باپ کی مار کے خوف سے نفسیاتی مریض بننے والا بچہ


اس آٹھ سالہ بچے کی آنکھوں سے خوف چھلک رہا تھا۔ خوف جس میں اس کا ننھا سا وجود سمٹا ہوا لگ رہا تھا۔
اس کی والدہ نہیں تھیں اور وہ والد کے ساتھ رہ رہا تھا۔ والد جو غصیلے تھے اور اس کے ساتھ مار پیٹ کرتے رہتے تھے۔ والد ایک کارخانے میں نوکری کر رہے تھے اور وہیں کارخانے کے ساتھ ایک کمرہ لے کر رہائش پذیر تھے۔ اسی کمرے میں بیٹے کو ساتھ رکھا ہوا تھا۔ کام سے آتے تو سارے دن کا غصہ بیٹے پہ نکال دیتے۔ بیٹا جس کے پاس باپ کے علاوہ کوئی نہیں تھا۔ وہ والد کا غصہ سہنے کے سوا کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا۔

اس آٹھ سالہ بچے کو ایک خاتون میرے پاس لے کر آئی تھیں اور آ کر بتایا کہ یہ میری بھانجی کا بیٹا ہے۔ اپنے باپ کے ساتھ کسی دوسرے شہر میں رہتا ہے۔ ابھی کچھ دن کے لیے میرے پاس آیا ہوا ہے لیکن اسے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے۔

کچھ کھاتا پیتا نہیں، کھیلتا کودتا نہیں۔ بس سارا دن بستر میں سویا رہتا ہے حالانکہ یہ ایسا نہیں تھا۔ یہ بہت شرارتی ہوا کرتا تھا، جب بھی آتا، ٹک کر بیٹھتا ہی نہیں تھا لیکن اس دفعہ نہ تو کسی سے کوئی بات کر رہا ہے نہ ہی کھیلنے کودنے کی طرف جاتا ہے۔ اکیلا لیٹا رہتا ہے، جتنی مرضی کوشش کر لیں کچھ بولتا ہی نہیں۔

میں نے بچے سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ بولتا تو کیا، نظریں اٹھانے پہ بھی تیار نہیں تھا۔ میں نے اس خاتون سے اجازت لی کہ مجھے کچھ دیر اکیلے میں بچے سے بات چیت کرنے دیں۔ خاتون باہر چلی گئیں، اب وہاں صرف میں اور وہ بچہ رہ گئے تھے۔

میں نے اس سے نرم انداز میں بات چیت شروع کی۔ پہلے تو وہ بولنے پہ ہی تیار نہیں لگ رہا تھا پھر تھوڑی سی کوشش کے بعد ہاں یا نہ میں جواب دینے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کسی نے مارا ہے؟ تو اس نے ایک دفعہ ڈرتے ہوئے چاروں طرف دیکھا اور پھر آہستہ سے بولا ”ہاں“

کس نے مارا ہے؟ ”ابو نے“
کہاں مارا؟ اس نے ٹانگوں پہ ہاتھ لگاتے ہوئے بتایا کہ یہاں یہاں
کس چیز سے مارا؟ ”پائپ سے“
یہ ایک ایک لفظ بولتے ہوئے اس کی آواز لڑکھڑا رہی تھی۔ آنکھیں خوف سے بھری ہوئی تھیں، رنگ اڑا ہوا تھا۔

میں نے پوچھا کیا یہاں خالہ کے گھر میں آ کر بھی ابو سے ڈر لگ رہا ہے؟ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
”کیا اسی ڈر کی وجہ سے بستر میں لیٹے رہتے ہو؟“ اس نے پھر اثبات میں سر ہلا دیا۔

میں نے پوچھا ”کیا ابھی یہاں بھی ڈر لگ رہا ہے؟“
اس نے آنکھیں جھکا دیں اور بالکل مدھم آواز میں بولا ”ہاں“

اس کا ننھا سا وجود سہما ہوا تھا، مجھے اور کچھ نہیں سوجھا تو اٹھا اور اسے گلے سے لگا لیا۔ پھر اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہوئی تھیں۔ وہ ڈرا ہوا بچہ کسی شفقت بھرے لمس کے لیے ترس رہا تھا۔

وہ چھوٹی سی عمر میں نفسیاتی طور پہ بری طرح متاثر ہو چکا تھا۔ بچپن کی خوشیاں خوف کے دائرے میں دم توڑ چکی تھیں۔ ہنسنے کھیلنے اور بے فکری سے جینے کی عمر میں اس کے نفسیاتی مریض بننے کا عمل شروع ہو چکا تھا۔

اور یہ بچہ اس نوعیت کا واحد بچہ نہیں ہے۔ ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو کتنے ہی بچے والدین کی عدم توجہ یا غصیلی طبیعت کی وجہ سے بچپن سے ہی نفسیاتی مریض بننا شروع ہو جاتے ہیں۔ ایسے بچے بڑے ہو کر دیکھنے میں چاہے نارمل ہی لگیں لیکن ان کے اندر پیدا ہوئی محرومیاں انھیں گھن کی طرح کھاتی رہتی ہیں۔ ان میں سے اکثر کی زندگی اپنی محرومیوں پہ قابو پانے کی کوشش میں ہی گزر جاتی ہے۔ کچھ اس کوشش میں جرائم پیشہ افراد کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں اور کچھ خود جرائم کی طرف بڑھنے لگتے ہیں۔ اور کچھ ان محرومیوں سے نکلنے کوشش میں اپنے اوپر ہی ظلم کرتے رہتے ہیں۔

* اگر آپ والدین ہیں تو اپنی ذمہ داری کو پہچانیے۔ اپنے زخم، اپنی محرومیاں بچوں میں نہ منتقل کیجیے۔ اپنی مشکلات، اپنی تکلیفوں کا خمیازہ انھیں نہ بھگتنے دیجیے۔ اپنے نفسیاتی عارضے سے اپنے بچوں کو متاثر نہ ہونے دیجیے۔ اپنے بچوں کے حقوق ادا کیجیے۔ ظالم نہ بنیے، اپنے بچوں کو محرومیاں نہ دیجیے۔

* اور اگر آپ کا بچپن کسی ایسے ماحول میں گزرا ہے۔ آپ کسی بچپن کی محرومی کا شکار ہیں۔ کسی بھی وجہ سے کسی نفسیاتی عارضے میں جکڑے گئے ہیں۔ خوشیاں آپ کو پرکشش نہیں لگتیں اور دکھوں میں سکون محسوس کرتے ہیں تو کسی سے اپنا آپ بانٹیے۔ اپنے جذبات احساسات اپنے اندر رکھنے کے بجائے کسی دوسرے کے ساتھ شیئر کیجیے۔ اپنے مسائل کو چھپانے کے بجائے ان کا حل ڈھونڈیے۔ اگر صرف شیئر کرنے سے مسئلہ حل نہ ہو رہا ہو تو کسی ماہر نفسیات سے وقت لیجیے۔ اپنے اوپر توجہ دیجیے۔ آپ اہم ہیں، اپنے آپ کو ضائع مت کیجیے۔

Facebook Comments HS