بنوں سانحہ پر وزیر دفاع کا غیر ذمہ دارانہ اور ناقابل قبول بیان


بنوں کے محکمہ انسداد دہشت گردی کے کمپاؤنڈ میں دو روز سے جاری صورت حال کے خاتمہ پر وزیر دفاع خواجہ آصف نے تحریک انصاف اور خیبر پختون خوا حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ دو روز پہلے تحریک طالبان پاکستان کے زیر حراست دہشت گردوں نے عملے کو یرغمال بنا کر افغانستان تک راہداری فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔ تاہم طویل مذاکرات کے بعد حکومت نے یہ مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا اور خصوصی فوجی یونٹ نے کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کو ہلاک کر کے یرغمالی کارکنوں کو رہا کروا لیا۔ اس آپریشن میں دو فوجی جوان بھی شہید ہوئے ہیں۔

طویل عرصہ تک دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا اور طالبان کی حکومت قائم ہونے کے بعد بالآخر ان کے زیر اثر کام کرنے والے دہشت گرد گروہ ٹی ٹی پی کی کارروائیوں کو بھی کنٹرول کیا جائے گا۔ اور افغانستان کے ساتھ پاکستان کی سرحد محفوظ ہو جائے گی۔ کابل میں طالبان حکومت نے شروع میں پاکستان اور ٹی ٹی پی کے درمیان مفاہمت کروانے میں کردار ادا کیا لیکن ان مذاکرات کا کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔

یہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں کہ یہ مذاکرات کیوں ناکام ہوئے اور اگر افغان طالبان واقعی پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات میں سنجیدہ ہیں او ر دہشت گردوں کی سرپرستی نہ کرنے کے بارے میں دنیا سے کیے ہوئے وعدے پر عمل کرنے پر آمادہ ہیں تو تحریک طالبان پاکستان کیوں کر افغان سرزمین پر محفوظ و مامون ہے اور اس کے دہشت گرد کیوں پاکستان میں ایک بار پھر پہلے سے زیادہ شدت سے سرگرم ہوچکے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں رونما ہونے والے واقعات میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک طرف ٹی ٹی پی نے اپنی سرگرمیوں میں شدت پیدا کی ہے اور پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے تو دوسری طرف کابل حکومت پاکستان کے ساتھ معاملات کو پر امن رکھنے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھا رہی۔ افغان حکومت مسلسل پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوج کی طرف سے لگائی گئی باڑ توڑنے کی کوشش کرتی ہے بلکہ حالیہ ہفتوں میں چمن کے سرحدی علاقے میں افغان سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔

اس کے علاوہ کئی شہری زخمی ہوئے ہیں۔ افغانستان کی طالبان حکومت پاکستان داخل ہونے والے افغان شہریوں کے سرحدی کنٹرول پر بھی برافروختہ رہتی ہے۔ اور اس معاملہ میں سفارتی نرم خوئی سے معاملات طے کروانے اور افغان سرزمین سے پاکستان کی سلامتی کو لاحق اندیشوں کی تلافی کرنے کی بجائے کابل حکومت کا لب و لہجہ غیر مفاہمانہ اور درشت ہے۔

پاکستان نے گو کہ باقی ماندہ دنیا کی طرح طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے لیکن اس کے باوجود کابل میں پاکستان کا سفارتی مشن کام کر رہا ہے، افغانستان کو ضروری ترسیلات کی فراہمی بھی زیادہ تر پاکستان سے ہی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ افغانستان کی بیرونی تجارتی ضروری پوری کرنے کے لئے ڈالر بھی پاکستانی مارکیٹ ہی سے فراہم ہوتے ہیں۔ پاکستان خود زر مبادلہ کی سنگین صورت حال کا سامنا کر رہا ہے، اس کے باوجود پاکستان نے افغانستان کو ڈالروں کی فراہمی مکمل طور سے بند نہ کر کے درحقیقت طالبان حکومت کو بہت بڑی معاشی و سفارتی سہولت فراہم کی ہوئی ہے۔

اس کے برعکس سرحد پر فائرنگ، پاکستان پر الزامات اور ٹی ٹی پی کو پروان چڑھنے کا موقع فراہم کر کے افغان حکومت کھلم کھلا پاکستان کو للکار رہی ہے اور پاکستان بڑی حد تک اس صورت حال میں لاچار اور مجبور محسوس کر رہا ہے۔ حال ہی میں کابل کے پاکستانی سفارت خانے میں ناظم الامور پر قاتلانہ حملہ کی کوشش کو بھی کابل حکومت کی ناکامی اور پاکستان دشمنی کا ایک نمونہ ہی کہا جاسکتا ہے۔

اس پس منظر میں بنوں میں رونما ہونے والا سانحہ اور دہشت گردوں کی طرف سے افغانستان جانے کے لئے راہداری فراہم کرنے کا مطالبہ یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ کابل حکومت ہی درحقیقت پاکستان میں سرگرم دہشت گروہوں کی پشت پناہ ہے اور پاکستان کو اس سلسلہ میں براہ راست افغان حکومت کو ذمہ دار ٹھہرا کر اصلاح احوال کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوئتریس کے علاوہ امریکی ترجمان نیڈ پرائس نے دو ٹوک الفاظ میں بنوں سانحہ پر کابل کی طالبان حکومت کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے مطابق دوسرے ملکوں میں دہشت گردی کرنے والے عناصر پر گرفت کرے اور پاکستان پر حملے بند کیے جائیں۔ جبکہ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بنوں سانحہ کا حوالہ دیتے ہوئے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی میں پاکستان کی مدد کا عندیہ دیا ہے۔

