افغان باڈر کشیدگی: خانہ انوری کجا باشد


محمد بن حمد انوری فارسی شاعر ہیں انہوں نے اپنی قسمت کا جو ماجرا بیان کیا تھا، وہ پاکستان کی کتھا بنتا جا رہا ہے۔

ہر بلائے کہ ز آسماں آید
گرچہ بر دیگراں قضا باشد
بہ زمیں نارسیدہ می گوید
خانہ انوری کجا باشد

یعنی جو بھی آفت آسمان سے آتی ہے، چاہے کسی کے نام کی ہو، زمین پر اترنے سے پہلے انوری کے گھر کا پتہ پوچھتی ہے۔

انوری کی طرح پاکستان بھی ایک بحران سے نجات نہیں پاتا کہ دوسری مصیبت آن کھڑی ہوتی ہے۔ پاکستان کی مغربی سرحد پر کشیدگی کا ماحول کئی جانیں لے چکا ہے، حالات سنبھلتے نظر نہیں آرہے۔

پاک افغان سرحد 2670 کلومیٹر طویل ہے، 14 اگست 1947 ء سے پہلے پاک و ہند پر برطانیہ قابض تھا، اسے ہمہ وقت یہ فکر لاحق رہتی کہ شمال مغربی سرحد پر روس کا اقتدار نہ بڑھ جائے یا افغانستان حکومت، شمال مغربی سرحدی صوبہ میں گڑبڑ پیدا نہ کرا دے۔ ان اندیشوں سے نجات کے لیے وائسرائے ہند نے والی افغانستان امیر عبدالرحمن خان سے مراسلت کی۔ ہندوستان کے وزیر خارجہ ہنری مورٹیمر ڈیورنڈر اور امیر عبد الرحمن کے مابین مستقل (نومبر 1893 ) معاہدہ ہوا۔ برطانوی ہندوستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کا تعین ڈیورنڈ لائن کے نام سے کر دیا گیا۔

قیام پاکستان کے بعد افغانستان اور پاکستان کے درمیان یہی بین الاقوامی سرحد ہے۔ پاکستان کی تمام تر کوششوں کے باوجود اس سرحد پر دوستانہ ماحول نہیں رہا، ماضی میں ظاہر شاہ ہوں یا ڈاکٹر نجیب اللہ، حامد کرزئی ہوں یا اشرف غنی اور اب طالبان یہ سبھی ڈیور نڈلائن کو بین الاقوامی سرحد ماننے سے انکاری ہیں۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں بسنے والے پختون قبائل میں بہت سے قبائل ایسے ہیں جو سرحد کی دونوں جانب آباد ہیں۔ بعض علاقوں میں گھر کا مرکزی دروازہ پاکستان میں، تو اس کا پچھلا دروازہ افغانستان میں کھلتا ہے۔ ناہموار سرحد کی وجہ سے ان علاقوں میں غیرقانونی تجارت ’آمدورفت اور سمگلنگ بھی عروج پر رہتی ہے۔

اکثر ممالک جنگ چھڑنے پر بگاڑ سے بچنے کے لیے پڑوسی ممالک کے ساتھ سرحدیں بند، یا ان پر نگرانی مزید سخت کر دیتے ہیں۔ اگر کچھ ممالک انسانی بنیادوں پر سرحدیں کھولتے بھی ہیں ’تووہ مہاجرین کو عارضی کیمپس اور بستیوں تک محدود رکھتے ہیں۔ 1979 ء میں ایران نے افغان مہاجرین، ترکیہ نے شامی مہاجرین، حالیہ یوکرین اور روس جنگ میں یوکرینی مہاجرین کو پولینڈ‘ جرمنی ’ہنگری اور رومانیہ نے بھی مخصوص علاقوں میں پناہ دی۔

پاکستان نے افغان مہاجرین کو پورے ملک میں ہر جگہ آنے جانے کی آزادی دی۔ سوویت فوجوں کے انخلاء کے بعد 1994 ء میں طالبان حکومت قائم ہوئی تو امید جاگی کہ پاکستان کی مغربی سرحد محفوظ ہو گئی ہے لیکن نائن الیون کے بعد امریکہ کے افغانستان پر حملے سے حالات یکسر بدل گئے۔

نائن الیون کے بعد طالبان حکومت کی مشکلات شروع ہوئیں اور امریکہ نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر حملہ کر دیا تو پرویز مشرف نے پاکستان کو امریکہ کا نان نیٹو اتحادی بنا دیا۔ جب افغان سفیر ملا عبد السلام ضعیف کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کیا گیا تو پاکستان سے متعلق افغان طالبان کی رائے بھی بدل گئی۔ پاکستان میں دہشت گردی کی لہر نے ہزاروں شہریوں کی جانیں لیں۔ ضرب عضب اور ردالفساد کے نام سے کیے جانے والے آپریشنز سے ملک کے حالات میں کچھ بہتری آئی اور امن بحال ہوا۔ 2017 ء میں پاکستان نے پچاس کروڑ ڈالرز سے سرحد پر دہشت گردی اور غیر قانونی تجارت روکنے کے لیے باڑ لگائی۔

2021 ء میں امریکی فورسز کے افغانستان سے انخلا اور کابل میں طالبان کی حکومت کے دوبارہ قیام پر پاکستان میں خوشی کا اظہار کیا گیا۔

پاکستان نے افغانستان میں قیام امن اور افغان مہاجرین کی باعزت واپسی کے لیے ہر عالمی فورم پر آواز اٹھائی ’اسلامی تعاون تنظیم سے اقوام متحدہ اور دوحہ مذاکرات تک‘ پاکستان نے افغانستان کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ آج بھی وہ 30 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کی میزبانی کر رہا ہے۔

طالبان حکومت کے قیام کے بعد حالیہ چمن و طورخم بارڈر پر دہشت گردی کے واقعات، نومبر میں پاکستانی ناظم الامور پر کابل میں قاتلانہ حملہ تشویش ناک امور ہیں۔ طالبان فورسز نے سرحدی باڑ کو کئی مقامات سے اکھاڑا، مرمت کی کوششوں پربھی طالبان کی طرف سے سخت مزاحمت ہو رہی ہے۔ چمن کے علاقے شیخ لعل محمد سیکٹر میں باڑ کی مرمت پر افغان فورسز نے پاکستانی شہری آبادی پر برملا مارٹر گولے اور آرٹلری سے فائر کھولا ’جس کے نتیجے میں 8 شہری شہید اور 20 سے زیادہ زخمی ہو گئے اسی طرح بنوں اور اسلام آباد کے واقعات بھی الارمنگ ہیں۔

پاکستان حالیہ سرحدی تنازع کو مقامی عمائدین ’علماء کرام اور سماجی رہنماؤں کے ذریعے حل کرنے کے لئے کوشاں ہے‘ تاہم معاملہ اس قدر آسان نہیں ہے کیونکہ جب تک افغان قیادت اور عوام کے پاکستان کے بارے میں دیرینہ تحفظات ختم نہیں ہوتے سرحد پر ناخوشگوار واقعات پیش آتے رہیں گے۔

حامد کرزئی اور اشرف غنی کے ادوار میں بھارت نے سفارتی اور انٹیلی جنس عملے اور قونصل خانوں کی تعداد میں اضافہ کر کے پاکستان مخالف ایجنڈے کو پروان چڑھایا۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را کی افغان سرزمین پر اجارہ داری تھی ’جسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا گیا۔

اگست 2021 ء میں امریکی افواج کے انخلا کے بعد نیا دور شروع ہوا، امریکی ناکامی پر بھارت اور اس کی ایجنسی را کی عملداری ختم ہوئی، تو پاکستان کی سول و عسکری قیادت نے طالبان کے دوبارہ برسراقتدار آنے پر خوشی کا اظہار کیا ’لیکن یہ خوشی عارضی ثابت ہوئی۔

پاک، افغان رنجش کا تعلق بظاہر دوطرفہ ہے ’طالبان قیادت سمجھتی ہے کہ ماضی میں ملا عمر کی حکومت کو پاکستان نے فوری تسلیم کر لیا تھا اس بار ان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا جا رہا‘ اس کے مقابلے میں پاکستان کو یہ شکایات ہیں کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ’مذاکرات میں کئی بار تعطل ہوا مگر پاکستان نے مذاکرات کی کامیابی کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ دنیا کو افغانستان کی مدد پر قائل کرنا، اسلام آباد میں او آئی سی کانفرنس میں فنڈز اکٹھے کرنا‘ کابل میں سفارت خانہ کھولنا۔ ان احسانات کا بدلہ پاکستان کو ٹی ٹی پی کے پاکستان میں منظم ہونے، اسی طرح جنوبی اور مغربی سرحد پر دراندازی کے واقعات میں تواتر کے ساتھ اضافہ کی صورت میں مل رہا ہے۔

دوطرفہ مسائل اور شکایات کی بنیادی وجہ ہماری دانست میں افغان عوام میں پائے جانے والے شکوے شکایات کو ختم کرنے کی کوشش نہ کرنا ہے۔ حربی بنیادوں پر مسائل حل کرنے کے بجائے افغانستان کو آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر دیکھنا اور اس سے مذاکرات کرنا ہے۔ سکیورٹی بندشوں کے برعکس غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے صنعت و تجارت ’معاشرتی میل جول اور عام لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔ ہمارے حکمران اور سیاسی راہنما اسے صرف لا اینڈ آرڈر کا مسئلہ سمجھتے ہیں اسی لیے اسے فوج اور پولیس کے سپرد کر رکھا ہے لیکن یہ مسئلہ نہایت گمبھیر ہے جو بھرپور سیاسی اور سفارتی کوششوں اور دونوں حکومتوں اور اداروں کے مابین ہم آہنگی لانے کا متقاضی ہے

Facebook Comments HS