بنگلادیش میں کیا ہو رہا ہے؟


‎مسلسل چوتھی دفعہ اقتدار میں آنے کے لیے شیخ حسینہ حکومت ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں، غیرقانونی گرفتاریوں اور ریاستی تشدد میں ملوث ہے یاد رہے کہ بنگلادیش میں اپوزیشن پارٹیز کو عام انتخابات میں حصہ لینے کا حق نہیں ہے اور ان میں سے بڑی پارٹیوں کو کالعدم قرار دے دیا گیا ہے۔

‎آئندہ آنے والے انتخابات کے تناظر میں شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ کی حکومت نے اپوزیشن جماعتوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن ایک دفعہ پھر شروع کر دیا ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق حزب اختلاف بشمول بی این پی اور جماعت اسلامی کے حامیوں کے خلاف کم از کم 20 ہزار مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

‎جب سے واجدہ ضیا کی بنگلادیش عوامی پارٹی (بی این پی) نے دس دسمبر کو دارالحکومت ڈھاکہ میں ریلی نکالنے کا اعلان کیا ہے، عوامی لیگ کے ارکان نے، جنہیں سیکورٹی فورسز کی حمایت حاصل ہے، نے حزب اختلاف کے اجتماعات پر حکومتی سرپرستی میں حملے شروع کر دیے۔

‎سات دسمبر کو پولیس، حکمران عوامی لیگ اور اپوزیشن کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کے دوران ایک شخص ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوئے۔ حزب اختلاف کے سینکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، بی این ہی اور جماعت اسلامی کے ہیڈ کوارٹر پر چھاپہ مارا۔

‎تیرہ دسمبر کو ، انسداد دہشت گردی کے افسران نے حزب اختلاف کی جماعت جماعت اسلامی کے سربراہ شفیق الرحمان کو ڈھاکہ میں، الزامات کی وضاحت کیے بغیر گرفتار کر لیا۔

‎یہ بھی واضح رہے کہ ریپڈ ایکشن بٹالین (راب) بنگلہ دیش کے متعدد اہلکاروں بشمول پولیس افسران کو امریکی حکومت نے اختیارات کے ناجائز استعمال اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزام میں بین الاقوامی پابندیاں عائد کی ہیں۔ یہ وہی پابندیاں ہیں جو عالمی دہشتگردوں کے خلاف عائد کی جاتی ہیں۔

بنگلادیش میں ریاستی جبر و تشدد کی صورتحال یہ ہے کہ بنگلادیش کے بیرون ملک تعینات سفیر اپنی حکومت سے منحرف ہوئے اور پناہ کی درخواستیں دی۔ اسی طرح حکومتی جبر کے شکار جج، پولیس اہلکار اور دیگر اعلی افسران ملک سے باہر جلاوطنی کی زندگیاں گزار رہے ہیں۔

Facebook Comments HS