ہندوستان کا سفر: ریچر – جہاں اشوک نے بھی حکومت کی
ریچر : جہاں اشوک نے بھی حکومت کی
رات کا ایک بج رہا تھا۔ سب لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ میں جاگنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ میری صرف ایک ہی خواہش تھی کہ آگے آنے والے شہر ریچر کی ایک جھلک ضرور دیکھ لوں۔ ایسا کرنے کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ مجھے بڑی دیر بعد ایک ایسا علاقہ دیکھنے کا موقع مل رہا تھا جہاں اشوک کے دور میں پتھروں پر لکھی ہوئی تحریریں موجود تھیں۔ مجھے ایک دفعہ مانسہرہ جانے کا اتفاق ہوا۔ مانسہرہ شہر میں ایک جگہ کچھ پتھر موجود تھے جن پر پرانے وقتوں کی کچھ تحریریں تھیں۔ اس کے علاوہ ہمارے شمالی علاقہ جات میں بھی کئی جگہ پر اشوک کے دور کی تحریریں پائی جاتی ہے۔
اشوک کے بارے میں ہم اتنا جانتے ہیں کہ وہ موریہ خاندان کا ایک اہم فرد تھا، اس نے پورے ہندوستان پر حکومت کی۔ اس نے بدھ مت اختیار کیا اور اس کی ترویج کے لیے بے حد کام کیا۔ ریچر شہر میں اس کے دور میں پتھروں پر لکھی ہوئی تحریریں یہ بات ثابت کرنے کے لیے کافی ہیں کہ اشوک ایک وقت میں ہمارے شمالی علاقہ جات اور ہندوستان کے جنوبی علاقہ جات کا بھی حکمران تھا۔ یہ شہر دلی سے انیس سو اور حیدرآباد سے دو سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔
میرے لیے یہ چھوٹا شہر اس لیے اہمیت اختیار کر گیا کیونکہ یہ تاریخ میں بہت اہم مقام رکھتا ہے۔ اس لیے میں نے اسے رات کے وقت دیکھنے کی کوشش کی لیکن مجھے کچھ خاص نظر نہیں آیا۔ بہرحال میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے ساتھ ساتھ اس شہر کو بھی دیکھا ہے جو ہندوستان کے جنوب میں واقع ہے اور دونوں کے درمیان ہزاروں میل کا فاصلہ ہے لیکن اشوک کی لکھی ہوئی تحریریں ایک جیسی ہیں کیونکہ ان دونوں علاقوں کا حکمران ایک ہی تھا۔ اشوک بہت ہی عادل حکمران مانا جاتا تھا۔
اس علاقے کی دوسری اہم بات یہ ہے کہ یہ ان علاقوں میں شامل ہے جہاں چودہویں صدی کے آغاز میں سب سے پہلے بہمنی سلطنت کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ ڈیل ہویبرگ
Students ’Britannica India, Volumes 1-5
جو 2000 ء میں شائع ہوا کے صفحہ 240 پر لکھتے ہیں کہ 1489 ء میں پہلی مرتبہ یہ شہر بیجا پور کی ریاست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کتاب میں اس علاقے میں مسلمان حکمرانوں کی آمد اور ان کی حکمرانی کے بارے میں دلچسپ معلومات فراہم کی گئیں ہیں۔ یہ لوگ ایران سے تعلق رکھتے تھے اور سلاطین دلی کے ساتھی تھے۔ بعد ازاں انھوں نے دلی سے آ کر اس علاقے میں اپنی حکومت قائم کی۔ یہاں پر آٹھ سو سال پرانا ایک قلعہ بھی موجود ہے۔ اس قلعے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندر بے شمار زبانوں میں تحریریں لکھی ہوئی ہیں جو مقامی زبانوں کے علاوہ سنسکرت، عربی، فارسی اور اردو میں ہیں۔ جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کبھی اس علاقے پر عرب اور ایرانیوں کے ساتھ ساتھ مغل بھی حکمران تھے۔ علاقے کی خوبصورتی، کھیتی باڑی کے لیے زرخیز زمین، معتدل موسم، میٹھے پانی کے چشمے، ان کے علاوہ بہت کچھ ایسا تھا جس کی وجہ سے ہر حکمران اس علاقے پر قبضہ کر نے کی خواہش رکھتا تھا۔
