سفارش بمقابلہ قابلیت


جب ہم بات سفارش اور قابلیت کی کرتے ہیں تو جیت ہمیشہ ذہانت اور صلاحیتوں کی ہی ہوتی ہے۔ بے شک وقتی طور پر یہ نظرانداز ہو سکتی ہے کیونکہ آج کل دیکھا یہ جاتا ہے کہ جتنی بڑی سفارش ہوتی ہے اتنے ہی زیادہ مواقع ملتے ہیں لیکن مشاہدے میں یہ بھی آتا ہے کہ ان مواقعوں کی مدت انتہائی مختصر ہوتی ہے۔

اگر ہم موجودہ حالات کے تناظر میں بات کریں جہاں بے روزگاری اپنے عروج پر ہے۔ مہنگائی نے سب کی کمر توڑ رکھی ہے۔ جہاں غریب بے چارے کو ایک وقت کی پیٹ بھر کر روٹی بھی میسر نہیں ہے وہیں متوسط طبقہ بھی اسی چکی میں پس رہا ہے۔ بلاشبہ ہم اس وقت مشکل دور سے گزر رہے ہیں جہاں بنیادی ضروریات تک پورا کرنا ناگزیر ہوتا جا رہا ہے۔

زندگی کا کوئی بھی شعبہ یا ادارہ اٹھا کر دیکھ لیں۔ وہ سفارش ’رشوت‘ بے ایمانی و بد دیانتی کی تصویر پیش کرے گا۔ ان نا انصافیوں اور بے توجہی کی وجہ سے مستحق لوگ نہ صرف پریشان ہیں بلکہ ڈپریشن کا بھی شکار ہوتے جا رہے ہیں۔

جہاں سب مالی طور پر تنگ ہیں وہیں ہر بندے کی شدید خواہش اور کوشش ہے کہ وہ اتنا ضرور کما لے جس سے کم ازکم بنیادی ضروریات آرام سے پوری ہو سکیں۔ اسی کوشش میں سب سڑکوں کی خاک چھانتے نظر آتے ہیں۔ ملکی حالات کی وجہ سے اچھی نوکری حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے برابر ہو گیا ہے۔ پھر ہمارے ہاں پرچی سسٹم رائج ہونے کی وجہ سے قابل بندہ نظرانداز ہو جاتا ہے۔ ڈگریوں کی فائل ہاتھ میں لئے گھومتے ہیں لیکن کوئی مناسب سفارش نہ ہونے کی وجہ سے انھیں پس پشت ڈال دیا جاتا ہے۔ حتٰی کہ موقع تک فراہم نہیں کیا جاتا کہ وہ اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا سکیں۔ بس دیکھا جاتا ہے تو صرف یہ کہ آپ کے ہاتھ میں کس کے نام کی پرچی ہے اور وہ حوالہ ہمارے کتنے کام آ سکتا ہے۔

اکثر نوکریاں رشتہ داروں اور کوٹہ سسٹم کی بنیاد پر دی جاتی ہیں یا وہ صوبائی تعصب کا نشانہ بن جاتی ہیں۔ بڑے بڑے اداروں میں کب مواقع آتے ہیں اور کب ان پر بھرتیاں ہو جاتی ہیں کسی کو معلوم نہیں ہوتا اور بعض دفعہ اشتہار صرف خانہ پوری کے لئے دیا جاتا ہے جبکہ تعیناتیاں پہلے ہی ہو جاتی ہیں۔ پڑھے لکھے افراد بے روزگاری کا شکار ہو جاتے ہیں جبکہ کم پڑھے لکھے لوگ سفارش کے بل بوتے پر نوکری یا پوزیشن حاصل کر لیتے ہیں اور اس طرح ایک حقدار قابلیت ہونے کے باوجود پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ وہ زمینی حقائق ہیں جن سے ہم منہ نہیں موڑ سکتے۔