بنوں واقعہ کسی صوبائی حکومت یا تحریک انصاف کی سابق حکومت کی ناکامی نہیں ہے کیوں کہ افغانستان کے حوالے سے گزشتہ کئی دہائیوں سے بننے والی حکمت عملی عسکری قیادت تیار کرتی رہی ہے۔ حتی کہ کابل پر قبضہ کے دوران بھی پاکستانی انٹیلی جنس کی طرف سے افغان طالبان کو تعاون فراہم کیا گیا۔ گو کہ اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان نے جوش بیان بازی میں طالبان کے ساتھ غیر معمولی اظہار ہمدردی کیا اور امریکہ سے افغانستان کے اثاثے واگزار کروانے کے لئے بھی ہر عالمی فورم پر آواز اٹھانے کی کوشش کی۔

انہوں نے گزشتہ سال کابل پر طالبان کے قبضہ کے بعد یہ اعلان بھی کیا تھا کہ ’طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں‘ ۔ یہ عین ممکن ہے کہ نظریاتی لحاظ سے عمران خان افغان طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہوں اور ان کی قیادت میں افغانستان کو دنیا میں قابل قدر مقام دلوانے کے خواہش مند ہوں۔ لیکن سابق وزیر اعظم کے خیالات اور بیانات سے قطع نظر یہ کہنا ممکن نہیں ہے کہ پاکستان کا کوئی سویلین حکمران افغانستان کے بارے میں کوئی پالیسی وضع کر کے اس پر عمل کروانے کے قابل ہے۔ یہ سچ اگر عمران خان کی حکومت پر صادق آتا ہے تو اس کا اطلاق موجودہ شہباز حکومت پر بھی ہوتا ہے۔

اس کے باوجود وزیر دفاع خواجہ آصف نے قومی اسمبلی میں ایک دہشت گرد گروہ کی کارروائی کے بعد ہونے والے فوجی ایکشن کے بارے اطلاع دیتے ہوئے خیبر پختون خوا حکومت، تحریک انصاف اور عمران خان پر الزام تراشی کرنا ضروری سمجھا۔ اس بیان کو ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے تناظر میں ضرور دیکھا جاسکتا ہے اور یہ قابل فہم بھی ہے کہ حکومتی نمائندے کسی بھی موقع پر عمران خان اور تحریک انصاف سے سیاسی حساب بے باک کرنے کو بے چین رہتے ہیں۔ لیکن ملک کے وزیر دفاع کے اس طرز عمل کو معاف نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے قومی اسمبلی کے فلور سے دہشت گردی کے ایک معاملہ میں سیاسی مخالفت کی بنیاد پر اشتعال انگیز اور افسوسناک بیان دیا ہے۔

اس موقع پر وزیر دفاع کو اس حوالے سے وسیع تر تصویر پیش کرنے کی ضرورت تھی تاکہ عوام یہ ماننے پر آمادہ ہوتے کہ شہری زندگیوں کے لئے خطرہ بننے والے عناصر کے خلاف حکومت سنجیدگی سے کارروائی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ اسی طرح افغانستان سے حالات کی درستی کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا اور اسے بنوں واقعہ میں ملوث عناصر کی گرفت کرنے اور انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا۔ یہ درست ہے کہ اس معاملہ پر ہونے والی تحقیقات میں ہی تمام تفصیلات اور پس پردہ ملوث عناصر کے بارے میں مکمل معلومات سامنے آ سکیں گی لیکن فوری طور سے افغانستان میں موجود عناصر کے ملوث ہونے کے بارے میں یہی دلیل کافی ہونی چاہیے کہ ہلاک ہونے والے دہشت گرد کسی بھی طرح افغانستان جانا چاہتے تھے۔ اگر انہیں اندیشہ ہوتا کہ افغانستان میں بھی ان کے جرائم کا حساب لیا جائے گا اور ان کی لاقانونیت کو معاف نہیں کیا جائے گا تو وہ کیوں افغانستان جانے کی خواہش کا اظہار کرتے اور پاکستانی حکام کو اس حوالے سے مجبور کرنے کی کوشش کی جاتی۔

وزیر دفاع کو قومی اسمبلی کے فلور سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی رپورٹ دیتے ہوئے ایک صوبائی حکومت اور سیاسی پارٹی کو نشانہ بنانے کی بجائے عسکری قیادت سے افغان حکمت علمی اور دہشت گرد گروہوں کے بارے میں ایکشن پلان کی تفصیلات طلب کرنی چاہئیں تھیں۔ وزیر دفاع پاک فوج کو یاد دلا سکتے تھے کہ موجودہ حالات براہ راست عسکری قیادت کی نگرانی میں تیار ہونے والی پالیسیوں کے نتیجہ میں پیدا ہوئے ہیں۔ چالیس کے دوران افغانستان اور طالبان کے حوالے سے تیار کی گئی تمام پالیسیاں ناکام ہوئی ہیں۔

اب ضروری ہے کہ سول قیادت کی سربراہی میں کوئی ایسی پالیسی بنائی جائے جو عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کی پالیسی لائن سے مطابقت رکھتی ہو۔ اس طرح ایک طرف پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانے کے نئے اور قابل عمل منصوبے پر از سر نو غور کیا جائے اور دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف دو ٹوک پالیسی اختیار کر کے سفارتی کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔

پاکستانی حکومت اگر قومی سلامتی، بین الملکی تعلقات اور دہشت گردی جیسے سنگین معاملہ میں براہ راست ذمہ داری قبول کر کے قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرے گی تو نہ تو یہ حکومت سیاسی طور سے سرخرو ہو سکے گی اور نہ ہی عوامی تحفظ کا کوئی قابل عمل منصوبہ شروع کرنے کے قابل ہوگی۔

Facebook Comments HS

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 3148 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali