ہماری جامعات کے ’ویانا سرکل‘ کہاں ہیں؟


بیسویں صدی کے اوائل میں ویانا یونیورسٹی میں ’حلقہ ارباب ویانا‘ ہوا کرتا تھا جسے ’ویانا سرکل‘ کہا جاتا ہے، اس حلقے کے اجتماعات باقاعدگی سے منعقد کیے جاتے تھے جن میں اس وقت کے مایہ ناز سائنس دان، ریاضی دان، فلسفی اور ماہر سماجیات شرکت کیا کرتے تھے، یہ لوگ آپس میں مختلف موضوعات پر بحث کرتے جو خالصتاً علمی نوعیت کی ہوتی اور جن میں یہ جاننے کی کوشش کی جاتی کہ سچائی کیا ہے اور حقیقت کا ادراک کیسے ممکن ہے۔ ان مباحث کا سلسلہ تقریباً بارہ برس تک جاری رہا۔

اس دوران ویانا سرکل سے ایک تحریک کا آغاز ہوا جسے Logical Positivism یا منطقی اثباتیت کہا جاتا ہے۔ اس تحریک کا بنیادی زور اس بات پر تھا کہ بامعنی گفتگو صرف اسی صورت میں ممکن ہے اگر وہ ریاضی اور منطق کے اصولوں کی بنیاد پر ہو اور اس گفتگو میں کیے گئے دعوؤں کو کسی تجربے سے گزار کر پرکھا جا سکے، اگر کوئی دعوی ٰ، نظریہ، تھیوری، فلسفہ یا اصول اس کسوٹی پر پورا نہیں اترتا تو وہ بے معنی ہے اور محض ذہنی عیاشی کی خاطر تراشا گیا ہے۔

اس تحریک کے ماننے والوں کو مابعد الطبیعات اور الہیات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی، ان کے نزدیک اس قسم کی باتیں چونکہ کسی تجربے کی مدد سے ثابت نہیں کی جا سکتی تھیں اس لیے انہیں سائنسی اور علمی اعتبار سے درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا تھا۔ حلقہ ویانا کے جن فلسفیوں نے یہ تحریک شروع کی ان کا آپس میں بھی اس بات پر اختلاف رہا کہ کسی دعوے کی حقانیت کی کیسے پرکھا جا سکتا ہے لیکن بہرحال وہ اس بات پر متفق تھے کہ صرف وہی دعویٰ درست تسلیم کیا جا سکتا ہے جس کی تصدیق تجربے یا مشاہدے سے ممکن ہو۔

مثلاً اگر ہم کہیں کہ ’شیر لوہے کے جال میں ہے‘ تو یہ دعویٰ قابل تصدیق ہے کیونکہ کوئی بھی شخص جا کر دیکھ سکتا ہے کہ شہر لوہے کے جال میں قید ہے یا نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص یہ کہے کہ چاند پر ایک بڑھیا بیٹھی چرخا کات رہی ہے تو اس دعوے کی تصدیق ممکن نہیں الا یہ کہ نیل آرمسٹرانگ کا کوئی پوتا دوبارہ چاند پر جائے اور دیکھ کر آئے کہ بڑھیا زندہ ہے یا مر گئی!

بظاہر یہ تمام بہت منطقی باتیں ہیں مگر اس منطق کی زد میں بالآخر سائنس بھی آجاتی ہے جس پر ان فلاسفہ کا ’اعتقاد‘ تھا کیونکہ سائنسی دعوؤں کو بھی، بالآخر کسی نہ کسی مرحلے پر تجربات کا سلسلہ ختم کر کے، درست یا غلط قرار دینا ہی پڑتا ہے، یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب سائنس ایک طرح سے ’عقیدہ‘ بن جاتی ہے، جبکہ دلچسپ بات یہ ہے کہ منطقی اثباتیت کی تحریک ہر قسم کے ’عقیدے‘ کے خلاف تھی۔ اس کی مثال کوانٹم فزکس سے لیتے ہیں، اس سطح پر اب تک جو تجربات کیے جا چکے ہیں ان سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ فوٹون یا پروٹون کی مقام اور رفتار کا بیک وقت تعین کرنا ممکن نہیں، گویا کوانٹم مکینکس امکانات کی دنیا ہے جہاں ذرات غیریقینی کیفیت میں ہوتے ہیں، لیکن ’غیر یقینی‘ کیفیت کے باوجود یہ سائنس ہے اور ہم اسے تسلیم کرتے ہیں۔

