کامیابی کی سواری


بہت خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جنھیں سواری کرنے کے لیے آگے بڑھنے کے لیے کندھے میسر ہوتے ہیں۔ ذرا سی تعلیم ذرا سی قابلیت کے بعد وہ کندھوں پہ سوار ہوکے ایسے ایسے مقام پہ پہنچ جاتے ہیں جہاں پیدل سوار اپنی تمام محنت جد و جہد لگا کے بھی نہیں پہنچ سکتا وہ ایک مقام تک ہی رہتا ہے۔

یہ کندھے کسی کے بھی ہو سکتے ہیں۔ ابا جی کے، کسی تنظیم کے، کسی قریبی رشتے دار کے، کسی چہیتے کے، بعض عقلمند لوگ مکھن پالش کا استعمال زیادہ کرتے ہیں جس میں چاپلوسی اور لگائی بجھائی کا تڑکہ بھی لگ جائے تو کندھے خود جھک کے انہیں بلندی پہ بٹھا لیتے ہیں۔ مگر یہ طریقہ کار زیادہ دیر نہیں چلتا کیونکہ مکھن پالش + بمباری + لگائی بجھائی = چمچہ۔ یہ فارمولا کافی قدیم ہے اور اس پر عمل کرنا ہر ایک کے بس کی بات بھی نہیں اس میں صرف وہی کامیاب ہوتا ہے جسے اس فارمولے کا درست استعمال آتا ہو۔

کہ کب اور کس جگہ مکھن یا کس جگہ صرف ہلکی سی چنگاری پہ ہی گزارا ہو جاتا ہے، اس فارمولے کے استعمال والے بڑے ذہین ہوتے ہیں اور اپنی تمام تر ذہانت صرف اس فارمولے کی کامیابی پر ہی لگا رہے ہوتے ہیں اور بعض اوقات اسی فارمولے کا شکار ہو کر ان کا کوئی چمچہ ان کو کندھے سے اتارنے کا باعث بنتا ہے۔ اسی لیے بہت جلدی یہ اس مقام پہ آ جاتے ہیں جہاں سے صرف شروعات کی ہوتی ہے۔

دوسرا سب سے اہم کندھا ہوتا ہے تنظیمی کندھا؛

یہ کندھے کافی دیر پا ہوتے ہیں اور لوگ سالہا سال ان کندھوں پہ سوار ہو کہ آرام سے بڑی بڑی مراعات حاصل کرلیتے ہیں بعض عاجز و انکسار لوگ صرف نوکری تک ہی کا لالچ رکھتے ہیں اور تنظیم سے جڑے رہتے ہیں اگر تنظیم کی خاطر ٹھڈے ڈنڈے کھا لیے تو پھر وارے نیارے ہو جاتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہ تنظیم کا پھر۔ چلیں چھوڑیں اب کہاں تک انسان بولے۔

سب سے اعلی اور ارفع کندھے ہوتے ہیں ابا جی کے وہ انسان سب سے زیادہ خوش نصیب ہوتا ہے جسے ابا جی کے کندھے میسر ہوتے ہیں کیونکہ اسے اترے جانے کا خوف نہیں ہوتا اور ابا جان کو بھی بیٹے کو سکھانے کی فکر نہیں ہوتی بس وہ ”مچھلی کے جائے کو تیرنا کون سکھائے“ کے مقولے کو اپنے لیے سمجھتے ہیں اور اسی پہ عمل کرتے ہیں۔

آنکھ اس وقت کھلتی ہے جب زمانہ تیزی سے ترقی کر رہا ہوتا ہے اور ذہین، فطین لوگ دماغ کی بتی گل کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو ان کو ضرورت بھی ہوتی ہے مگر ان سے ڈر بھی لگ رہا ہوتا ہے۔ ویسے بھی اگر آپ پہاڑ کی چوٹی پر بیٹھے ہیں تو سطح زمین پر نظر آنے والی ہر چیز آپ کو رینگتی ہوئی ہی نظر آتی ہے۔ مگر وہ کیا ہے نا کبھی کبھی چیونٹی بھی ہاتھی کو پٹخنے کا سبب بن جاتی ہے۔ بس یہیں پہ آ کے کندھے پہ سوار لوگوں کو احساس ہوتا ہے کہ بلندی پہ تو آ گئے ہیں مگر پیدل سوار کی مدد کے بغیر ترقی کو قائم رکھنا ممکن نہیں ہے۔

یہاں آ کے کندھے سواروں کی دو قسمیں ہو جاتی ہیں ایک وہ جو پیدل سوار کی ذہانت اور قابلیت سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ان کو ان کی قابلیت اور معیار کے مطابق مراعاتیں دیتے ہیں اور ترقی پہ ترقی کر کے اپنا کندھا مضبوط کرتے چلے جاتے ہیں۔

اور اس طرح ان کے پاس کندھوں کی تعداد زیادہ اور سوال کرنے والوں کی تعداد کم ہوتی چلی جاتی ہے مگر ہمارے یہاں ایسے لوگ آٹے میں نمک کے برابر ہوتے ہیں۔

دوسری قسم یہ ہوتی ہے ہر طرح کی چالاکی، عیاری اور مکاری کا استعمال کرتے ہیں یہ پیدل سوال کی مدد حاصل کرتے ہیں ان کی قابلیت کو استعمال کر رہے ہوتے ہیں آگے سے انہیں یہ باور کروایا جا رہا ہوتا ہے میں سب جانتا ہوں مجھے سب آتا ہے مگر مسئلہ اس زمانے میں آ گیا ہے کہ نیٹ ورک نے سب کے پول کھول دیے ہیں تو جب پیدل سوار ہاتھ میں ثبوت پکڑا کر بات کرتا ہے تو زبان سے پھول جھڑنے لگتے ہیں کیونکہ قابلیت اور ذہانت کے بغیر ابا جی کے کندھے بھی بے کار ہیں کیونکہ ابا جی نے اپنے زمانے میں اپنی محنت قابلیت کے بل بوتے پر کندھے کھڑے کر لیے تھے مگر اب دور مختلف چل رہا ہے پرانے طریقہ کار پر پر کندھے پر سوال رہنا مشکل ہی نہیں نا ممکن ہوتا جا رہا ہے خود تو گریں گے گندھے بھی ٹوٹیں گے جبھی بہت جلدی یا تو نئی نویلی کمپنی بند ہوتی ہے یا پھر سوار بدل جاتے ہیں ہنر مندی، ذہانت اور قابلیت کے دور کا آغاز ہے۔ کندھے شاید میسر بھی آ جائیں مگر فارمولے اب نئے ہی بنانے پڑیں گے۔

Facebook Comments HS