ہر طرف بحران ہی بحران


پنجاب کا گورنر جو کہتا ہے وہ وزیر اعلیٰ نہیں مانتا، وزیر اعلیٰ جو کہتا ہے وہ چیف سیکریٹری نہیں مانتا، چیف سیکریٹری جو کہتا وہ عدالت نہیں مانتی اور یہ سب جو کہہ رہے ہیں وہ عمران نہیں مانتا۔ پنجاب میں سیاسی بحران۔

امریکہ سے ڈالر ملتے رہے، ہم برے طالبان کو مارتے اور اندر ہی اندر اچھے طالبان کو بدستور پالتے رہے۔ حتی کہ ڈونلڈ ٹرمپ آ گیا جس نے کہا کہ یہ سب اب نہیں چلے گا۔ اچھے طالبان کو مارو اور برے طالبان کی پرورش کرو۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، سب کچھ مکس ہو گیا۔ ڈالر بھی آنا بند ہو گئے حالانکہ عمران خان امریکہ سے بانوے والا ورلڈ کپ دوبارہ جیت لایا تھا۔ پھر امریکہ افغانستان میں جنگ ہار گیا۔ ہمارے طالبان نے کابل فتح کیا اور ہم نے خود ہی سر فخر سے بلند کر لیا۔ ہم نے کابل جا کر چائے پی اور انڈیا کی افغانستان میں اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ پر پانی پھیر دینے کی ذمہ داری قبول کی۔ آج اسی افغان طالبان گورنمنٹ سے جنگ چھڑی ہوئی ہے۔ مغربی سرحد پر بھی سیکورٹی کا بحران۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت آئی تو اس نے ہمارے برے طالبان ٹی ٹی پی کے تمام جنگجو افغانستان کی جیلوں سے رہا کر دیے۔ طالبان طالبان ہی ہوتے ہیں، افغان ہوں یا پاکستانی۔ امریکہ جب افغانستان چھوڑ گیا تو طالبان کے حوصلے اور بھی بڑھ گئے۔ وہ اب کہتے ہیں کہ اگر وہ امریکہ جیسی طاقت کو شکست دے کر کابل فتح کر سکتے ہیں تو اسلام آباد کو بھی فتح کر سکتے ہیں۔ اسی ارادے سے انہوں نے پاکستان میں دہشت گردی تیز کر دی ہے۔ تھانوں پر قبضہ کر کے پولیس کو یرغمال بنا رہے ہیں۔ آج تو اسلام آباد تک آ گئے ہیں۔ اندرونی سیکورٹی کا بحران۔

شہباز شریف نے اپنے بھائی کے ”ووٹ کو عزت دو“ والے نعرے کو خاک میں ملا کر آدھی اسٹیبلشمنٹ اور ساری اپوزیشن کو ساتھ ملا کر عمران کو بڑی مشکل سے آدھی رات کو وزیر اعظم ہاؤس سے نکالا اور خود وزیر اعظم ہاؤس میں مقیم ہو گیا۔ کہتے تھے کہ ملک بچانے کی خاطر سیاست گنوا دی ہے۔ اب آٹھ ماہ گزرنے کے بعد پتہ چلا کہ کچھ بھی نہیں بچا سکے۔ شدید سیاسی بحران۔

مفتاح اسماعیل کو ہٹا کر اسحاق ڈار کو لا کر ایسا تاثر دیا گیا جیسے معیشت میں تو کوئی پرابلم ہی نہیں تھا بس مفتاح ہی دودھ اور شہد کی نہریں روک کے بیٹھا تھا۔ ظاہر ہے کہ صرف وزیر خزانہ بدلنے سے معیشت تو نہیں بدل سکتی۔ ڈالر اڑھائی سو کو چھو رہا ہے۔ مہنگائی سارے ریکارڈ توڑ چکی۔ سٹیٹ بنک روز خبردار کرتا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح کو پہنچ گئے ہیں۔ ملک بس آج ڈیفالٹ ہوا کہ کل۔ معاشی بحران۔

بجلی اور گیس ہے ہی نہیں یا گردشی قرضوں کے گرداب میں پھنسی ہیں۔ انرجی کا بحران۔
پانی تھا ہی بہت کم۔ جو ہے اسے ہم نے ہر قسم کی گندگی سے آلودہ کر دیا ہے۔ پانی کا بحران۔

جنگلات تھے ہی بہت کم، جو تھے ہم نے کاٹ کر بیچ ڈالے۔ اتنا بڑا سیلاب آیا کہ آدھے ملک کو ڈبو دیا۔ اس ایمرجنسی سے نپٹنے کے لیے کوئی وسائل تھے نہ حکومت نے دیے۔ خالی نعروں سے کام چلانے کی کوشش کی۔ نہ تو ان کروڑوں کا کچھ پتہ چلا جو عمران نے ٹی وی پر بیٹھ کر اکٹھے کیے اور نہ ہی ان دس دس روپوں کا کچھ علم ہے جو شہباز شریف موبائل فون میسج کے ذریعے جمع کر رہا ہے۔ شنید ہے کہ پانی اب بھی لاکھوں ایکڑ پر کھڑا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کا بحران۔

صرف ایک چیز ہے جو بغیر کسی رکاوٹ کے بڑھتی جا رہی ہے۔ بابائے قوم نے تو کہا تھا کہ کام، کام اور بس کام جب کہ یہ کنڈوم کی دشمن قوم ہے، ادھر بچے، بچے اور بس بچے اور بے بس مائیں۔ سب بحرانوں کی جڑ، آبادی کا بحران۔

تعلیم کا بحران، صحت کا بحران، ریلوے کا بحران، پی آئی اے کا بحران، سٹیل مل کا بحران، ہر انڈسٹری اور ہر سیکٹر میں بحران۔ کون سا بحران ہے جس کا ہمیں سامنا نہیں۔ بس ایک ڈی ایچ اے ہی ہے جو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہا ہے ورنہ تو یہی ایک لفظ ہمیں ٹھیک سے ڈیفائن کرتا ہے۔ بحران۔

Facebook Comments HS

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 366 posts and counting.See all posts by salim-malik