وزیرستان اولسی پاسون


وزیرستان میں پولیس تھانوں پر ٹی ٹی پی والے روزانہ حملے کرتے ہیں، البتہ کامیاب حملے، پولیس والے یا مارے جاتے ہیں یا تسلیم ہو کر ٹی ٹی پی والے ان سے اسلحہ جات چھین کر فرار رہ جاتے ہیں، وزیرستان میں حالات دن با دن خراب ہو رہے ہیں۔ ریاستی پالیسی اس کے متعلق بالکل واضح نہیں ہے کہ ان لوگوں کے خلاف سرچ آپریشن کرے یا مذاکرات۔

دوسری جانب وزیرستانی پولیس دن با دن کمزور ہو رہے ہیں، اور اب تک ٹی ٹی پی کے خلاف مکمل طور پر ناکام ثابت ہو چکے ہیں، فوج اور ایف سی اگر ساتھ نہیں دیتے تو وزیراعلی اور آئی جی پولیس خیبر پختونخوا وزیرستان میں نان لوکل پولیس تعینات کریں۔ اگر ایسا بھی نہیں کر سکتے تو ہم کیا سمجھیں کہ بیرسٹر سیف یعنی کے پی حکومت اور فیض حمید اینڈ کمپنی بشمول ٹی ٹی پی فاٹا انضمام پر خفا و ناراض ہیں۔ کیونکہ فاٹا انضمام کے بعد خیبر پختونخوا حکومت وہاں پر سرکاری دفاتر منتقل ہونے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں یا جان بوجھ کر وہاں پر حکومتی رٹ بحالی کے موڈ میں نہیں ہیں۔

وزیرستان میں تو لوگوں نے اولسی پاسون کے ذریعے واضح پیغام و ریفرنڈم ریاست کو دیا ہے کہ ہم مزید وزیرستان میں دہشتگردی برداشت کرنے کے قابل نہیں ہے ہم آمن چاہتے ہیں۔ ہم احتجاج، دھرنے، پیس واک کرتے رہے گے مگر بندوق تو ریاست و ٹی ٹی پی کے پاس ہیں، کیا ریاست اس دفعہ عوام کا ساتھ دینے میں سنجیدہ ہے؟

ہم آئی جی خیبر پختونخوا پولیس، کور کمانڈر پشاور، آرمی چیف، وزیر داخلہ سے اپیل کرتے ہیں کہ شمالی و جنوبی وزیرستان اپر و لوئر کا دورے کریں، حالات کا جائزہ لیں، لوگوں کو اعتماد میں لیں۔ ملکی میڈیا سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ اگر گھڑی سے فرصت ملے تو وزیرستان میں جاری بد امنی کے متعلق بھی باقی پاکستانیوں کو آگاہ کیجئے۔

وزیرستانی بھی فرشتے نہیں ہیں، اپنے علاقے و لوگوں پر رحم کیجئے، اپنے گریبانوں میں جھانکنے کا وقت ہوا چاہتا ہے، کون ہے یہ ٹی ٹی پی والے، ایسا تو نہیں ہے کہ یہی موسیٰ نیکہ درویش کے پوتے رات کو نکلتے ہیں اور دہشت پھیلاتے ہیں، اگر حکومت سنجیدگی سے سرچ آپریشن کرے تو آپ لوگ کس پوزیشن پر ہوں گے، اس کے متعلق بھی حکومت کو وضاحت دیں۔ وزیرستانی علماء کرام بھی اگر مگر کے شکار ہو چکے ہیں، یا تو کھول کر ٹی ٹی پی کے حمایت میں نکلیں یا آمن بحالی میں دیگر سیاسی پارٹیوں کا ساتھ دیں۔ کیونکہ کولڈ وار سے لے کر وار آن ٹیرر تک آپ بھی اس کھیل کا اہم حصہ و کھلاڑی رہ چکے ہیں۔

Facebook Comments HS