الیکشن کے نام پہ دل ڈوبتے کیوں ہیں
زر و جواہر کے پجاری، علم و شعور اور شرافت انسانیت کے دشمن، وہ ہی لوگ ہیں جن کی دشمنی کا ہدف وہ انسانی شعور ہے جو ان کی ملوکیت اور اجارہ داری کے لئے سب سے زیادہ رسوائی کا باعث ہے۔ یہ آج بھی اس خام خیالی میں ہیں کہ ایک بار پھر سے بائیس کروڑ انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانک لیں گے۔
یہ وہ ہی لوگ ہیں جن کا ماضی، جن کے چہرے، جن کی پارسائی اور جن کے مکر و فریب کا اعمال نامہ بائیس کروڑ انسانوں کے سامنے عیاں ہے اور ریاست کا ہر عام شہری انھیں بغیر کسی شک و شبہ کے جانتا بھی ہے اور پہچانتا بھی ہے۔ پچھلے ستر سال کے بعد ان کی اجارہ داری کو سب سے زیادہ بھاری نقصان جس چیز سے پہنچا وہ قانون اور احتساب کے نام پر قائم ہونے والے ریاستی ادارے نہیں بلکہ خلق خدا کے سیاسی شعور کی وہ پختگی ہے جس نے خاندانی ملوکیت کو حیرت انگیز بھاری سیاسی نقصان سے دوچار کیا ہے۔
پورے ستر سال کے بعد رسوائے زمانہ غاصبوں کے خلاف عام لوگوں میں سر اٹھانے کا حوصلہ اور آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کی جرات کا آجانا ملکی تاریخ میں سب سے بڑی حیرت انگیز انقلابی تبدیلی ہے۔ پچھلے ستر سال سے خوفزدہ خاموشی، مایوسی اور مردگی کے سائے رہنے والے شہریوں کے اذہان کو بیداری، شعور کی روشنی اور ٹکر لینے کی ہمت دینا صرف ایک تنہا شخص عمران خان کا تاریخی انقلابی کارنامہ ہے۔ اور اس بڑی جدوجہد میں سوائے ملک کے عام شہریوں کے ملک کا کوئی ایک سیاستدان بھی عمران خان کی ہمسری کا اہل نہیں۔
جمہوریت کے نام پہ حریصان ملوکیت کے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ان کی اجارہ داری کے خلاف کوئی سر اٹھانے اور زبان ہلانے کی جرات بھی کر سکے۔ انگریزوں کے عزائم بھی اس سے مختلف نہ تھے انھوں نے بھی ہندوستان پہ ہمیشہ کے لئے جبر اور زور زبردستی کے خواب دیکھے تھے لیکن پھر جان بچا کر نکلنے جانے میں ہی عافیت سمجھی۔ انگریز بھی جارحیت اور مکر و فریب کے سارے ہنر جانتے تھے۔ لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا آج وہی انگریز جن کے تازیانوں کی وحشت زردہ آوازیں سانپوں کی پھنکار کی طرح ہندوستان کی ہواؤں میں سنائی دیا کرتی تھی۔
وہ ہی انگریز جنھوں نے کم و بیش پورے سو سال بزور جبر ہندوستان پہ حکومت کی، آج ان کی نسل اور برطانیہ کے تاج و تخت ایک ہندوستانی النسل شخص ”رشی سوناک“ کے قدموں کے نیچے ہیں۔ کس کی مجال ہے جو قدرت کے عمل میں دخل بھی دے سکے۔ آج یہ ہندوستانی شخص انگریزوں کی تقدیر کا مالک ہے۔ پورے برطانیہ کی لگام اب ایک ہندوستانی شخص کے ہاتھ میں ہے۔
اور ایک ہم ہیں کہ آج بھی انگریزوں کے سامنے کشکول اٹھا کر کھڑے ہیں۔ ہندوستان کہاں تھا اور آج کہاں پہنچ گیا۔ لیکن انگریزوں سے چھٹکارا حاصل کر کے پچھتر سال کے بعد ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم پہ وہ لوگ مسلط ہوئے جنھوں نے اپنی قوم اپنے سماج اپنے معاشرے کو پستیوں اور ذلالتوں کی جہنم میں دھکیل دیا۔ محنت کشوں کے خون اور پسینے کی کمائی پہ اپنے کاروبار مستحکم کیے ۔ وسیع و عریض بلند و بالا محل تعمیر کیے ۔ بیرون ممالک جائیدادوں کے انبار لگائے۔ زمینوں پہ ناجائز قبضوں، کرپشن، لوٹ مار، لا قانونیت اور بد دیانتی کو فروغ دیا۔ محنت کشوں کو زندگی کی خوش حالی سے، تعلیم اور شعور سے، عزت نفس سے محروم کیا ان کے بچوں کے منہ سے نوالے تک بھی چھین لئے اور جب ریاست کو کنگال کر دیا تو پھر ہاتھ میں کاسہ اٹھایا اور در در پہ صدا دینے نکل کھڑے ہوئے۔
