دولت کا کھیل : ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں
پاکستان میں پاناما لیکس، دبئی لیکس اور آف شور کمپنیوں کے شورو غوغا سے توشہ خانے تک، دولت جمع کرنے کے نئے نئے عنوانات سامنے آرہے ہیں۔ ہماری سیاسی قیادت میں استثناء کی گنجائش کم ہی لگتی ہے، گنتی کے چند لوگ ہی بے داغ اور پارسا ہوں گے۔ انسانی نفسیات ہے کہ دنیا کی جو چیز وافر دستیاب ہو، اس کی طلب اور ہوس کم ہوجاتی ہے، لیکن مال و زر اور دولت ایسی آفت ہے کہ اس کی کثرت، اس کی طلب اور ہوس بڑھاتی چلی جاتی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر ابن آدم کو سونے سے بھری ہوئی ایک وادی عطا کردی جائے تو وہ چاہے گا کہ ایسی دوسری وادی بھی مل جائے اور اگر اسے دوسری وادی بھی عطا کردی جائے، تو وہ چاہے گا کہ اسے ایسی تیسری وادیٔ زر بھی مل جائے اور ابن آدم کا پیٹ صرف (قبر کی) مٹی ہی بھر سکتی ہے۔
ماضی کے فرعونوں، نمرودوں اور شاہوں کی داستانیں ہر سو پھیلی ہوئی ہیں اور ان کے کھنڈرات اور آثار دولت و اقتدار دنیا کی ناپائیداری کا کھلا اشتہار ہیں۔ سورۃ التکاثر میں ہے ”مال اور دولت کی ہوس نے تمہیں غفلت میں ڈال دیا حتیٰ کہ تم نے قبریں جا دیکھیں“ ۔
انسان کی اس فطری کمزوری کو اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا : ”حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں، بلکہ سینوں میں دھڑکنے والے دل بصیرت سے محروم ہو جاتے ہیں، (الحج: 46 )“ ۔
مال و دولت کی ہوس انسانی جبلت میں شامل ہے۔ اخلاقی اقدار زندہ ہوں تو انسانی زندگی میں روپیہ پیسہ کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی۔ قارون کا خزانہ اس کے کسی کام نہ آیا ’دولت کی ہوس نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔ سکندر اعظم جیسا فاتح بھی دنیا سے خالی ہاتھ ہی رخصت ہوس۔
توشہ خانے کے حوالے سے جو سامنے آ رہا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ روحانیت کے نام لیوا بھی جب ہیرے جواہرات دیکھتے ہیں تو ان کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔ تفصیلات حیران کن ہیں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عمران خان جو ہاتھ میں تسبیح لیے ریاست مدینہ پر تقاریر کرتے تھے وہ بھی ہتھیار ڈال گیا۔ خان اور بشری صاحبہ کا اس طرح ہیرے جواہرات اکٹھا کرنا ان کے مداحوں کے لیے یقیناً صدمے کا باعث ہے۔
سیاستدان لوگوں کی زندگیاں بدلنے کے لیے حکمران بنتے ہیں، گاڑیوں کی چمک سے غریب سمجھتے ہیں کہ یہ امیر لوگ ہیں۔ اپنا پیٹ یا گھر بھرنے کے بجائے ہماری زندگیاں بدلیں گے مگر حکمران بنتے ہی انھیں تحائف ملتے ہیں اور وہ دولت سمیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔ زیورات اور ہیرے جواہرات کے سیٹ تو ہر وزیراعظم اور صدر اونے پونے داموں گھر لے جاتے رہے ’لیکن یہ پہلی دفعہ ہوا ہے کہ یہ تحائف بازار میں بیچ کر پیسے ہتھیائے گئے۔