ان فلاسفہ کو بھی اس بات کا ادراک تھا کہ ’سچائی‘ کے جو معیارات وہ مقرر کر رہے ہیں ان پر کل کو ان کی اپنی پیدائش کی صداقت کو پرکھنا بھی ممکن نہیں ہو گا اس لیے انہوں نے یہ رعایت دے دی کہ کسی دعوے کی سچائی کے لیے لا متناہی تجربات کرنے کی ضرورت نہیں، اگر دو چار تجربات سے نتیجہ نکل آئے تو بھی کام چل جائے گا۔ مثلاً ہم جانتے ہیں کہ کوا سیاہ رنگ کا ہوتا ہے کیونکہ ہم نے آج تک جتنے بھی کوے دیکھے وہ سب سیاہ رنگ کے تھے لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کا ہر کوا سیاہ ہوتا ہے حالانکہ ہم نے دنیا کے تمام کوے پکڑ کر چیک نہیں کیے (ویسے کچھ لوگوں کے لیے ’کاں ہمیشہ چٹا ہوتا ہے‘ ) !

ڈاکٹر رفیع الدین نے منطقی اثباتیت پر بڑی دلچسپ تنقید کی ہے، اپنے مضمون ’خودی اور منطقی اثباتیت‘ میں وہ لکھتے ہیں : ”سوال پیدا ہوتا ہے کہ منطقی اثباتیت کے حکماء کو یہ علم کیسے حاصل ہوا کہ حسی علم ہی حقائقی علم ہے۔ ما بعد الطبیعیاتی عقائد بے معنی ہیں اور علم کی آخری بنیاد تجربہ اور تصدیق ہے۔ کیونکہ اس علم کو ان حکماء میں سے کسی نے بھی سائنسی طریق تحقیق یا تجربہ سے حاصل نہیں کیا اور نہ ہی اس کو تصدیق کے عمل میں سے گزارا ہے اور نہ ہی کوئی اس کو کسی اور بنا پر حواس کے تجربات میں سے شمار کر سکتا ہے لہٰذا ان دعوؤں میں سے ہر ایک خود ایک ما بعد الطبیعیاتی عقیدہ ہے اور ان حکماء کے اپنے قول کے مطابق بے معنی ہے۔ منطقی اثباتیت کے قائلین ما بعد الطبیعیاتی عقائد کو بے معنی سمجھتے ہیں۔ لیکن خود ایسے عقائد پر ایمان رکھتے ہیں ان کا مطلب دراصل یہ ہے کہ لوگ دوسرے مابعد الطبیعیاتی فلسفوں کو چھوڑ کر صرف ان کے پیش کیے ہوئے ما بعد الطبیعیاتی فلسفہ کو تسلیم کریں۔“

ڈاکٹر صاحب کی تنقید میں وزن ہے اور اس بات میں بھی کہ سائنس کو کسی نہ کسی مرحلے پر بطور عقیدہ تسلیم کرنا پڑتا ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ سائنس اور ما بعد الطبیعات بہرحال علم کے دو علیحدہ ماخذ ہیں، مثلاً جب ہم گولی کی رفتار سے چلنے والی ٹرین میں بیٹھتے ہیں تو ہمیں یہ علم نہیں ہوتا کہ ٹرین کا انجن کیسے کام کرتا ہے مگر ہمارا سائنس پر ’عقیدہ‘ اتنا راسخ ہوتا ہے کہ ہم بے فکر ہو کر سوار ہو جاتے ہیں، لیکن اس ’عقیدے‘ کے پیچھے دراصل وہ تمام سائنسی تجربات اور ان سے اخذ کیا جانے والا ٹھوس نتیجہ ہوتا ہے جو ٹرین کی ایجاد کا موجب بنتا ہے، لہذا یہ عقیدہ ان معنوں میں عقیدہ نہیں رہتا جن معنوں میں ما بعد الطبیعاتی علم ہم سے مطالبہ کرتا ہے۔

جس منطق کا سہارا لے کر ڈاکٹر رفیع الدین نے منطقی اثباتیت کے فلسفے پر تنقید کی ہے، منطقی اثباتیت اسی منطق کی داعی تھی۔ یہ عجیب بات ہے کہ جو حکما عقل کو انسانی علم کے ذرائع کا آخری درجہ نہیں مانتے اور مابعد اطبیعات پر یقین رکھتے ہیں وہ اپنے اس دعوے کی حقانیت کو مابعد طبیعاتی علم سے حاصل ہونے والے کسی ٹھوس نتیجے کی بنیاد پر ثابت کرنے کی بجائے الٹا عقلی استدلال سے ہی کام لینے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ظاہر ہے بہت بڑا تضاد ہے۔

منطقی اثباتیت تحریک کے ایک سرکردہ رکن مورتز شلک کو اس کے شاگرد نے قتل کر دیا تھا، کہا جاتا ہے کہ مورتز شلک کا قاتل کی منگیتر سے معاشقہ تھا لیکن زیادہ تر لوگوں کا خیال ہے کہ اسے نازی جرمنی کی مخالفت پر قتل کیا گیا، یہ اور بات ہے کہ وہ نازی جرمنی یا ہٹلر کی کھلم کھلا مخالفت نہیں کرتا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب حلقہ ارباب ویانا تقریباً ٹوٹ چکا تھا اور لوگ نازیوں کے خوف سے ملک چھوڑ کر بھاگ رہے تھے۔ منطقی اثباتیت کی تحریک ساٹھ کی دہائی میں دم توڑ گئی لیکن فلسفے کی کوئی بحث بھی اس تحریک کا ذکر کیے بغیر ادھوری ہے۔

حقیقت اور سچائی کو پرکھنے کا جو معیار ان فلاسفہ نے قائم کیا، گو کہ اس میں تضادات تھے، لیکن لا محالہ آج بھی ہم منطقی بحث انہی اصولوں کی روشنی میں کرتے ہیں۔ لوگ اکثر پوچھتے ہیں کہ جن مسائل میں ہم گھرے ہیں ان کا حل کیا ہے، جواب میں ہم ہنس دیتے ہیں، چپ رہتے ہیں، آج کا کالم ایسے ہی لوگوں کے لیے ہے، آپ جس شہر میں ہیں، وہاں کی کسی یونیورسٹی یا کالج میں حلقہ احباب بنائیں جہاں بلا روک ٹوک ہر موضوع پر گفتگو ہو سکے اور ہر بات کی پڑتال کی جا سکے، خیال رہے کہ یہ حلقہ تقریری اجتماع یا سیمینار کی شکل اختیار نہ کرنے پائے ورنہ مقصد فوت ہو جائے گا۔ اگر ہماری جامعات بلا مقصد ڈگریاں بانٹنے کی بجائے علمی مباحث کے یہ ’سرکل‘ قائم کر لیں تو آئندہ چند برسوں میں ہمارے معاشرے میں جوہری تبدیلی خود بخود آ جائے گی اور پھر ہمیں آسمان سے کسی مسیحا کے اترنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ بقول جون ایلیا: ”یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو ، کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا۔“

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada