سرخ کشمیر، بلیک ستمبر اور جنرل ضیا
سقوط ڈھاکہ اور سانحہ اے پی ایس ناقابل فراموش سانحات ہیں۔ انہی سانحات کی وجہ سے آپ نے یوم سیاہ اور بلیک دسمبر کا نام بھی سنا ہو گا۔ تاہم بلیک ستمبر سے اکثر پاکستانی آج بھی آشنا نہیں۔ بلیک دسمبر کی مانند بلیک ستمبر سے بھی ہمارا گہرا تعلق ہے۔ بلیک ستمبر کو اردن کے شاہ حسین کی طرف سے فلسطینیوں کے قتل عام کی یاد میں منایا جاتا ہے، یہ قتل عام ستمبر 1970 ء میں شروع ہوا اور جولائی 1971 ء میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کی کمر توڑنے کے ساتھ ختم ہوا۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ جون 1967 ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ نے عربوں کی کمر توڑ دی تھی۔ اس جنگ کے بعد فلسطینی مغربی کنارے کے بہت سے لوگ اردن بھاگ گئے تھے۔ اس ہجرت سے پہلے بھی تقریباً 650، 000 فلسطینی اردن کے اس منطقے میں آباد تھے۔ چنانچہ دنیا اس سے پہلے بھی اس علاقے کو مشرقی فلسطین کے نام سے جانتی تھی۔ اسرائیلی حکومت کی جانب سے 1948 ء میں مغربی کنارے پر قبضے کے بعد اس علاقے کا نام مشرقی فلسطین کے بجائے اردن کر دیا گیا۔ نام تو تبدیل کر دیا گیا لیکن مغربی کنارے کے دو لاکھ سے زائد نئے پناہ گزینوں کے شامل ہونے سے اردن میں مقیم فلسطینی پہلے سے زیادہ ایک بڑا اور مضبوط گروہ بن گئے۔
1959 ء میں یاسر عرفات اور خلیل الوزیر (ابو جہاد) نے فلسطین محب وطن لبریشن موومنٹ کے نام سے فتح نامی ایک تنظیم بھی بنائی، جس کا مقصد فلسطین کو گوریلا جدوجہد کے ذریعے اسرائیلی کنٹرول سے آزاد کرانا تھا۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی فلسطینی مزاحمتی تحریکیں موجود تھیں۔ یہ تنظیمیں اور تحریکیں دریائے اردن کے دوسری طرف سے اسرائیلی افواج کے خلاف گوریلا کارروائیاں کرتی رہتی تھیں۔ یہ مہاجر فلسطینی اردن میں اسی طرح آباد تھے، جس طرح ہمارے ہاں آزاد کشمیر والے کشمیری، پاکستان کے زیر انتظام علاقے میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ مہاجر فلسطینیوں کی قیادت، الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے پلیٹ فارم سے یاسر عرفات کر رہے تھے۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے اردن میں فلسطینی مہاجرین کے علاقوں کو مقبوضہ فلسطین کے علاقوں کی آزادی کے لئے ایک بیس کیمپ کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا۔
یہ صورتحال اردن کی بادشاہت کو خوفزدہ کر رہی تھی۔ خصوصاً یاسر عرفات کی بڑھتی ہوئی مقبولیت ان کے لئے ایک غیر معمولی خطرہ بن چکی تھی۔ چنانچہ 25 ستمبر کو شاہ حسین نے اردن میں مارشل لاء لگا دیا۔ دو دن تک فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اردن کی فوج کے مابین داخلی جنگ جاری رہی۔ دو دن کے بعد شاہ حسین اور یاسر عرفات کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔ ساتھ ہی جولائی 1971 ء تک اردن کے بادشاہ نے الفتح اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن کے تمام ارکان کو اردن بدر کرتے ہوئے انہیں زبردستی شام کے علاقے کی طرف جلاوطن کر دیا۔ جولائی 1971 ء میں الفتح، فلسطین لبریشن آرگنائزیشن اور اس کی بیشتر نیم فوجی فورسز کی قیادت لبنان منتقل ہو گئی۔
یہاں پر قابل ذکر یہ ہے کہ محمد ضیاء الحق ”جنگی تربیتی مشن“ کے کمانڈر کی حیثیت سے 1967 ء سے 1970 ء تک اردن میں اردنی فوجیوں کی تربیت کر رہے تھے۔ وہاں اردن کے بادشاہ کے اقتدار کو مضبوط کرنے اور ان کے مخالفین کو کچلنے کے لئے ضیاء الحق نے اپنے فرائض منصبی سے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا۔ وہ بلیک ستمبر کی کارروائیوں میں شریک ہوئے۔ چنانچہ یہ کہا جاتا ہے کہ ایک سال میں ضیاء الحق نے جتنے فلسطینی مارے، اتنے آج تک اسرائیل نے نہیں مارے۔
ایک تخمینے کے مطابق اس ایک سال میں تقریباً بیس ہزار فلسطینیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا، 1973 ء تک ضیاء الحق نے پاک فوج کے پہلے بکتر بند یونٹ کے کمانڈر کی حیثیت سے اردن میں خدمات انجام دیں۔ فلسطینیوں کے خلاف ضیاء الحق کی مثالی کارکردگی کے اعتراف میں مرحوم شاہ حسین نے بریگیڈیئر ضیاء الحق کو اردن کے اعلیٰ اعزاز ”کوکب استقلال“ سے نوازا۔ 1975 ء میں وہ پاکستان کے لیفٹیننٹ جنرل بنے۔
ذرائع کے مطابق اردن کے بادشاہ نے اپنے تجربے کی روشنی میں ذوالفقار علی بھٹو کو یہ مشورہ دیا کہ وہ ضیاء الحق کو آرمی چیف بنائیں۔ مسٹر بھٹو نے سمجھا کہ ضیاء الحق اردن کے بادشاہ کی طرح ان کی بھی مکمل تابعداری کریں گے اور ان کے مخالفین کو کچل کر رکھ دیں گے۔ چنانچہ انہوں نے 1976 ء میں آٹھ سینیئر جرنیلوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ضیاء الحق کو چیف آف آرمی اسٹاف بنا دیا۔ تجزیہ نگار اظہر سہیل کے مطابق جنرل ضیاء الحق، جنہیں بھٹو نے 8 جرنیلوں کو نظر انداز کر کے چیف آف آرمی سٹاف بنایا تھا، انھیں دن میں دو مرتبہ مشورے کے لئے بلاتے تھے اور وہ ہر دفعہ پورے ادب کے ساتھ سینے پر ہاتھ رکھ کر نیم خمیدہ کمر کے ساتھ یقین دلاتے :
سر! مسلح افواج پوری طرح آپ کا ساتھ دیں گی۔ میرے ہوتے ہوئے آپ کو بالکل فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ [1] ضیاء الحق کی دین اسلام اور شریعت کے نام پر ڈرامہ بازیوں کو دیکھتے ہوئے ایک مرتبہ پشاور میں قاضی حسین احمد کو بھی یہ کہنا پڑا کہ شریعت آرڈیننس قانون شریعت نہیں بلکہ انسداد شریعت ہے۔ [2]
اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتے ہی ضیاء الحق نے ذوالفقار علی بھٹو سے جان چھڑوانے کے لئے عدالتی کارروائی کو استعمال کیا، اس مقصد کے لئے بھٹو کے انتہائی مخالف ججز کو لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں تعینات کیا گیا، اس بات کا اعتراف جیو ٹی وی پر افتخار احمد کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس نسیم حسن شاہ نے بھی کیا تھا۔ یاد رہے کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کا تعلق ان چار ججوں سے ہے، جنہوں نے لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے بھٹو کو دی جانے والی سزائے موت کو باقی رکھا تھا۔
انٹرویو میں جسٹس صاحب کا کہنا تھا کہ بھٹو کے قتل کا فیصلہ حکومتی دباؤ کی بناء پر کیا گیا تھا۔ پنجاب کے سابق گورنر مصطفیٰ کھر نے بھٹو کے قتل کے بعد 21 مئی 1979 ء میں ڈیلی ایکسپریس لندن کو ایک بیان دیا تھا، جس کے مطابق بھٹو کو پھانسی سے قبل ہی تشدد کر کے ہلاک کر دیا گیا تھا اور پھر اس ہلاکت کو چھپانے کے لئے عدالتی کارروائی سجائی گئی اور بھٹو کی لاش کو سولی پر لٹکایا گیا۔ ان کے مطابق بھٹو پر یہ تشدد اقبالی بیان لینے کی خاطر کیا گیا تھا کہ میں نے اپنے ایک سیاسی حریف کو قتل کرایا ہے۔
اگر آپ ضیاء الحق کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کریں تو آپ دیکھیں گے کہ موصوف میکاویلی کے حقیقی معنوں میں پیروکار تھے، یا ان سے بھی کچھ آگے۔ جس کی ایک واضح مثال یہ بھی ہے کہ انھوں نے جب جونیجو حکومت برطرف کی تو کہا کہ وہ کوئی اہم کام کرنے سے پہلے استخارہ کرتے ہیں، اس لئے اسمبلی توڑنے کا جو قدم انھوں نے اٹھایا ہے، اس کے بارے میں بھی تین دن تک استخارہ کیا ہے۔ بہرحال آج کل جب آزاد کشمیر کا نام تبدیل کرنے کی بات کی جاتی ہے، مقبول بٹ جیسی شخصیات کو غدار کہا جاتا ہے، سید احمد گیلانی مرحوم اور دیگر حریت رہنماؤں کے جنازے بھی محاصرے میں ہوتے ہیں، آزاد کشمیر کو بیس کیمپ کے بجائے پاکستان کا صوبہ بنانے کی مہم چلائی جاتی ہے، یعنی الحاق کے بجائے ضم کرنے کی بات ہوتی ہے، کشمیر کو پاکستان کا اٹوٹ انگ اور شہ رگ کہنے کے بجائے متنازعہ علاقہ کہا جاتا ہے تو ایسے میں مجھے بلیک ستمبر یاد آنے لگتا ہے۔ قارئین محترم! تاریخ عبرت کے لئے ہوتی ہے، چاہے ضیاء الحق کی تاریخ ہی کیوں نہ ہو، خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو تاریخ سے عبرت حاصل کرتے ہیں، کاش ہم بھی ان خوش قسمت لوگوں میں شامل ہو سکیں۔ کاش ہم مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں سقوط ڈھاکہ، سانحہ اے پی ایس اور بلیک ستمبر کی تاریخ کو فراموش نہ کریں۔
۔
منابع
o جنرل ضیاء کے 11 سال از اظہر سہیل
o ضیاء کے آخری 10 سال از پروفیسر غفور احمد
• جنرل ضیا کے آخری دس سال از پروفیسر غفور احمد
• اور الیکشن نہ ہو سکے از پروفیسر غفور احمد
• بھٹو ضیاء اور میں از لفٹیننٹ جنرل (ر) فیض علی چشتی


