خلا کی نہیں زمین کی فکر کریں


ابھی کچھ دن پہلے ماحولیات کی بقاء کے حوالے کوپ ستائیس نامی اجلاس منعقد ہوا۔ فی الحال تو زمین کو آلودگی سے بچانے کے لیے اس میں جو وعدے کیے گئے ہیں وہ نشتا گفتا برخواستنا کی عملی تصویر لگ رہے ہیں۔ یہاں آنے والے رہنماؤں کی باتیں اور دعوے تو بڑے خوش نماء تھے لیکن ان کے عملی اقدامات سے سے یوں لگتا ہے کہ یہ اس زمین کی بقاء کی بات نہ ہو رہی ہو کہ جس پر انسان رہ رہے ہوں کہہ جن کی زندگی کو فوری طور پر سنجیدہ نوعیت کے خطرات لاحق ہیں بلکہ کسی دور دراز کے سیارے کے حوالے سے اقدامات اٹھانے پر بحث ہو رہی ہو کہ چلو بچ گیا تو خیر ورنہ ہم تو محفوظ رہیں گے۔

اکثر ماضی کے کھنڈرات جیسے کہ موہنجو داڑو، مہر گڑھ کے کھنڈرات اور ان کی تہذیب کے خاتمے کا ذکر ہوتا ہے لیکن اس وقت خود ساری دنیا کی تہذیب و تمدن اور زندگی کے خاتمے کے حوالے سے ماہرین جو تنبیہ کرتے رہے ہیں اس پر عملی شکل اقدامات اٹھانے پر کوئی توجہ نہیں دی جا رہی۔ جبکہ دوسری طرف یہ حال ہے کہ اگر صرف پاکستان کی بات کی جائے تو چند دن قبل خبر آئی ہے کہ لاہور اور کراچی ہوا کے معیار کے حوالے سے دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے اور دوسرے نمبر پر ہیں۔

اسی کے ساتھ یہ خبر بھی آئی کہ صرف پاکستان میں سالانہ سواء لاکھ افراد کی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے قبل از وقت اموات ہو رہی ہیں۔ ابھی کل ہی چھ دسمبر کو پنجاب حکومت نے زہر آلود دھند المعروف سموگ کی وجہ سے ہفتے میں تین دن تک دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یعنی ماحولیاتی تباہی بار بار تنبیہ کر رہی ہے کہ کچھ کرو لیکن دوسری طرف کیا ہو رہا ہے؟ گاڑیوں، کارخانوں سے کالے دھوئیں اور دیگر مضر صحت کیمیائی مادوں کا اخراج اسی طرح زور و شور سے جاری ہے۔

چھوٹے چھوٹے گھروں میں دو دو تین تین گاڑیاں اور موٹرسائیکل رکھے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف امیر ملک اور افراد زمینی ماحولیات کی بقاء کی فکر کرنے کی بجائے خلاء پر جانے اور مریخ و چاند پر انسانی بستیاں بسانے کی بات کر رہے ہیں گویا کہ اگر ماحولیاتی تباہی کی وجہ سے یہ زمین رہائش کے قابل نہ رہی تو فکر نہ کریں، کچھ افراد دوسرے سیاروں پر رہائش پذیر ہو جائیں گے۔ بقول شاعر ع لے آئیں گے با زار سے دل و جاں اور۔ حالانکہ سنجیدگی سے لمحے بھر کو سوچا جائے کہ یہ کتنی بیوقوفانہ بات ہے۔

اگر ایک انسان یا چند درجن انسان کسی دور دراز کے سیارے میں جا کر آباد ہو بھی جائیں تو کون سا تیر مار لیں گے۔ اس زمین پر اربوں کی تعداد میں انسان آباد ہیں لیکن ان کی زندگیوں کی بالکل فکر نہیں اور خوب آلودگی پھیلا رہے ہیں۔ انسان یہ بھی نہیں سوچتا کہ یہ زمین کہ جس پر ہر طرح کے مزیدار پھل، سبزیاں، پودے، پھول، میوے، جھاڑیاں، ہرے بھرے درخت، چرند، پرند اور جانور اس کے استفادے کے لیے موجود ہیں، لیکن وہ مستقبل کے لیے ان کی بقاء کی خاطر کچھ کرنے کی بجائے ان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی شکل میں تباہ و برباد کرتا جا رہا ہے۔

