نہ چھیڑو ہمیں ہم پروٹوکول کے ستائے ہوئے ہیں


جب سرد لہجوں کی تلخیاں پی کر، مسکراہٹوں کا لبادہ اوڑھ کر کسی کی جانب حد سے زیادہ راغب ہوا جائے، تب بھی ان آٹھ الفاظ پر مشتمل یہ لفظ ”پروٹوکول“ امیدوں کی رخسار پر طعنے کا طمانچہ بن کر پڑتا ہے۔

پروٹوکول کو برادری کے الفاظ میں ”سنبھال کرنا“ کہتے ہیں۔
جو کہ عموماً ہر شخص صاحب رشتہ داری سب کی کرتے ہیں۔
ماتھے پہ ہیں یوں ترچھے بل اس قدر اپنوں کے
جیسے ”پروٹوکول“ کے سوا رہا کچھ بھی نہیں

قارئین! دور سنہری تب تک رہا جب تک نزدیکیاں چند پلوں پر مشتمل رہیں۔ یہ موبائل اور ٹیکنالوجی جیسی آفات سے دور دراز محبتوں اور چاہتوں سے رہنے والے وہ لوگ بہت خوش نصیب نکلے۔ جو قدر شناسی کے طور پر ایک دوسرے پر کیچڑ نہ اچھالتے تھے۔ مگر افسوس ہم اس دور کے باسی ہیں

جہاں لوگ قدر واجب طعنوں سے سینہ چھلنی کر دیتے ہیں۔

برادری شادی کا لڈو کھانے آئے یہ مرگ کا سالن، عقیقے کا کٹا ہو یا قربانی کا بکرا۔ ”سنبھال“ اور ”پروٹوکول“ کی دور بین کچھ لوگ ساتھ میں لاتے ہیں۔ یہ وہ دوربین ہے جو باریکیوں سے میزبان کی غلطیوں کی نشاندہی کرتی ہے۔

پہلے آتے ہیں وہ لوگ جو اپنائیت اور خلوص کو بے کنار کر کے سالن اور روٹی پر اس دوربین کو ہمکنار کرتے ہیں۔ دو سو مہمانوں کے درمیان میزبان اگر کسی بہت قریبی کو ایک بٹہ پانچ فیصد پروٹوکول دینے سے قاصر رہ جائے تو عزیز ہاتھوں میں موجود چھریاں جو گھر سے تیز کر کے لاتے ہیں (جو لاتے ہی صرف میزبان کے ناک کاٹنے کے لئے ہیں ) اس کا استعمال شروع کر دیتے ہیں اور بقیہ نناوے بٹہ پانچ فیصد کو مٹی میں ملا دیتے ہیں۔

پھر آتے ہیں وہ لوگ جن کی طرف جاؤ تو وہ یہ امید کرتے ہیں کہ ہمارے لئے کیا لائیں گے اور اگر وہ ہمارے طرف آئے تو پھر بھی وہ یہ امید کرتے ہیں کہ ہمیں کیا دیں گے۔ لین دین کی یہ سیاست جب تک چلتی رہے گی تب تک رشتوں کی رسی اس میں جھلستی رہے گی۔ حقیقت یہ کہ نہ ہم ان رسومات سے نکل سکتے ہیں اور نہ ہی نکلنا چاہتے ہیں۔ بلکہ دن بدن اس میں اپنی خوشی سے مزید دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ اور اس مادیت پسندی کی وجہ سے خلوص اور رشتے دھندلے پڑتے جا رہے ہیں۔

قصہ مختصر میں کس کس کو فریاد کروں
کوئی بتلائے گر میں کس کس کی سنبھال کروں۔

Facebook Comments HS