اس علاقے کی خوبصورتی ہی اس کی تباہ و بربادی کا سبب بنی۔
وکاس کھتری نے
World Famous Wars and Battles
کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے جس میں دنیا بھر میں ہونے والی بڑٰی جنگوں کا حال بیان کیا گیا ہے۔ اس کتاب میں وہ 1520 ء میں ریچر میں ہونے والی ایک جنگ کا حال لکھا ہے۔ یہ جنگ کیسے شروع ہوئی اور کن کن کے درمیان لڑی گئی، یہ سب کچھ بے حد دلچسپ ہے۔
وکاس کھتری لکھتے ہیں کہ یہاں کے ایک راجہ کرشنا دیواریہ نے اپنی فوج میں کام کرنے والے ایک مسلمان جرنیل جس کا نام سید ملائکر تھا کو ایک بڑی رقم دے کر گوا میں گھوڑے خریدنے کے لیے بھیجا۔ سید صاحب یہ رقم لے کر ایک قریبی ریاست کے حاکم عادل شاہ کے پاس چلا گیا۔ اس پر راجہ بہت ناراض ہوا۔ واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ جواب میں طبل جنگ بجایا گیا اور یوں ایک جنگ ہوئی جس میں راجہ کی طرف سے سات لاکھ سے زائد سپاہی تھے اور تیس ہزار گھوڑے تھے۔
یہ جنگ ہوئی۔ ابھی ہار جیت کا فیصلہ نہیں ہوا تھا کہ راجہ بیمار ہو کر فوت ہو گیا۔ اس جنگ کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد ہندوؤں کی حکمرانی ختم ہو گئی۔ مسلمان حکمران بن گئے۔ بعد میں انگریزوں کا سکہ چلنے لگا۔ تقسیم ہند کے نتیجہ میں چھ صدیوں کی ماتحتی کے بعد ہندوؤں کو اپنے علاقے پر حکمرانی کرنے کا موقع ملا۔
آندھرا پردیش سے کرناٹک اور گلبرگہ جو مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی ہے
آندھرا پردیش کا آخری ضلع کرنول تھا اور ہم نے اس کے ایک اہم شہر اڈونی سے گزر کر ریچر سے ہوتے ہوئے یاد گر کو بھی دیکھا۔ ریچر کرناٹک کا پہلا ضلع ہے اور اس کے بعد یادگر دوسرا جب ہماری ٹرین یاد گر سے گزری اس وقت رات کے دو بج رہے تھے۔ مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں اس شہر کی روشنیوں کو ہی دیکھ لیتا لیکن اس سے متعلق مجھے جو چند معلومات ملی ہیں وہ ضرور آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
یہ علاقہ صدیوں تک ہندو راجاؤں کے ماتحت رہا۔ عادل شاہی ریاست نے 1504 ء میں اس علاقے پر قبضہ کیا اور اسے اپنی ریاست میں شامل کر لیا۔ بعد ازاں مغل حکمرانوں نے اس پر حملہ کر کے اسے صوبہ حیدرآباد کا حصہ بنا دیا۔ اس شہر میں مسلمانوں کی آبادی پندرہ فیصد کے قریب ہے لیکن شہر میں مساجد کی ایک کثیر تعداد کی وجہ سے اسے گنبدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔
یہاں پر ایک خوبصورت مسجد ہے۔ میں نے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو یہ معلوم ہوا کہ یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد مسجد ہے جس کی مثال بھارت میں نہیں ملتی۔ یہاں پر ایک ولی اللہ کا مزار بھی ہے جنہیں آنکس ولی خاں کہا جاتا ہے۔ لوگ دور دراز سے ان کے مزار پر آتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید پیر بخاری تھا، عرف عام میں انھیں آنکس خان ولی کہا جاتا تھا۔ آپ عادل شاہی ریاست کے ایک وزیر تھے۔ اور بہت ہی نیک آدمی تھے۔ ان کی درگاہ بہت مشہور ہے۔
The Jama Masjid, Gulbarga – A Blend Of Spirituality And Art Photo Credit: https://budgetindianvacations.wordpress.com
کالابراگی جو کبھی گلبرگہ تھا جو بہمنی سلطنت کا پایہ تخت بھی رہ ہے
یہ 1980 ء کی بات ہے کہ میرے آبائی شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام دارالسلام رکھنے کی تحریک شروع ہوئی۔ کچھ لوگوں نے اس کی حمایت کی اور کچھ لوگ اس کی مخالفت میں بھی سرگرم رہے۔ جو حمایت کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سکھ کا نام ہے اس لیے اسے بدلنا ضروری ہے۔ جو لوگ مخالفت میں تھے ان میں سے ایک صاحب نے دلچسپ تبصرہ کیا جو مجھے اب تک یاد ہے۔ اس نے کہا مریض کا بستر تبدیل کرنے سے مریض ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ نام کی تبدیلی کی مخالفت کرنے والے لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت میں بے شمار شہروں کے نام مسلمانوں نے رکھے ہوئے ہیں اگر ہم نے پاکستان میں ایسا کام شروع کر دیا تو ہندو یہی کریں گے اور اس سے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ تحریک ناکام ہو گئی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام تبدیل نہ کیا گیا۔ اسی عرصے میں لائلپور کا نام بدل کر فیصل آباد رکھنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب ہوئی اور اب لائل پور نہیں فیصل آباد ہے۔
اس طرح کے بے شمار واقعات بھارت میں بھی رونما ہوئے۔ جب ہم 1999 ء میں یہاں سے گزر رہے تھے، اس وقت یہاں پر ایک بہت ہی اہم شہر گلبرگہ موجود جس کا مطلب ہے پھولوں کا شہر تھا۔ یہ فارسی کا لفظ ہے۔
کرناٹکا میں 2014 ء مسلمان حکمرانوں کے رکھے گئے ناموں کو تبدیل کرنے کی ایک مہم چلی۔ مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ ہم وہی نام دوبارہ رکھیں گے جو صدیوں سے ان شہروں کے نام چلتے آئے ہیں۔ اس تحریک کے نتیجہ میں بارہ مختلف شہروں کے نام تبدیل کیے گئے جن میں گلبرگہ بھی شامل ہے۔ اب یہ گلبرگہ کی بجائے کالابراگی کہلاتا ہے۔ ان بارہ شہروں کے نئے ناموں کی فہرست دیکھ کر پتہ چلا کہ یہ نام نئے نہیں بلکہ صدیوں پرانے تھے جو مسلمانوں نے اپنے دور حکومت میں بدل دیے تھے۔
کسی کو تو بہت ہی بدلا اور کسی کو بہت کم۔ مثلاً کالابراگی جس کا مطلب پتھروں اور کانٹوں کی زمین ہے کو انھوں نے گلبرگہ میں بدل دیا۔ اس پر کرناٹکا کے لوگوں کی بہت دیر سے یہ مانگ تھی کے ان شہروں کے پرانے نام بحال کیے جائیں۔ ایک وقت آیا کہ بھارتی حکومت نے ان کا یہ مطالبہ مان لیا اور بارہ شہروں کے نام بدل دیے گئے۔ جس پر مسلمانوں نے بے حد احتجاج کیا۔ حکومت کے نزدیک یہ احتجاج قابل قبول نہ تھا اس طرح سے گلبرگہ دوبارہ کالابراگی بن گیا۔









