میثاق معیشت کی ضرورت


بالفرض آج نئے انتخابات ہو جائیں تو کیا حالات میں بہتری آ جائے گی؟ ایک امکان یہ ہے کہ پی ٹی آئی کو اس کی منشاء کے مطابق اکثریت نہیں ملتی تو وہ نتائج کو تسلیم کرے گی نہ نئی حکومت کو سکون سے کام کرنے دے گی۔ دوسری صورت میں پی ٹی آئی دوبارہ برسر اقتدار آ جاتی ہے تو اس کے پاس کیا فارمولا ہے جو پچھلے ساڑھے تین سال اپلائی نہیں کر سکی اور اب اسے بروئے کار لا کر ملکی معیشت کو وہ پاؤں پر کھڑا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی؟

عمران خان کی فطرت کو مدنظر رکھتے ہوئے اب کوئی ابہام نہیں کہ وہ دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد بھی اپنی اذیت پسندانہ نفسیات کی تسکین کی بجائے معیشت اور گورننس پر فوکس کریں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں ملک کو ایک فریش مینڈیٹ کی حامل مضبوط حکومت کی ضرورت ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں اگر محض عمران خان کے مطالبے پر بغیر اصلاحات عجلت میں انتخابات میں کا فیصلہ کیا گیا تو اس کا ملک کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں ملک کے حالات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں نیشنل ڈائیلاگ کے سوا اب بہتری نہیں آ سکتی۔

ہمارا مسئلہ فوری یا وقت پر انتخابات نہیں بلکہ جمہوری استحکام، غربت و بیروزگاری کا خاتمہ اور معاشی و خارجی چیلنجز پر اتفاق رائے ہے۔ ہمارے ہاتھ سے ریت کی طرح وقت تیزی سے سرک رہا ہے فوری طور پر ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو بیٹھ کر ایک مکالمہ کرنا چاہیے جس میں نظام احتساب اور اداروں کی حدود کے تعین کے ساتھ متفقہ معاشی پالیسی، تعلیم، صحت اور بلدیاتی نظام بھی زیر بحث ہونا چاہیے۔ سب سے اہم اور فوری توجہ طلب مسئلہ اس وقت معیشت کی بحالی ہے اور اگر معیشت اسی طرح زوال پذیر رہی خاکم بدہن ہمارا انجام برا نظر آ رہا ہے۔

ملکی معیشت جس دلدل میں دھنس چکی ہے اس کا حل یہی ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے ایک جامع معاشی پالیسی تشکیل دی جائے جس کے بعد حکومت خواہ کسی بھی جماعت کی ہو نہ اس پالیسی سے انحراف ہو اور نہ کوئی ریاستی ادارہ اس پر عمل میں رکاوٹ بنے۔ معیشت کا علاج وقتی طور پر کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی لاکر یا عالمی اداروں اور دوست ممالک کے قرض سے زر مبادلہ کے ذخائر وقتی طور پر بڑھا کر اب نہیں ہو سکتا۔ ہمیں اپنی ایکسپورٹ اب ہر صورت بڑھانی ہوگی جس کے لیے بیرونی سرمایہ کاری نہایت ضروری ہے۔

بیرونی سرمایہ دار کو متاثر کرنے کے لیے سیاسی استحکام اور معاشی پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہے۔ معاشی پالیسی کا بنیادی نکتہ اب نجی شعبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنا ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب تک روزگار کے نئے مواقع پیدا نہیں ہوں گے عوام کی مشکلات میں کمی نہیں آ سکتی۔ روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ترقیاتی منصوبے نہایت ضروری ہوتے ہیں اور موجودہ معاشی حالات میں ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے لیے حکومت کو اپنے غیر ضروری اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔

ہفتے میں تین یا چار دن کام ورک فرام ہوم اور سرکاری افسران کی مراعات میں کمی جیسے فیصلے مقبول ضرور ہو سکتے ہیں تاہم ان سے خاطر خواہ فائدہ نہ ہونے کے ساتھ ساتھ محکمانہ کارکردگی پر فرق پڑے گا اور بد عنوانی کے نئے راستے بھی کھلیں گے۔ غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کے لیے طویل مدتی، سخت فیصلوں کی ضرورت ہوگی اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے جیسا غیر مقبول فیصلہ کرنا پڑے گا۔ اس وقت وفاقی اور صوبائی ملازمین کی تعداد تقریباً تیس لاکھ ہے اور پچیس لاکھ سے زائد ریٹائرڈ ملازمین ہیں جو پنشن وصول کرتے ہیں، یہ بہت بڑی رقم بنتی ہے اور اس کا بھی حل نکلنے کی ضرورت ہے۔

