ضمیر فروشوں کی منڈی

لفظ ضمیر دیکھنے میں صرف چار حروف کا مجموعہ ہے مگر اس کی ساخت پر غور کریں تو یہی چار حروف بالترتیب (ض۔ م۔ ی۔ ر ) اپنا حصہ ڈالتے معلوم ہوتے ہیں۔ جب ان چاروں حروف کی بناوٹ اور ڈھانچہ پر تحقیقی نگاہ کریں تو ان کے پس منظر میں ایک عمدہ معانی ملتا ہے۔ جو اس کی اہمیت اور تاثراتی و نفسیاتی پہلووں کو سمجھنے میں معاون ہوتے ہیں۔ یہی باہم مل کر انسانی زندگی کا حقیقی، مختصر اور جامع تعارف بھی دیتے ہیں۔ اس سے مراد:
”ضامن ظرافت، مجموعہ مٹی، یاد اور روح ہے۔“
واضح ہوا کہ یہ ہمارا ضامن ہے، اس مجموعہ کی یاد دلاتا ہے کہ اے انسان تو خاک ہے اور پھر خاک میں ہی واپس لوٹ جائے گا۔ یہ اس کی یاد دلاتا ہے جو تجھ میں روح ہے وہ ایک امانت ہے جو مٹی کے پتلے میں پھونکی گئی تھی۔ روز قیامت اس کا حساب بھی ہو گا جو دنیا میں کرنے کا کہا گیا ہے۔ لہذا ضمیر مسلسل خدا کی طرف سے وہ آواز ہے جو لگاتار مجموعہ مٹی، مجموعہ ماضی، مجموعہ یاد اور مجموعہ اوقات کو بیدار کرنے میں معاونت کرتا ہے۔ اس لیے وضاحت طلب بات ہے کہ :
” اپنے ضمیر کی عدالت میں جاتے رہا کیجے۔ ایک تو وہاں فیصلے سچے ہوتے ہیں اور دوسرا وکیل کی فیس بھی نہیں ہوتی۔“
ان الفاظ پر مختصر روشنی میں قابل فکر اور قابل غور بات یہی ہے کہ انسان جب اپنے ضمیر کے ساتھ رابطہ میں رہتا ہے تو وہ اس کو یاد دہانی کرواتا ہے۔ اس حقیقت کی جو ماضی بھی تھا اور مستقبل بھی ہو گا۔ یہ ایک دستک ہے جو مفت میں ایک دم فیصلہ کر کے اس رب کائنات کے اعلیٰ تحفہ کی تصدیق بھی کرتا ہے کہ اے انسان تیری اوقات کیا ہے؟ اس کو فراموش مت کر مگر جس قوم و شخص نے اس سے لاتعلقی کی، اس کی دستک کو نہ سنا وہ ہمیشہ ذلیل ہی ہوئی۔ اس کا معیار کسی بھی زاویہ سے انسانیت سے نہیں ملتا۔ اس کا اندازہ لگانا ہو تو یہی کافی ہے :
” حرام کے پیسوں سے حلال گوشت کی تلاش کرتے ہیں۔“
جب یہ معمول زندگی بن جائے تو پھر اس قوم کے معماروں، لیڈروں حتیٰ کہ مذہب کے ٹھیکیداروں تک بھی وہی اثر پایا جاتا ہے۔ جو براہ راست ان کی گفتگو اور عمل کے تضاد سے ملتا ہے۔ ان جیسوں کا نہ ضمیر ضامن بنتا ہے اور نہ اس بات کو سننے کے لیے تیار ہوتے ہیں کہ میں مجموعہ مٹی ہوں۔ اس کے ردعمل میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ملتا ہے۔ جو ثواب کی نیت سے دوسروں کے لیے رکاوٹ بننا فخر سمجھتے ہیں۔ اداسی اور مایوسی میں کوئی فرق نہیں رکھتے۔ ماضی تو جہالت سے لبریز تھا ہی مگر میرے نزدیک حال اس سے بھی زیادہ خطرناک صورت حال اختیار کر چکا ہے۔
نام انسانی ہیں اور کام حیوانی، باتیں دیوانی سرگرمیاں شیطانی، نسل انسانی لیکن ماہر بدزبانی، دکانوں کے نام مذہبی مگر کام قسبی ہیں، کہلوانے میں تو پاکستانی، کرتوت بے ایمانی اور تو اور ظاہر میں پڑھے لکھے اور باطن فرعون۔ پھر کہتے ہیں کہ مرحوم باپ دادا اعلیٰ صنف انسانی لہذا خود تو اس راہ پر چل پڑے ہیں جو خلاف ترجمانی ہیں۔ جب ان جیسے افکار نے ڈیرے ڈالے ہو تو پھر بیچارہ ضمیر نامعلوم جگہ پر بسیرا کرنے پر مجبور ہو گیا۔ وہ نامعلوم جگہ ان کے اندر ہی موجود ہیں اور ان کو پتا نہیں۔ احمد فراز کا کہنا :