اب ذرا سی دیر کو رک کر سوچیے کہ جس عام سی گھریلو چڑیا کی طرف کوئی نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا، کسی دوسرے سیارے پر ایک چڑیا نظر آ جائے تو وہ خوشی سے پھولے نہیں سمائیں گے اور ہر ایک کو دکھاتے پھریں گے کہ دیکھو ہم نے دوسرے سیارے پر چڑیا دریافت کر لی ہے۔ جیسے کہ اس بات پر خبروں میں اکثر خوشی کا اظہار کیا جاتا ہے کہ خلاء میں کوئی چھوٹا موٹا سا ننھا منا پودا یا سبزی اگا لی گئی ہے۔ لیکن ذرا غور سے خود سے سوال کیجئے کہ کیا وہ آسانی اور سہولت میں زمین پر اگی ہوئی چیز کی برابری کر سکتے ہیں؟

یعنی جو چیز انسان کو اس زمین پر آسانی سے اور وافر مقدار میں دستیاب ہے، وہی چیز اگر زمین سے کمتر معیار کی اور انتہائی سخت جان محنت کر کے مل جائے تو پھر وہ چیز انسان کے لیے خاص ہو جائے گی۔ جو چیز ہمارے پاس وافر مقدار میں باآسانی دستیاب ہے اس کی قدر کرنے کی بجائے اس سے زیادہ بڑھیا یا گھٹیا ایک ایسی چیز کی تلاش میں اپنے وسائل اندھا دھند خرچ کیے چلے جا رہے ہیں حالانکہ وہی اربوں ڈالر اس وقت اس سیارے کو آلودگی سے بچانے پر صرف کرنے کی ضرورت ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے کہ امیر اور صاحب حیثیت افراد اور حکومتیں فی الحال اپنے تمام تر وسائل کچھ عرصہ تک صرف زمین کی دیکھ بھال پر خرچ کرنے کو ترجیح دیتے، خلاء اور دیگر سیارے کہیں بھاگے تو نہیں جا رہے، یہ تو اربوں سالوں سے وجود رکھتے تھے اور آئندہ بھی قائم رہیں گے۔ لیکن انسان صرف پچاس سال پہلے ہی خلاء میں قدم رکھنے کے قابل ہو سکا اور وہ بھی بالکل ابتدائی حالت میں ہے۔ اور انسان کچھ عرصہ بعد بھی وہاں جا سکتا ہے۔

لیکن اگر اس زمین اور اس کی بقاء سے منسلک حساس نظاموں کی حفاظت کی سعی و جدوجہد نہ کی گئی تو اربوں انسانوں کی بقاء اور ان کی آئندہ نسلوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں۔ یہ زمین اب بھی باقی رہ سکتی ہے لیکن اس کے لیے سب کو مل جل کر جدوجہد کرنا ہو گی۔ اس وقت امیر افراد کا رویہ یہ ہے کہ بس اب یہ زمین رہائش کے قابل نہیں رہی اور اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ یعنی زیادہ تر نے اپنے ہاتھ کھڑے کر دیے ہیں۔ حالانکہ موجودہ ٹیکنالوجی نے اس حد تک ترقی نہیں کی ہے کہ کسی دوسرے سیارے پر زمین جیسی زندگی مہیا کر سکے۔

اس وقت انسان کی بقاء سے منسلک کتنے ہی ایسے حساس نظام ہیں کہ جن کی خلاء میں اب تک نقل نہیں کی جا سکی ہے۔ مثلاً خلاء میں بے وزنی کی حالت میں اب تک دو انسانوں کے درمیان جنسی تعلق قائم نہیں کیا جا سکا ہے۔ دوسرے سیاروں پر بھاری بھرکم خلائی لباس کی وجہ سے انسان اس طرح آزادانہ طور پر نقل و حرکت نہیں کر سکتا جس طرح زمین پر کرتا ہے۔ یہ شاید اسی وقت ممکن ہو پائے گا کہ جب مصنوعی طور پر کشش ثقل قائم کرنے کا آلہ ایجاد ہو گا۔

لیکن اب تک اس حوالے سے کوئی خاص پیش رفت نہیں ہو پائی ہے۔ چلیے! مریخ اور چاند پر برف کی شکل میں پانی ملنے کی تصدیق ہو گئی ہے لیکن کبھی سوچا ہے کہ وہاں اتنی ٹھنڈ میں نہر کی صورت میں پانی کا بہاؤ کیسے قائم کیا جا سکے گا؟ چلو پائپوں کی صورت میں اس پانی کی فراہمی کا کوئی بندوبست کر لیا جائے گا لیکن اس صورت میں بھی پوری پائپ لائن کو مسلسل گرم رکھنے کی ضرورت پڑے گی کیونکہ سردی سے تو پائپ لائن منجمند ہو کر پھٹ جائے گی۔ لوگ اکثر خلائی سفر کی بات کرتے ہوئے مشہور زمانہ سٹار ٹریک سیریز کی مثال دیتے ہیں لیکن یہ بھول جاتے ہیں کہ اس میں انسان اسی وقت دوسرے سیاروں پر جانے کے قابل ہوا تھا کہ جب انہوں نے دو اہم چیزیں ایجاد کیں۔ ایک روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کے قابل انجن۔ اور دوسرا فوڈ ریپلیکیٹر نامی آلہ جو ہوا میں موجود ایٹموں کی مدد سے کسی بھی طرح کے کھانے تیار کر سکتا ہے۔ اور ابھی تک ان دونوں شعبوں میں کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں ہو سکی ہے اور آئندہ چند دہائیوں تک امکان بھی نہیں ہے۔

پھر سٹار ٹریک میں یہ بھی دکھایا گیا تھا کہ ان کے روشنی کی رفتار سے سفر کرنے کے قابل انجن کی ایجاد کو محسوس کر کے ایک خلائی مخلوق آئی اور انہیں ایسی سائنسی معلومات مہیا کیں کہ دیگر شعبوں میں بھی ان کا علم ایک جست میں لاکھوں سال آگے کو پہنچ گیا۔ ابھی چند دن پہلے امریکی سائنسدانوں نے سرد گداخت کے عمل کے ذریعے بجلی پیدا کرنے کا مظاہرہ کیا ہے لیکن اسے بھی عام آدمی تک آتے آتے کم از کم تیس سال لگ جائیں گے۔ یعنی یہ کام فی الحال نہیں ہو سکتا۔ لیکن دوسری طرف اگر بڑھتی ہوئی آلودگی کو آہنی ہاتھوں سے نہ روکا گیا تو آئندہ چند دہائیوں بعد زمین پر زندگی کی بقاء ہی ممکن نہیں رہے گی۔ بقول شاعر لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزاء پائی

اب آج ہی یہ خبر پڑھی کہ فرانس کی حکومت نے ڈھائی گھنٹے سے کم کی مسافت رکھنے والے شہروں کے درمیان پروازیں ختم کرنے اور امیر افراد کے نجی طیارے رکھنے کی حوصلہ شکنی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ فرانس کے وزیر ماحولیات نے کہا کہ ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ امیر افراد توانائی اور دیگر وسائل کا ضیاع کرتے پھریں جبکہ عام افراد توانائی کے حوالے سے کمی کا شکار رہیں۔ یعنی چلئے کسی نے تو بارش کا پہلا قطرہ بننے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فیصلے کو صرف فرانس ہی نہیں، بلکہ پوری دنیا پر لاگو کیا جائے۔

Facebook Comments HS