انگریزوں کے بعد پچھلے ستر سال سے عام شہریوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہنکایا جاتا رہا۔ پہلے ڈکٹیٹر آتے رہے بعد میں سیاستدان بھی اس کار خیر میں شریک ہو گئے۔ جب، جہاں عوام کا جتنا مال بھی ہاتھ لگا سارا سمیٹ لیا۔ لیکن اب حالات پہلے کی طرح مواق نہیں رہے۔ بائیس کروڑ انسانوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کی آرزوئیں اور تمنائیں اب خاک ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ سماج میں باشعور محنت کشوں مزدوروں، عام ہنر مند پیشہ لوگوں اور نوجوان طبقے کی تعداد کروڑوں میں پہنچ چکی ہے۔ ریاست کا سب زیادہ محروم و مظلوم بھی یہ ہی طبقہ ہے۔
ان کے سادہ لوح سیدھے سادھے بزرگ تو نسلی علاقائی تعصب کے سحر میں آنکھیں بند کر کے اپنا سب کچھ سندھ اور پنجاب کے ظل الہی کے ایک اشارے پہ قدموں میں ڈال دیا کرتے تھے۔ مگر اب سندھ اور پنجاب کی نئی نسل نے سیاسی دیوتاؤں غلامی میں گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا اور معلومات کی پل پل رسائی کی سہولت نے مکر و فریب کے چہروں سے نقاب کھینچ ڈالے ہیں۔ شعور یافتہ نئی نسل کے سامنے نسلی اور علاقائی تعصب کی بھی اب کوئی اہمیت نہیں رہی۔ نسل در نسل تاج و تخت پہ قابض رہنے کی آرزو رکھنے والوں کی باتوں پہ نوجوان نسل سے ہنسی ضبط نہیں ہوتی۔
جن کے ہاتھوں میں عوام کی تقدیر ہوا کرتی تھی اب ان کی تقدیر کے فیصلے کا اختیار مظلوم عوام کے ہاتھ میں آ چکا ہے۔ اب یہ چیخ چیخ کر اپنے ایماندار ہونے کا یقین دلاتے ہیں مگر یقین کرنے والا کوئی نہیں۔ لوگ آتے ہیں، بریانی پلاؤ کھاتے ہیں اور بات کو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال کر دانتوں میں تیلیاں مارتے ہنستے مسکراتے چل دیتے ہیں۔ کوئی کوشش، کوئی حربہ، کوئی سازش، کوئی ایک بھی ویڈیو اور آڈیو لیک اپنا اثر نہیں دکھا رہی۔ نوے لاکھ پاکستانیوں کو ووٹ کی طاقت سے بھی محروم کر کے دیکھ لیا، انتظامیہ کی بھر پور معاونت اور گٹھ جوڑ کے تعاون کے باوجود ضمنی الیکشن کے نتائج آئے تو سبھی سیاسی پرہیز گار اپنا سا منہ لے کے رہ گئے۔ بے بسی اتنی کہ نہ باہر سے کچھ آس ہے نہ اپنے ملک کے لوگوں سے رحم کی امید۔
شہنشاہیت کے خواب بکھر گئے۔ خاندانی ملوکیت اور بادشاہت قصہ پارینہ گئی۔ ایک دوسرے پر غلیظ الزامات دشمن داریاں کیچڑ اچھالنا فی الحال موقوف ہے۔ زیادہ پریشانی اور ٹینشن بائیس کروڑ لوگوں کو ایک بار پھر بھیڑ بکریوں کی طرح ہانکنے کی ہے۔ لیکن مجال ہے جو کسی میں اتنی جرات ہو کہ غصے سے بھرے غضب ناک بپھرے ہوئے بائیس کروڑ کے مجمعے میں اپنا پاؤں بھی رکھ سکے۔ سب پرہیزگار دور دور کھڑے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پردہ غیب سے فرشتے مدد کو آجائیں۔
لیکن کوئی خیال کوئی دعا کوئی جادو منتر آڈیو اور ویڈیو، دھمکیاں، ہتھکنڈے، پراپیگنڈے، کوئی ایک بھی نسخہ کام نہیں آ رہا۔ دستر خوان پہ پلنے والے نمک خواروں کو کھلایا پلایا پہنایا اوڑھایا بھی اکارت ہوتا جا رہا ہے۔ عوام سے تو کوئی امید نہیں۔ آس امید اب کسی غیبی قوت سے لگائے بیٹھے ہیں مگر یہ امکان بھی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ پھر ملکی عدالتوں سے عزت و احترام اور حوصلہ افزائی ضرور مل جاتی ہے۔ لیکن نا انصافیوں اور محرومیت کی ذلتوں کے مارے ستم زدہ اور مظلوم بائیس کروڑ شہری کسی صورت بھی معاف کرنے کو تیار نہیں۔ یہ اپنا فیصلہ واضح اور علانیہ سنا چکے ہیں۔ کیا عجب وقت آیا کہ جو کبھی شاہانہ طمطراق اور جاہ جلال سے الیکشن کے میدان کو اپنی خاندانی ملکیت اور جاگیر سمجھتے تھے۔ اب الیکشن کے نام سے ہی ان کو ہول اٹھنے لگتے ہیں، اور نتائج کے تصور کی وحشت سے دل ڈوبنے لگتے ہیں۔


