بنام مریم نواز
اسلام و علیکم :امید ہے آپ خیریت سے ہوں گی ۔ مجھے معلوم ہے آپ اپنے والد سے تین سال بعد اور بھائیوں سے چار سال بعد ملی ہیں۔ آپ نے پونے چار سال تک پاکستان میں تن تنہا عمران حکومت کی سختیاں برداشت کیں۔ شاید یہ بھی اللہ کی طرف سے آپ کی ایک آزمائش تھی کہ آپ کو ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنا پڑی۔ پچھلے دنوں میں نے خبروں میں دیکھا کہ آپ کی پوری فیملی یورپ کے ٹور پر گئی تھی۔ یہ بھی مینٹلی طور پر پرسکون ہونے کے لئے ایک اچھا اقدام تھا۔
یقیناً آپ کو ایک مدت کے بعد اپنے اہلخانہ کے ساتھ اکٹھے وقت گزار کر بہت خوشی محسوس ہو گی۔ مجھے معلوم ہے آپ بہت ویل انفارم ہیں اہلخانہ کے ساتھ مصروف ہیں آپ کو پاکستان کی صورتحال کا بھی بخوبی علم ہو گا لیکن کچھ اہم چیزوں کی طرف میں آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں۔ میں نے کچھ عرصہ قبل اپنے ایک آرٹیکل میں آپ کو ایک تجویز دی تھی کہ آپ پر ایک ٹھپا لگا ہے کہ آپ وقفے وقفے کی سیاست کرتی ہیں۔ جب آپ کی جماعت کو آپ کی ضرورت ہوتی ہے آپ کو میدان میں اتار دیا جاتا ہے جب ضرورت نہیں ہوتی آپ خاموش ہوجاتی ہیں وہ بھی اچانک ایک لمبے عرصے تک خاموش ہی رہی ہیں۔
یہ ہر گز آپ کے لئے فائدہ مند نہیں ہے۔ آپ کو اس تاثر کو ختم کرنا ہو گا کیونکہ آپ اب ایک بڑے قد کاٹھ والی سیاسی لیڈر بن چکی ہیں۔ یہاں میں آپ کے لئے سیاسی لیڈر کا لفظ اس لیے استعمال کر رہا ہوں کہ آپ نے ایک مشکل وقت میں نہ صرف اپنی جماعت کو لیڈ کیا بلکہ ایک عرصہ پوری قوم کی آواز بنی اور ان کو لیڈ کیا۔ آپ کے لئے سیاسی شخصیت کا لفظ اس لیے استعمال نہیں کیا کیونکہ آج کل اخبارات میں ہر دوسرے بندے کے ساتھ سیاسی رہنما اور سیاسی شخصیت کا لفظ متواتر سے استعمال کرنا عام رواج بن چکا ہے۔
آپ نے یہ عزت بڑی محنت سے کمائی ہے اب آپ پر لازم ہے کہ اس عزت کو برقرار رکھیں۔ آپ کی بلاوجہ خاموشی سے آپ کے مخالفین کو بھی باتیں کرنے کا موقع ملتا ہے کہ آپ بینظیر بھٹو کے بعد پاکستان میں طاقتور سیاسی خاتون بن کر سامنے آئی ہیں۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ آپ کے سیاست میں آنے اور بلا خوف اپنے موقف پر ڈٹ جانے کی وجہ سے بہت ساری خواتین کو بھی ایک امید کی کرن نظر آئی ہے جو خواتین گھر سے اس لیے باہر نہیں نکلتی تھی کہ ان کے مرد سیاسی میدان میں ہیں لہذا ان کو ضرورت نہیں۔
وہ خواتین بھی اب میدان عمل میں پیش پیش ہوتی ہیں یہ سب آپ کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ مجھے معلوم ہے اگلے چند دنوں تک آپ کے والد میاں نواز شریف پاکستان واپس آ جائیں گے۔ لیکن میں ایک اہم بات ابھی سے آپ کے گوش گزار کرنا چاہتا ہوں کہ آپ اور آپ کے والد جب واپس آئیں تو آپ نے ہرگز خود کو جاتی امراء تک محدود نہیں کرنا۔ آپ نے اپنی روایتی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھنی ہیں کیونکہ پاکستان میں نوجوانوں کا ایک بڑا طبقہ آپ سے بے لوث محبت کرتا ہے اگر آپ واپسی پر خاموش ہر کر گھر بیٹھ گئی تو یہ نوجوان طبقہ مایوس بھی ہو گا اور ان کو آپ ازخود موقع فراہم کریں گئیں کہ وہ کوئی اور آپشن استعمال کر لیں۔
یہاں دیکھیں بلاول بھٹو بھی اپنے والد کی موجودگی میں مکمل طور پر ایک متحرک سیاسی لیڈر کا رول ادا کر رہا ہے۔ سیاستدان کو کبھی کوئی مائنس نہیں کر سکتا ہاں اگر سیاستدان خود گوشہ نشینی کی زندگی کو ترجیح دے تو اس کو مائنس ہونے سے کوئی نہیں بچا سکتا۔ آپ جب واپس آئیں تو آپ کا ہدف صرف دو لوگوں ہونے چاہیے نوجوان اور خواتین۔ کیونکہ آنے والے وقت میں یہ دونوں طبقات سیاسی میدان میں اہم رول ادا کریں گے۔ اگلے الیکشن کا فیصلہ بھی انہی دونوں کے ووٹ نے کرنا ہے۔
جس لیڈر کے پاس ان کی طاقت ہوگی وہی سکندر ہو گا۔ آپ اس لحاظ سے کافی خوش قسمت ہیں یہ دونوں طبقے آپ سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔ پاکستان میں آج جو سیاسی حالات ہیں اور مہنگائی کی صورتحال ہے اس سے آپ تو بخوبی آگاہ ہوں گی ۔ ان سے آپ کو آگاہ کرنا میری احمقانہ حرکت ہوگی کیونکہ مجھ سے زیادہ آپ باخبر ہیں۔ میری طرف سے اپنے والد محترم میاں نواز شریف اور بیٹے جنید کو سلام کہنا ہے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔

