائٹ پر ایک

Read more

نجمہ صادق؛ کس کو یاد ہیں؟

فیمینزم آج کا فیشن بن چکا ہے۔ بالکل موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیاتی امور پر بات کرنے اور ڈونرز کے فنڈز سے فیضیاب ہونے کی طرح۔ چٹکی بجانے سے بھی پہلے دانشور اور ماہرین جنم لے رہے ہیں۔ جس میں کافی کمال جدید ٹیکنالوجی کا ہے۔ صورت حال کچھ یوں ہے کہ ایک ٹویٹ پر آپ کو نوبل انعام بھی مل سکتا ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ آپ کی نسلی شناخت اور مزاحمت کا نشانہ وہ ہوں جو دنیا چلانے

Read more

کراچی: 5000 نوجوانوں کو نہم اور دہم کے امتحان سے دور رکھنے کا اہتمام

عام طور پر میں انفرادی معاملات پر ردعمل نہیں کرتی اور ور نہ ہی لکھتی ہوں، لیکن 16 دسمبر 2023 کو ایک عظیم محنتی شخص نے میرے ساتھ فون پر رابطہ کیا اور اپنے آپ کو متعارف کرانے کے بعد ایک خوفناک اور المناک صورتحال کا بیان کیا۔ وہ صاحب وطن کی خدمات نہ صرف سرکاری حیثیت میں کر چکے ہیں بلکہ 1971 میں خود اپنے اعلی مرتبت خاندان کے قتل، اور انسانیت کے زیاں کے چشم دید گواہ بھی

Read more

غالب کی سالگرہ

27 دسمبر 1797 مرزا اسداللہ خان غالب کا یوم ولادت ہے اور 15 فروری 1869 کو وہ ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے میری طرح آپ میں سے بہت سے ایسے دوست ہوں گے جن کا باقاعدہ شعر و ادب سے تعلق تو نہیں مگر میری طرح انھوں نے بھی اپنی زندگی میں کئی بار غالب سے ان کے اشعار اور نثر کے ذریعے زندگی کی نا انصافی ’سفاکی‘ کج ادائی ’بے وفائی‘ بے ڈھنگے پن وغیرہ وغیرہ کو سمجھنے

Read more

آپ بھی کوئی ڈیل کر لیں

جن لوگوں کو بھی زمانہ طالب علمی میں سیاسی جماعتوں کے سٹوڈنٹس ونگز، جو باوجود سٹوڈنٹ یونینز پر پابندی پر سٹوڈنٹس کونسلز کی صورت میں متحرک رہتے آئے ہیں، سے واسطہ پڑا ہے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کالج یا یونیورسٹی میں کلچرل شو یا محفل موسیقی کروانا یا تھیٹر کروانا کس قدر صبر آزما اور پر خطر کارروائی ہے مزاج میں لطف رسک کی طرف جھکاؤ ہمیشہ سے رہا اس لیے یہ تمام خطرات مول لیتی رہی ہوں

Read more

وقفے کے بعد پھر بمباری اور بربادی شروع ہو جائی گی

آگے آتی تھی حال دل پے ہنسی۔ اب کسی بات پر نہیں آتی مرزا غالب کا یہ شعر ہمارے جیسے بے طاقت ایکٹوسٹس کے لیے ہے ہمارے جیسے جو ساری عمر حق و صداقت کی بات کرتے رہے اور سچائی کا ساتھ بنا کسے صلے یا ستائش کے کرتے رہے اور پھر انھیں معلوم ہوا یا ان پر انکشاف ہوا کہ بہت کچھ دھوکہ تھا انسانی حقوق کی سیاست اور ایلیٹ کیپ چر کی کے سمبندھ کی بہت دیر سے

Read more

پاکستان زندہ باد سے بیجوئے شو بھو جاترا تک

ایک ایسی بدنصیب کمیونٹی ( جس کے پرکھوں نے پاکستان کی خاطر تین ہجرتیں کی ہوں ) کے بارے میں واضح اور درست معلومات تو موجودہ پاکستان کے بیشتر عوام جو نا انصافی ’نا اہل اور بدحواس گورننس سے جڑے مسائل اور مصائب کا شکار رہتے ہیں, کے پاس کیا ہوں گی جب کہ سچی ’سنجیدہ اور صحیح خبروں‘ اطلاعات اور معلومات کا فقدان، اگر قحط نا بھی ہو تو اب ہمارے زیادہ تر ذرائع ابلاغ اور اکادمیہ کے پاس

Read more

صحافی خواتین اور ہراساں کرنا

زندگی کی طالبہ اور بے ثمر کاموں کی عادی ایک پاکستانی فیمینسٹ۔ اگر اپ نے عنوان پڑھ کر یہ فرض کر لیا ہے کہ یہ تحریر خواتین صحافیوں پر ان لائن اور اف لائن ہونے والے تشدد یا ہراساں کیے جانے کے متعلق ہے تو یہ مفروضہ غلط ہے۔ تاہم یہ واضح کرنا میرے لئے ضروری ہے کہ میں اس نا انصافی اور بے رحمی کا شکار ہونے والی تمام خواتین اور صحافی خواتین کے ساتھ ہمیشہ دام درم سخن

Read more