آج کا دور تو وہ ہے جہاں ہم بات شروع کرنے سے پہلے پوچھتے ہیں کہ آپ کیا کرتے ہیں۔ تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ کس کو کتنی اہمیت دینی ہے۔ بات یا تعلق آگے بڑھانا ہے یا نہیں۔ حتٰی کہ رشتہ دار ’دوست و احباب بھی انھی سے تعلق رکھنا پسند کرتے ہیں جس کے پاس اچھی نوکری‘ گھر اور گاڑی ہو۔ چونکہ وقت بدل گیا ہے لہٰذا موبائل اور برانڈڈ کپڑے ’جوتے اور ہینڈ بیگ وغیرہ بھی دیکھا جاتا ہے۔ قصہ مختصر لوگ آپ کو اسٹیٹس کے مطابق بھاؤ دیتے ہیں۔

بے شک ہمارے ملک میں جنگل کا قانون نافذ ہے۔ لیکن مایوسی کے اس عالم میں کہیں نہ کہیں ہمیں جگنو ٹمٹماتا ہوا نظر آتا ہے تو امید کی کرن جاگ جاتی ہے۔ دل کو تسلی ہوتی ہے کہ قابل اور پڑھے لکھے لوگ بھی اچھے عہدے پر فائز ہیں اور ہمارا ملک ابھی بھی محفوظ ہاتھوں میں ہے۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ قابلیت یا ذہانت اپنی جگہ خود بنا لیتی ہے۔ اگر کسی میں صلاحیتیں موجود ہیں تو وہ کہیں نہ کہیں کامیابی حاصل کر لے گا یا اپنی منزل تک پہنچ جائے گا۔

ہمیں معاشرے کی بد نظامی سے دل خراش نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی مایوسی کا راستہ اپناتے ہوئے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ جتنی محنت ہم دوسرے ممالک میں کرتے ہیں اگر ویسی اپنے گھر میں کر لیں تو ہم انقلاب لا سکتے ہیں اور اس سسٹم کو اپنے عمل سے بہتر بنا سکتے ہیں۔

محنت ’لگن‘ ہمت و حوصلہ اور مستقل مزاجی وہ گر ہیں جو کامیابی کا کٹھن راستہ طے کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ شارٹ کٹ سے وقتی فائدہ تو حاصل ہو سکتا ہے لیکن دور رس نتائج حاصل نہیں ہوتے۔ آخر میں کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جن میں ٹیلنٹ ہوتا ہے ’صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ وہ اپنی توانائیوں کو صحیح سمت میں استعمال کرتے ہیں اور اپنی ذہانت کے بل بوتے پر اپنے لئے خود راستے بناتے ہیں۔

ہمیشہ یاد رکھیں کہ کسی بھی سسٹم کو چلانے کے لئے ہنرمند اور قابل انسان کی ضرورت پڑتی ہے۔ سفارش پر رکھا گیا بندہ کچھ عرصہ تو کام چلا لے گا لیکن اگر اس میں قابلیت نہیں ہے تو وہ اس سسٹم کے لئے بوجھ بن جاتا ہے۔ لہٰذا پریشان ہو کر راستہ بدلنے کی بجائے اپنی صلاحیتوں پر توجہ دیں۔ ان میں وقت کے ساتھ نکھار لے کر آئیں تاکہ آپ کامیابیاں حاصل کر سکیں اور اپنی پہچان خود بن سکیں۔

ایسا تبھی ممکن ہے جب ہم اپنی سوچ کو بدلیں ’خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر کام کریں۔ کیونکہ ہم سسٹم یا لوگوں کو نہیں بدل سکتے لیکن خود پر کام کر کے واضح اور نمایاں تبدیلی لا سکتے ہیں۔

کسی معجزے یا انہونی کا انتظار نہ کریں بلکہ اپنے لئے خود مواقع پیدا کریں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔ ہمیشہ بڑا اور مثبت سوچیں۔ وقتی فائدے کے لئے غلط راستہ استعمال نہ کریں۔

اللہ تعالٰی بھی انہی کی مدد کرتے ہیں جو عارضی سہارے تلاش کرنے کی بجائے خود اپنی مدد آپ کے تحت محنت کو ترجیح دیتے ہیں اور دوسروں کے لئے آسانیاں بانٹتے ہیں۔

Facebook Comments HS