کافر کے دل سے آیا ہوں میں یہ دیکھ کر
خدا موجود ہے وہاں پر اسے پتا نہیں
اس ساری صورتحال کے عوض بیچارہ ضمیر بمشکل ان سے جان بچا کر بارگاہ خداوندی میں ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور کہا:
ابتدا بھی یوں ویراں نہ تھا
باغ بھی ایسے سنساں نہ تھا
کیا بدی نے حملہ کچھ ایسے
ورنہ آدمی، آدمی انجان نہ تھا
رب کائنات نے جواب میں کہا تیرا کام اس کو مسلسل یاد دہانی کروانا ہے۔ اس بات کا ضامن ہوا تھا کہ میں بغیر ناغہ اس ذمہ داری کو نبھاؤں گا کہ تو مجموعہ مٹی۔ تب ضمیر ایمان کے ساتھ مل کر بغیر فیس اور وقت کے ضیاع ذمہ داری سرانجام دینے لگا۔ وہ آج بھی موجود ہے پر ہمیں پتا نہیں۔ وہ ہمارے خون کی رگوں میں دوڑ رہا ہے لیکن کالے کرتوں نے زور پکڑ لیا ہے۔ ایک منٹ میں بہتر دفعہ دھڑک کر بتاتا ہے۔ خاموش طبیعت ہے مگر غلط کرنے پر اپنی رفتار تیز کر لیتا ہے۔ یہ صرف اس کو معلوم ہوتی ہے جس کے اندر اور باہر موسم یکساں روابط رکھتا ہے۔ افسوس اس جیسا اردگرد دور دور تک نظر نہیں آتا۔ مطلب بغل میں چھری اور منہ میں رام رام۔
اس رد عمل کے عوض بے ضمیری کا عالم ہر طرف اپنی چھاپ لگائے اپنے امیدوار بنانے لگا جس میں روز بروز اضافہ اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں سب سے زیادہ تعداد کالے کوٹ میں ملبوس ان صاحب اقتدار کی ہے جو بیٹھی کرسی پر بھی ایک بڑا بوجھ ہیں۔ عام طور پر کالا رنگ روشنی کو جذب زیادہ کرتا ہے۔ میرے نزدیک اب اس نے روشنی کو جذب کر کے گمنام کر دیا ہے۔ اب اندھیر ہی اندھیر ہے۔ جناب مسیح کا فرمان ہے :
” اندھا اندھے کو راہ دکھائے گا تو دونوں گڑے میں گریں گے۔“
ان کے جسموں، ذہنوں میں اتنا بسیرا ہو چکا ہے کہ ان کے نزدیک سب ٹھیک ہے۔ خدا کے لیے اس کو سمجھو :
” گناہ کو گناہ نہ سمجھنا سب سے بڑا گناہ ہے۔“
اب تو یہ منڈی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ مثال کے طور پر دانہ منڈی، سبزی منڈی، فروٹ منڈی اور جانوروں کی منڈی وغیرہ۔ جہاں بولی لگا کر خریدوفروخت کی جاتی ہے۔ یہاں پر بھی کوئی فرق نہ ہے۔ 25 اپریل 2022 کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بقول :
” ہماری عدالتوں میں انصاف بولیوں کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔
نومبر 2021 میں پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے کہا:
” ہمارے ملک میں چوری اور کرپشن کو گناہ نہیں سمجھا جاتا۔“
13 جنوری 2022 کو نون لیگ کی راہنما عظمیٰ بخاری نے کہا:
” انصاف کی فراہمی میں پاکستان 128 نمبر پر جا چکا ہے۔ “
مطلب تو صاف ہے کسی شک کی گنجائش اب باقی نہیں ہے۔ میرے استاد محترم جناب ڈاکٹر اشفاق احمد ورک کہتے ہیں :
پاکستان زمینوں کی وجہ سے نہیں بلکہ کمینوں کی وجہ سے غریب ہے۔ ”
جو دن بدن ضمیر فروشوں کی منڈی میں اضافہ کیے جا رہا ہے۔

