فٹ بال: سپر بیلون ڈور اور گمنام الفریڈو ڈی اشٹیفانو

فرانس کی فٹبال ٹیم اور اسپینش کلب ریال میڈرڈ کے فارورڈ کریم بینزیما کو رواں سال فٹبال کا بہترین کھلاڑی قرار دے کر انہیں بیلون ڈور ایوارڈ سے نوازہ گیا۔ یہ معروف اور قابل فخر ایوارڈ کسی بھی کھلاڑی کے پورے سال کی مجموعی کارکردگی، جو وہ اپنے ملک اور متعلقہ کلب کی جانب سے سر انجام دیتا ہے، کو مدد نظر رکھ کر دیا جاتا ہے۔
اس ایوارڈ کو دیے جانے سے قبل ایک جیوری تشکیل دی جاتی ہے جو سال بھر اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے تیس کھلاڑیوں کی ایک فہرست تیار کرتی ہے اور بعد ازاں پوائٹس کی بنیادوں پر بہترین کھلاڑی کا انتخاب کیا جاتا ہے۔
بیلون ڈور یا گولڈن بال ایوارڈ کی شروعات انیس سو چھپن کو ایک فرانسیسی نیوز میگزین ”فرانس فٹبال“ کی جانب سے کی گئی اور یہ پہلے صرف یورپی کھلاڑیوں کو دیا جاتا تھا۔ اسی لئے یہ ایوارڈ حاصل کرنے والا کھلاڑی یورپیئن فٹبالر آف دی ائر بھی کہلاتا تھا۔ تاہم انیس سو پچانوے سے یہ ایوارڈ یورپ سے باہر کسی اور ملک سے تعلق رکھنے والے ان کھلاڑیوں کو دیا جانے لگا جو یورپی کلبز کی جانب سے فٹبال کھیلتے تھے۔
جب ہم بیلون ڈور کی لسٹ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں دنیائے فٹبال کے دو عظیم نام برازیل کے پیلے اور ارجنٹائن کے ڈیگو میراڈونا نظر نہیں آتے۔ وجہ یہ تھی کہ ان دونوں مایہ ناز کھلاڑیوں کا تعلق یورپ سے نہیں تھا اور یہ اس دور میں فٹبال کھیلتے رہے جب بیلن ڈور یورپ سے باہر کے کھلاڑیوں کو ملنا شروع نہیں ہوا تھا اور اگر یہ سلسلہ تاحال جاری رہتا تو میسی، رونالڈو، نزارو اور جنوبی امریکی سے تعلق رکھنے والے دیگر نامور کھلاڑی بھی ایوارڈ حاصل کرنے والوں کی فہرست میں شامل نہ ہوتے۔
ارجنٹائن کے لیونل میسی نے اب تک سب سے زیادہ سات بار یہ ایوارڈ اپنے نام کیا۔ پرتگال کے کرسٹیانو رونالڈو پانچ بار یہ ایوارڈ جیت چکے ہیں۔ تین تین بار یہ گولڈن بال حاصل کرنے والوں میں فرانس کے میشائل پلاٹینی، نیدرلینڈز کے یوہان کراؤف اور مارکو فن بسٹن شا مل ہیں۔ وہ کھلاڑی جو دو دو بار اس ایوارڈ کے حقدار قرار پائے ان میں جرمنی کے فرانس بیکن باور، کارل ہائنز رومینیگے، برازیل کے رونالڈو، اسپین کے الفریڈو ڈی اشٹیفانو اور انگلینڈ کے کیون کیگن شامل ہیں۔ یہ ایوارڈ ایک بار حاصل کرنے والوں کی فہرست میں پندرہ کھلاڑی شامل ہیں۔
بیلون ڈور کی شروعات کرنے والی نیوز میگزین نے انیس سو نواسی کو سپر بیلون ڈور ایوارڈ دینے کا اعلان کیا۔ یہ ایوارڈ آج تک صرف ایک بار ہی دیا گیا ہے۔ اس ایوارڈ کے لیے انیس سو چھپن سے انیس سو نواسی تک بیلن ڈور حاصل کرنے والے کھلاڑیوں میں سے بہترین کھلاڑی کا انتخابات کیا جانا تھا۔ اس کام کے لیے تشکیل دی گئی جیوری نے اسپین سے تعلق رکھنے والے الفریڈو ڈی اشٹیفانو کو اس ایوارڈ کا حقدار قرار دیا۔ مقابلے میں نیدرلینڈز کے یوہان کراؤف کا نمبر دوسرا جبکہ فرانس کے میشائل پلاٹینی تیسرے نمبر پر رہے۔
قارئین نے اب تک پیلے، میراڈونا، میسی، رونالڈو، رونالڈو نزارو، رونالڈینہو، ، پلاٹینی، زیڈان، بیکن باور، پالا روسی وغیرہ کے نام تو سن رکھنے ہوں گے مگر سپر بیلون ڈور حاصل کرنے والے الفریڈو ڈی اشٹیفانو کے نام سے بہت کم لوگ واقف ہوں گے۔ تو آئیے ذرا اس کھلاڑی کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں۔
الفریڈو ڈی اشٹیفانو چار جولائی 1926 کو بیونس آئرس ارجنٹائن میں پیدا ہوئے جبکہ سات جولائی 2014 کو میڈرڈ اسپین میں ان کا انتقال ہوا۔ پہلے ارجنٹائن اور پھر کولمبیا میں کچھ عرصہ فٹبال کھیلنے کے بعد عمر کا زیادہ تر حصہ انہوں نے اسپین میں گزارا۔ یورپ میں فٹبال کھیلنے میں حائل کچھ قانونی پیچیدگیوں کی وجہ سے اشٹیفانو 1956 کو اسپین کے شہری بن گئے۔
معیاری اور جارحانہ فٹبال کھیلنے کی وجہ سے اشٹیفانو جلد ہی دنیائے فٹبال کے افق پر ابھر کر سامنے آ گئے۔ وہ جس ٹیم سے بھی کھیلے اسے چیمپیئن بنا کر ہی چھوڑا۔ چاہے وہ ارجنٹائن کی کلب ریور پلاٹے ہو ( 1945 اور 1947 ) ، کولمبیا کی بلیو بیلٹز، ( 1949 1951، 1952 اور 1953 ) یا پھر اسپین کی ریال میڈرڈ، ( 1954، 1955، 1957، 1958، 1961، 1962 1963 اور 1964 ) ۔ ان تمام سالوں کے درمیان یہ ٹیمیں بالترتیب ارجنٹائن، کولمبئین اور اسپینش چیمپیئن بنیں۔
اشٹیفانو کے پاس سپر بیلون ڈور کے علاوہ بھی ایک منفرد ریکارڈ موجود ہے۔ یہ ریکارڈ انہوں نے ریال میڈرڈ کی جانب سے کھیلتے ہوئے بنایا۔
یورپ کے مختلف ممالک کی لیگز کی چیمپئین ٹیمیں ہر سال چیمپیئنز لیگ اور یورپا لیگ میں شرکت کرتی ہیں۔ پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں ان ایونٹس کو یورپین کپ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس چیمپئین شپ کے اوائل کے پانچ ایوارڈ یکے بعد دیگرے ریال میڈرڈ نے اپنے نام کیے ۔ ( 1956، 1957، 1958 1959 اور 1960 ) کے ان مقابلوں میں اشٹیفانو نے ریال میڈرڈ کی نہ صرف نمائندگی کی بلکہ ان پانچ سالوں کے فائنل مقابلوں میں گول بھی اسکور کر کے اس کارنامے میں اپنا کردار ادا کیا۔ جو اب تک ایک منفرد ریکارڈ ہے۔
کھلاڑی کی حیثیت سے ایک باوقار کیرئیر گزارنے کے بعد اشٹیفانو نے اسپین پرتگال اور ارجنٹائن کے فٹبال کلبز کے ساتھ بطور کوچ خدمات بھی انجام دیں۔ بطور کوچ بھی انہوں نے نہ صرف بوکا جونئیر اور ریور پلاٹے کو ارجنٹائن چمپئین بنایا بلکہ ان کی قیادت میں ویلنسیا کی ٹیم اسپین کی چیمپیئن بھی بنی۔






