دسمبر، یادیں، وعدے اور بے نظیر


کچھ تحریریں اک عجب سی دیوانگی کے عالم میں لکھی جاتی ہیں کہ لکھنے والے کا خود پر کہاں قابو ہو، بس اک کیفیت ہوتی ہے جو یاد کے پردے پہ کچھ منظر دکھلاتی ہے، کچھ آوازیں سناتی ہے اور واقعے یاد دلاتی ہے۔

بہت سی باتیں یادداشت کے کسی ایسے حصے میں جاگزیں ہوجاتی ہیں کہ برف پوش پہاڑ کی چوٹی کی مانند بہت دور سے بھی نمایاں نظر آتی رہتی ہیں۔

کوئی کوئی واقعہ بہت مضبوط، طاقت ور اور متاثرکن ہوتا ہے جو زیادہ تر وقت کی قید سے آزاد ہو کر اپنا سفر جاری رکھتا ہے اور روپ بدلتا رہتا ہے مگر کتنے ہی روپ دھار لے اس کا اصل اپنا وجود قائم رکھتا ہے اور یہی اس کی اصل طاقت اور اثر ہے۔

دسمبر ابھی باقی ہے،
پرانی یاد کی طرح
کسی بات کی طرح
اک خوشبو کی مانند
اک منظر کی طرح
چلو دسمبر سے
کچھ بات کرتے ہیں
پرانے دسمبر کو
اس دسمبر میں
چلو یاد کرتے ہیں
دسمبر لوٹ آیا ہے
ہماری اپنی تاریخ میں دسمبر کے کئی دن اک سرد اداسی کا استعارہ بن چکے ہیں۔
اک بار پھر دسمبر ہے اور اس کی ستائیس تاریخ۔
اک بار پھر وجد کے عالم میں قافلے ہیں اور گڑھی خدا بخش کی سمت رواں دواں۔
اک بار پھر آنکھوں سے بہتے آنسو ہیں اور جذبے کی اونچائی لیے ہوئے فلک شگاف نعرے۔
اک بار پھر دل سے اٹھتی ہوئی ٹیسیں ہیں اور غم کی کالی لہراتی چادر۔
اک بار پھر رواں دواں قدم ہیں اور نہ مٹنے والے عزم سے چمکتی انکھیں

وہ جو محبت کے خوگر ہیں ان میں سے بہت سے عام انسانوں میں سلگتے ہوئے جذبوں کی آگ ابھی بھی روشن ہے ہاں مگر کبھی کبھی سلگتے ہوئے انگاروں پہ بظاہر راکھ سی جم جاتی ہے۔

اک سلسلہ شوق ہے جس کا آغاز اک مرد بحران، قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت سے اور جان دے کر جس کی آبیاری کی شاہنواز، مرتضی اور بھٹو کی پنکی، عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے۔

بہت سی باتوں کا سلسلہ ہے کہ بند نہیں ہوتا اور کہیں نہ کہیں ہماری آنکھوں میں ان کی لہراتی اور جگمگاتی تصویریں اپنا جلوہ دکھاتی رہتی ہیں۔

ان کے لیے شاعروں نے نظموں، لکھاریوں نے مضامین، موسیقاروں نے دھنوں اور مصوروں نے شاہکاروں کو جنم دیا۔

ان کی شان میں لکھے جانے والے گیت زباں زد عام ہوئے اور گلی کوچوں میں ان کی آواز بنے۔
جب کڑا وقت انہیں بلاتا ہے
وہ سر اٹھا کر چلتے ہیں
مسکرا کر آگے بڑھتے ہیں
انہیں علم ہے حالاں کہ
آگے موت کا پھندا ہے
پر وہ کہاں گھبراتے ہیں
وہ نعرہ اونچا لگاتے ہیں
للکار کے قدم بڑھاتے ہیں
تم کتنے بھٹو مارو گے
ہر گھر سے بھٹو نکلے گا۔

عظیم انسانوں کے بہت سے خواص ہیں اور ان میں سے نمایاں کچھ ہیں : بہادری، بے باکی، قیادت اور ورثہ۔
حامی ہوں یا مخالف، پرستار ہوں یا دشمن، دوست ہوں یا ان سے شکایت رکھنے والے۔
کوئی ان کی بہادری، بے باکی، قیادت پہ سوال نہیں کرتا،

اور ان کا ورثہ تو ان کے تاریخ میں جاں دے کر امر ہو جانے والے نام ہیں، ان کی سوچ ہے اور اس ملک کے کروڑوں عوام ہیں۔

نجانے کیوں ان کے لیے گیت لکھنے اور گانے کا جی چاہتا ہے۔

اور جب ان کی یاد اور شان میں لکھے گیت گائے جاتے ہیں تو سب نے بہت سوں کو اک وجد کے عالم میں سربازار رقصاں دیکھا ہے۔

اس نے کہا تھا کہ اتنا گونجوں گا کہ صدیوں سنائی دوں گا۔

اور اس کی بیٹی نے وہ قول دہرایا تھا کہ جسم موت کی بھینٹ چڑھائے جا سکتے ہیں مگر تم سوچ کو قتل نہیں کر سکتے۔

27 اگست دو ہزار بیس کو روزنامہ جنگ میں استاد محترم سینیٹر تاج حیدر کی لکھی ہوئی یادگار تحریر : ”وعدے نبھانے والی بی بی“ کا ایک حصہ نقل کرتا ہوں :”

چند ہی ماہ قبل میری اس التجا کے جواب میں کہ ان کی جان کو بہت خطرات تھے اور وہ وطن واپسی کے بارے میں فیصلہ کرتے وقت دوبارہ سوچیں انہوں نے امریکی شاعر رابرٹ فراسٹ کی ایک لائن کا حوالہ دیا تھا۔ ”I have promises to keep“

میں اک روانی کی عجب سی کیفیت میں جناب سینیٹر تاج حیدر کے لکھے ہوئے بے نظیر بھٹو کی برسی پہ شائع ہونے والے مضمون کو کئی بار پڑھتا ہوں کہ جس کا عنوان ہے ”وعدے نبھانے والی بی بی“ اور پھر استاد محترم سے سنتا ہوں کہ یہ عجب مستانہ سا شاعرانہ عنوان کہاں سے جنم لیتا ہے : وہ کہتے ہیں کہ جب 2007ء  میں بی بی اپنے وطن واپس آنے کا ارادہ کرتی ہیں تو اور بہت سے سینیئر پارٹی رہنماؤں کی طرح وہ بھی بی بی سے بات کرتے ہیں کہ آپ مت آئیے کہ آپ کی جان کو خطرہ ہے۔ اور جانیے کہ بے نظیر بھٹو کا جواب کیا ہے۔

But I have promises to keep
مجھے وعدے نبھانے ہیں۔
کچھ لفظوں کی اک سطر
امریکن شاعر رابرٹ فراسٹ کی شہرہ آفاق نظم کا اک مصرعہ۔
But I have promises to keep
مجھے وعدے نبھانے ہیں۔
مری آنکھیں بھر آتی ہیں اور آواز گلے میں پھنس سی جاتی ہے۔
دل کے اندر اک مصرعہ ہے کہ دہرایا جاتا ہے۔
But I have promises to keep
مجھے وعدے نبھانے ہیں۔

Facebook Comments HS