سرکاری ملازمین کی تعداد کم کرنے کی بھی ضرورت ہے کیونکہ اس سے نصف تعداد بھی کار مملکت بخوبی انجام دے سکتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو ملازمتوں سے محروم کرنا یقیناً کسی ایک سیاسی جماعت کے لیے مشکل فیصلہ ہو گا اس لیے تمام سیاسی جماعتیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز مل کر ہی یہ فیصلہ لے سکتے ہیں۔ اسی طرح خسارے میں چلنے والے تمام اداروں کی نجکاری فی الفور ضروری ہے۔ اپوزیشن جماعتیں وقتی مفاد کی خاطر نجکاری کے عمل کو سیاسی ایشو بناتی رہی ہیں اور عدلیہ کی طرف سے بھی فوراً اس قسم کے حکومتی اقدامات کالعدم ہو جاتے ہیں۔

تمام اسٹیک ہولڈر متفق ہوں گے تو ہی خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری ممکن ہو سکے گی۔ دست نگر معیشت میں دفاع پر اٹھنے کثیر اخراجات کا بھی باریک بینی سے جائزہ لینے اور ملکی سلامتی کو تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کفایت شعاری سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ معیشت کے لیے ایک بڑا درد سر بجلی کا شعبہ ہے جس کا گردشی قرض ہر سال خطیر رقم نگل جاتا ہے پھر بھی اس کا پیٹ نہیں بھرتا۔ ملک میں بجلی کی بڑے پیمانے پر چوری چکاری بھی ایک مسئلہ ہے جس کی قیمت ایمانداری سے بل دینے والوں اور حکومت کو ادا کرنا پڑتی ہے اس کا حل بھی ہمارے ملکی حالات میں مل بیٹھ کر ہی نکل سکتا ہے۔

گزشتہ آٹھ برسوں میں حکومت بجلی خریدنے کے لیے قومی خزانہ سے تقریباً تین ہزار ارب روپے کے قریب خرچ کر چکی ہے۔ اس کے باوجود اس وقت بجلی کا گردشی قرض تین ہزار ارب روپے کے قریب ہے۔ جب تک اس مسئلے کا حل نہیں نکلتا آمدن اور اخراجات میں توازن لانا ممکن نہیں ہو سکے گا۔ اس کے علاوہ جتنا جلد ممکن ہو روایتی ذرائع پر انحصار کم کر کے ہمیں قابل تجدید توانائی کی طرف جانا پڑے گا۔ اسی طرح حکومت کی آمدن میں اضافے کے لیے ٹیکس کے نظام کو عام فہم بنانے اس میں اصلاحات اور اس کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت ہے۔

یقیناً تاجر برادری اور پراپرٹی مافیا اس میں مزاحم ہوگی۔ ان معاملات پر دلیرانہ فیصلے اور اقدامات کوئی حکومت تنہا نہیں لے سکتی اور ملکی معیشت کو پٹری پر ڈالنے کے لیے آج نہیں تو کل یہ کام کرنا ہو گا۔ یہ ادراک اب ہو جانا چاہیے کہ قرض، ترسیلات زر کے سہارے یا درآمدات میں مصنوعی کمی کے ذریعے ملک کو طویل عرصہ تک نہیں چلایا جا سکتا۔

اصل سوال اس وقت یہ ہے کہ کسی میثاق کے لیے سیاسی جماعتیں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز ایک دوسرے پر اعتماد کرنے پر تیار ہوں گے؟ ہر کوئی جانتا ہے ہمیں آئی ایم ایف کی شرائط ہر صورت مکمل کرنا ہوں گی مگر تمام سیاسی جماعتیں اپنے مفاد کی خاطر اس پر پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہیں۔ آئی ایم ایف پروگرام بحال ہو چکا ہوتا تو روپے کی قدر میں اتنی کمی ہوتی اور نہ ہی مارکیٹ بے یقینی کا شکار ہوتی۔ سیاسی جماعتیں ملک و قوم سے مخلص ہیں تو انہیں چاہیے جلد از جلد متفقہ معاشی پالیسی ترتیب دے کر نہ صرف اس پر خود ہر صورت عمل کا اعلان کریں بلکہ تمام ریاستی اداروں سے بھی معاشی معاملات میں عدم مداخلت کی گارنٹی حاصل کریں۔

Facebook Comments HS