بیگم نجمہ حمید کی وفات۔ ”مسلم لیگ ہاؤس“ کی ویرانی
سینیٹر نجمہ حمید کی رہائش گاہ ایف 877۔ سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی کو مسلم لیگیوں کی پناہ گاہ کی حیثیت حاصل تھی۔ سیاست کا موسم سرد ہو یا گرم جبر کا دور ہو یا مارشل لائی حکومت سینیٹر نجمہ حمید کے گھر کے دروازے ہر وقت سیاسی کارکنوں کے لئے کھلے رہتے تھے۔ پرویز مشرف کے دور میں راولپنڈی کے بڑے بڑے جغادری لیڈروں اور حویلیوں کے مکینوں نے بیگم کلثوم نواز کے لئے اپنے دروازے بند کر دیے لیکن راولپنڈی میں سینیٹر بیگم نجمہ حمید اور سینیٹر چوہدری تنویر خان اور اسلام آباد میں سینیٹر چوہدری جعفر اقبال و بیگم عشرت اشرف کی رہائش گاہوں کے دروازے بیگم کلثوم کے لئے ہمہ وقت کھلے رہتے تھے۔
سینیٹر چوہدری تنویر خان کو بیگم کلثوم نواز کے اعزاز میں ناشتہ دینے کے جرم میں دو سال سے زائد قید کاٹنی پڑی جب کہ سینیٹر بیگم نجمہ حمید اور سینیٹر جعفر اقبال بڑی دیر تک گرم پانیوں میں رہے۔ سینیٹر بیگم نجمہ حمید کا شمار بھی ان خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے نہ صرف سماجی و سیاسی شعبہ میں اپنا نام پیدا کیا بلکہ انہوں نے تحریک آزادی کشمیر کے لئے اپنے آپ کو وقف کر دیا تھا۔ ان کا گھر کشمیری رہنماؤں کی سرگرمیوں کا مرکز بنا رہا۔ سابق صدر و وزیر اعظم سردار سکندر حیات تو سینیٹر بیگم نجمہ حمید کے مستقل مہمان تھے۔
اس گھر میں تحریک کشمیر کے حوالے کشمیری رہنماؤں کے اہم اجلاس منعقد ہوتے رہے۔ ان کا گھر کشمیری رہنماؤں کا مہمان خانہ بنا رہا رہتا وہ مہمانوں کی خاطر مدارت میں مصروف رہتی تھیں بیگم نجمہ حمید کے شوہر حمید اختر کا تعلق پونچھ (مقبوضہ کشمیر ) سے تھا۔ وہ کشمیری النسل شوہر سے شادی کے بعد کشمیریوں کے رنگ میں رنگی گئیں گو ان کا تعلق جنوبی پنجاب ( ملتان) کے سید خاندان سے تھا۔ 60 سال پوٹھوہار میں گزارنے کے بعد پوٹھو ہارن بن گئیں
وہ 18 مارچ 1944 ء سید محمد شاہ کے گھر پیدا ہوئیں۔ سید محمد شاہ کی سات بیٹیاں تھیں ایک بیٹی بچپن میں ہی وفات پا گئیں بیگم نجمہ حمید چوتھے جب کہ بیگم طاہرہ اورنگ زیب پانچویں نمبر ہیں۔ اس وقت صرف بیگم طاہرہ اورنگ زیب اور بیگم ثریا بقید حیات ہیں۔ قسمت بیگم نجمہ حمید اور بیگم طاہرہ اورنگ زیب کو پوٹھوہار لے آئی دونوں پوٹھوہار کی ثقافت میں ایسی رچ بس گئیں کہ سرائیکی بولنا ہی بھول گئیں۔ بیگم نجمہ حمید کی 1962 میں شادی کشمیری النسل حمید اختر سے ہوئی جب کہ کچھ عرصہ بعد بیگم طاہرہ اورنگ زیب کی شادی بھی مری کے لینڈ لارڈ راجہ کا خان (جن کے نام سے راولپنڈی میں ڈھوک کالا خان آباد ہے۔ ) کے صاحبزادے راجہ اورنگ زیب سے ہو گئی اسے حسن اتفاق کہیے یا کچھ اور دونوں بہنوں کی رہائش گاہیں ایف بلاک سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں ایک دوسرے سے چند قدم کے فاصلے پر ہیں۔
پچھلے دو سال سے بیگم نجمہ حمید ڈیمنشیا (dementia ) کے مرض میں کیا مبتلا ہوئیں سب کچھ بھلا بیٹھیں 78 سال کی عمر میں دار فانی سے کوچ کر گئیں وہ خود تو اپنی یادداشت کھو بیٹھیں لیکن جب ان کا جنازہ اٹھا تو پورے شہر نے اس بہادر بزرگ خاتون کو یاد رکھا اور ان کو الوداع کہنے پہنچ گیا مسلم لیگی، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی سمیت زندگی ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والی قد آور شخصیات نے ان کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔
اس خاندان کی چشم و چراغ مریم اورنگ زیب، طاہرہ اورنگ زیب کی صاحبزادی ہیں۔ مریم اور نگ نے عملی سیاست میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا تو انہوں نے پنجاب اسمبلی سے خواتین کی نشست پر پارٹی ٹکٹ کے لئے درخواست کی جسے اس وقت کے پارٹی کے صوبائی صدر میاں شہباز شریف سے قبولیت نہیں ملا کہ پہلے ہی اس گھر میں دو پارٹی ٹکٹ ہولڈر ہیں۔ تیسرے کی گنجائش نہیں جب بیگم کلثوم نواز کو پتہ چلا تو انہوں نے مریم اورنگ زیب کو اپنے پاس بلا لیا وہ ہیرا شناس خاتون تھیں انہوں نے مریم اورنگ زیب کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دلوا دیا۔ مریم اورنگ زیب نے اپنی خداداد صلاحیتوں کے باعث دنوں میں نہ صرف ملکی سیاست میں نمایاں مقام پیدا کر لیا بلکہ ان کا شمار ملک کی صف اول کے مسلم لیگی لیڈروں میں ہونے لگا۔ نواز شریف کی جرات مند سپاہی کی حیثیت سے نہ صرف ان کی سوچ اور فکر کا پرچم بلند کر رکھا ہے بلکہ نواز شریف کی ذات پر حملہ آور ہونے والے یوتھیوں کو تلوار لے کر للکارتی رہتی ہیں۔ اس وقت دونوں ماں بیٹی (طاہرہ اورنگ زیب اور مریم اورنگ زیب) قومی اسمبلی کی سٹنگ ممبر ہیں۔ مریم اورنگ نے تو سیاسی میدان میں دھوم مچا رکھی ہے۔ مسلم لیگ نون کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات اور وفاقی وزیر اطلاعات کا حق ادا کر دیا ہے۔
مسلم لیگ نون کی جانب سے انصافیوں کی یلغار کے سامنے ڈٹ جانے پر مریم اورنگ زیب کا پروفائل بلند ہو گیا ہے۔ نواز شریف کے سیاسی مخالفین کے خلاف جارحانہ کردار کی وجہ سے پارٹی میں اپنا مقام پیدا کر لیا ہے۔ ان ہی صلاحیتوں کی وجہ سے نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز نے ان کو پارٹی اور حکومت ترجمان بنایا ہے۔ وہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات کی حیثیت سے حکومت کی بھرپور ترجمانی کا فریضہ انجام دے رہی ہیں۔
نجمہ حمید کا شمار راولپنڈی و اسلام آباد کی سینئر خاتون مسلم لیگی رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ وہ راولپنڈی و اسلام آباد کی غیر متنازعہ شخصیت تھیں انہوں نے پوری زندگی مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم پر سیاست کی۔ انہوں نے ابتلا کے دور میں اپنے قائد میاں نواز شریف کا ساتھ نہیں چھوڑا جب نواز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب تھے تو وہ شیخ رشید احمد کی بجائے بیگم نجمہ حمید کو میئر بنا نا چاہتے تھے۔ انہوں نے بیگم نجمہ حمید کو میئر کے لئے نامزد بھی کر دیا لیکن بیگم نجمہ حمید نے شیخ رشید احمد کی درخواست پر میئر بننے سے معذرت کر لی لیکن نواز شریف نے چوہدری شجاعت حسین کے کیمپ کا ہونے کی وجہ سے شیخ رشید احمد کو میئر نہیں بننے دیا۔ آغا عبدالرشید جیلانی کے سر تاج سجا دیا
بیگم نجمہ حمید مجھ سے بے پناہ شفقت اور پیار کرتی تھیں پارلیمنٹ کا سیشن ہو یا کوئی اور مقام جب بھی ملاقات ہوتی وہ میرا ہاتھ تھام لیتیں اور مجھ سے اپنے چھوٹے بھائی کی طرح بڑی بڑی بہن کا پیار دیتیں وہ برملا کہتیں نواز میرا لیڈر ہے تو نواز رضا میرے لیڈر کا ہم نام۔ اس نام والا ہر شخص مجھے اچھا لگتا ہے۔ لہذا نواز رضا میرا بھائی ہے۔ بیگم نجمہ راولپنڈی میں پارٹی کی پہچان تھیں۔ وہ مسلم لیگ (ن) شعبہ خواتین پنجاب کی صدر بھی رہیں۔ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد محمد نواز شریف اور ان کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کے انتہائی قریب تھیں۔ انہوں نے بیگم کلثوم نواز کی سیاسی جدوجہد ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ وہ پیدائشی مسلم لیگی تھیں وہ پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کی اہلیہ بیگم رعنا لیاقت علی خان اور بیگم فیروز خان نون کے ساتھ مسلم لیگ کے لئے خدمات انجام دیتی رہیں۔ ان کی سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں واقع رہائش گاہ پر بیگم کلثوم نظربند رہیں۔ وہ باغ و بہار شخصیت کی مالک تھیں۔ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ ان کے حسن اخلاق ہونے کی گواہی دیتی تھی۔
جب تک چوہدری شجاعت حسین مسلم لیگ (ن) میں رہے اور مسلم لیگ (ق) نہیں بنائی بیگم کلثوم نواز چوہدری شجاعت حسین کی رہائش گاہ پر قیام کرتی رہیں لیکن جب چوہدری شجاعت حسین کے راستے جدا ہو گئے تو وہ نامور مسلم لیگی چوہدری جعفر اقبال کی رہائش گاہ پر منتقل ہو گئیں بیگم عشرت اشرف ان کی حتی المقدور خدمت کرتی تھیں شیخ آفتاب حسین نے اٹک قلعہ کا محاذ سنبھال رکھا تھا۔ بیگم نجمہ حمید اور بیگم طاہرہ اورنگ زیب شریف فیملی کا حصہ ہی تھے۔ بیگم نجمہ حمید زندہ دل خاتون تھیں وہ اپنے ساتھ ہی تمام رونقیں لے کر چلی گئی ہیں۔ مرحومہ نے سوگواران میں تین بیٹے جن میں عمر حمید، رضوان حمید اور علی رضا سوگوار چھوڑے ہیں۔