عمران کے حامی خان صاحب کو فرشتہ سمجھتے ہیں جن کے قریب سے بھی لالچ یا ہوس نہیں گزری ’لیکن اب کیا کریں سب سونے اور ہیرے جواہرات ان کے گھر سے برآمد ہو رہے ہیں۔ اگر یہ قانونی بھی ہیں، تو سوال یہ ہے کہ خان صاحب بائیس برس جدوجہد ہیرے جواہرات اکٹھے کرنے کے لیے کرتے رہے۔ خان صاحب پر پہلے کروڑوں کے تحفے بیچنے کا الزام تھا، اب بات اربوں تک جا پہنچی ہے۔ ایک اینکر نے اپنے ٹاک شو میں بتایا کہ خاں صاحب کو گلف کے ایک ملک سے 6 ارب کے تحائف ملے جن کی توشہ خانہ میں 3 کروڑ قیمت لگا کر ڈیڑھ کروڑ روپے میں ہضم کر لیے گئے۔ شاید یہ وہی تحائف ہیں جن کی بنی گالہ کے نگران انعام خاں نے تصویریں کھنچوائیں۔ 16 دسمبر کو بشریٰ بی بی کی ایک مبینہ آڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ انعام خاں کو ڈانٹ رہی ہیں کہ باہر سے گھر آنے والے تحائف کی تصاویر کیوں کھینچی گئیں؟ انعام خاں اسی جرم میں نوکری سے بھی گئے۔
مال و دولت جمع کرنے کا یہ رجحان مادیت کے باعث ہے یہ صرف ہمارے ملک میں نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بکثرت پایا جاتا ہے۔ برطانوی ادارے یو کے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل اور نیشنل کرائم ایجنسی (این سی اے ) کے مطابق ہر سال برطانیہ میں تقریباً ایک بلین پاؤنڈ مالیت کا غیر قانونی پیسہ آتا ہے، اس کالے دھن کا ایک بڑا حصہ غریب اور ترقی پذیر ممالک کے افراد کا ہوتا ہے۔ اس کی مالیت اتنی ہوتی ہے کہ اگر یہ اس ملک کے عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہو تو وہاں معاشی ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنا یا جاسکتا ہے۔
برطانیہ میں غیر قانونی رقم سے خریدی گئی جائیدادیں رجسٹرڈ تو ہیں لیکن مالکان نے اپنی شناخت مخفی رکھی ہوئی ہے۔ ان جائیدادوں کے علاوہ آف شور کمپنیاں چوری شدہ رقوم استعمال کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ یکم فروری 2018 سے حکومت برطانیہ Unexplained Wealth Orders کے قانون کی رو سے ان اثاثوں کو منجمد کر سکتی ہے جن کا خریدار ذریعہ آمدنی کا ثبوت پیش نہ کرسکے، اس کی جائیداد کو ضبط کیا جا سکے گا۔
جہاں تک Unexplained ) UWO Wealth orders) کے لاگو ہونے کے لئے تین شواہد درکار ہیں۔
اول: مالک کا سیاست سے تعلق ہو۔ یعنی وہ شخص بین الاقوامی یا اپنے ملک کی طرف سے اہم عوامی عہدہ (Public Function ) پر فائز رہا ہو۔
دوم : جس کے اثاثے اس کی آمدنی سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔
سوم: اثاثوں کی مالیت ( 50,000 ) پچاس ہزار برطانوی پاؤنڈ سے زیادہ ہو۔ اس قانون کی رو سے اس شخص کو جو اپنے مالی اثاثوں میں دانستہ غلط یا گمراہ کن اطلاعات فراہم کرے اس کو دو سال قید کی سزا دی جا سکے گی۔
ٹرانسپیرنسی کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرپٹ ترین اداروں میں پہلا نمبر پولیس، تیسرا نمبر عدلیہ اور چوتھا نمبر محکمہ تعلیم کا ہے۔ جب انسان سرکشی کی تمام حدیں عبور کرنے کی جسارت کرے اور اسے روکنے والا کوئی نہ ہو، تب اللہ تعالیٰ مجرموں سمیت گناہ گار قوم کو بھی عذاب سے دوچار کرتا ہے۔ ”اسی طرح تیرے رب کی پکڑ ہے جب وہ ظلم کی مرتکب بستیوں کو پکڑتا ہے، یقیناً اس کی پکڑ بہت ہی المناک اور سخت ہے“ سورة ہود، 102۔
کاش ہم ایسے افراد کو منتخب کیا کریں جو کہ ملکی آمدنی کا بہتر استعمال کریں اور دنیا میں ملک و قوم کا وقار بلند کریں۔ لالچ و ہوس تباہی کا ذریعہ ہے اس سے بچاؤ مادیت کے پجاریوں کے لیے اس دور میں خاصا مشکل ہے۔ بقول اقبال:
ابراہیمی نظر پیدا مگر مشکل سے ہوتی ہے
ہوس چھپ چھپ کے سینوں میں بنا لیتی ہے تصویریں


