جامعة المصطفی ﷺ العالمیہ اور ہائبرڈ ایجوکیشن


قم المقدس میں موجودہ دینی و علمی حوزے کی بنیاد آیت اللہ عبدالکریم حائری ؓ نے 1922میں رکھی۔ آیت اللہ حائری کی وفات کے بعد حوزہ علمیہ قم کی مدیریت آیت اللہ سید محمد حجت کوہ کامری، آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری اور آیت اللہ سید صدرالدین صدر نے کی۔ بعد ازاں آیت اللہ بروجردی کے عہد میں ہی حوزہ علمیہ قم نے اپنی بین الاقوامی فعالیت کا آغاز کیا۔ آپ نے تبلیغ دین کے لیے مدینہ منورہ میں سید محمد تقی طالقانی آل احمد اور ان کی وفات کے بعد سید احمد لواسانی اور پھر شیخ عبدالحسین فقیہ رشتی کو بھیجا، اسی طرح آپ نے سید زین العابدین کاشانی کو کویت، شریعت زادہ اصفہانی کو پاکستان، مہدی حائری یزدی کو امریکہ اور سید صدرالدین محمد تقی بلاغی نائینی کو یورپ میں اپنے نمائندے کے طور پر بھیجا۔

27 فروری 1981 کو حضرت امام خمینی ؓ اور دیگر مراجع عظام کی مشاورت سے حوزہ علمیہ قم کی مدیریت کے لئے پہلا گروہ مدیریت تشکیل دیا گیا۔ 1992 میں رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای کی تجویز اور قم کے دیگر مراجع کرام کی منظوری سے ایک مرتبہ پھر حوزہ علمیہ قم کی سپریم کونسل تشکیل دی گئی۔ رہبر معظم نے حوزہ علمیہ قم میں تحول اور تبدیلی کے حوالے سے اب تک کئی مرتبہ گفتگو کی ہے۔ آپ کی گفتگو کی روشنی میں ہی سال 2007 کو جامعۃ المصطفی ﷺ العالمیہ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ ایران کے شہر قم المقدس میں اس یونیورسٹی کا مرکزی دفتر ہے۔

ایران کے رہبر اعلی ٰکے نزدیک مسلمانوں کو فقہ کے علاوہ دیگر علوم میں بھی اجتہاد کی سخت ضرورت ہے۔ آپ کے بقول :

اجتہاد صرف فقہ سے مخصوص نہیں ہے۔ عقلی علوم میں جیسے فلسفہ و کلام وغیرہ میں دیگر علوم کے ماہر افراد کا اجتہاد ضروری ہے۔ آپ کی گفتگو کا ایک بڑا حصہ رائج حوزوی دینی تعلیم کے طریقہ کار میں تبدیلی پر مبنی ہے۔ آپ نے دینی مدارس کے مدیر حضرات اور اساتذہ کرام سے واشگاف الفاظ میں یہ کہا ہے کہ ”تبدیلی کی مدیریت کریں۔ تبدیلی سے فرار ممکن نہیں۔ تخلیق میں تبدیلی ایک فطری امر اور الہی سنت ہے۔ آپ کسی ایسی اکائی یا ہستی[چیز] کو فرض کریں کہ جس میں حالات کے مطابق تبدیلی نہیں ہوتی تو وہ چیز دو میں سے ایک حالت میں ہو گی: یا تو اپنی موت آپ مر جائے گی اور یا پھر سب سے الگ تھلگ ہو جائے گی یعنی عضو معطل بن جائے گی۔ ایسی شے کو بدلتے ہوئے حالات کے ہنگاموں میں زندہ رہنے کا میدان نہیں ملتا، وہ روند دی جاتی ہے، صفحہ ہستی سے محو ہو جاتی ہے اور اگر بچ بھی جائے تو الگ تھلگ ہو جائے گی۔

ہم یہاں پر یہ بیان کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ حوزہ علمیہ میں تحول اور تبدیلی کی بات فقط کتابوں کی تبدیلی تک محدود نہیں ہے بلکہ ایک دینی مدرسے کے ڈھانچے اور شعبہ جات میں تبدیلی، اساتذہ کی تشخیص، اہلیت، انتخاب، اور تربیت کے طریقہ کار میں تبدیلی، طالب علموں کی استعداد کی شناخت، طریقہ تدریس اور انداز امتحانات میں تبدیلی، دینی مدارس کی تحقیقی، ورزشی، و ثقافتی سرگرمیوں میں حالات اور دور کے مطابق تبدیلی، علما کے تبلیغی طریقہ کار، دینی مدارس کی فلاحی و رفاہی خدمات اور عوام کے ساتھ دینی مدارس کے تعلقات و رابطے میں تبدیلی۔ یہ سب تبدیلیاں مقصود ہیں۔

اس یونیورسٹی کے بانی اور سرپرست اعلیٰ خود سید علی خامنہ ای ہیں۔ ان کے علاوہ مختلف ماہرین پر مشتمل ایک بورڈ آف ٹرسٹیز ہے، اس بورڈ کو رہبر معظم سات سال کے لئے منتخب کرتے ہیں۔ رہبر معظم کی سرپرستی میں یہ بورڈ آف ٹرسٹیز ہر پانچ سال کے لئے اس یونیورسٹی کے سربراہ کا تعین کرتا ہے۔

یونیورسٹی کے اغراض و مقاصد میں سب سے اہم مقصد دینی تعلیم کو تحقیق محور بنانا اور اسلامی تربیت کے ساتھ مخلوط کرنا ہے۔ چنانچہ تعلیم کے شعبے کو انفارمیشن ٹیکنالوجی، تحقیق اور تربیت کے ساتھ مرکب کر دیا گیا ہے۔ اسے جدید اصطلاح میں ہائبرڈ ایجوکیشن کہتے ہیں۔ اس نظام تعلیم میں کتاب اور الفاظ کا حجم کم کر کے اس کی جگہ جدید سافٹ ویئرز، جدید طرز تدریس، درسی مہارتوں، تحقیقی فعالیت اور تربیتی سرگرمیوں کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

صاحبان علم جانتے ہیں کہ تحقیق سے انسان کے علم کی پیمائش ہوتی ہے اور سند یا ڈگری سے انسانی کی تعلیم کو ماپا جاتا ہے۔ مثلاً ایف اے /ایف ایس سی، بی اے / بی ایس سی وغیرہ سے انسان کی تعلیم کی نشاندہی ہوتی ہے لیکن اس سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ انسان کے پاس علم کتنا ہے۔ علم کی پیمائش کا پیمانہ تحقیق ہے۔ چنانچہ اس یونیورسٹی میں علم کو تحقیق محور قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایران کی وزارت تعلیم کی طرف سے تعلیمی اسناد جاری کرنے کا بھی اہتمام کیا گیا ہے۔

دوسری طرف تعلیم کو تربیت سے مرکب کرنے کے لئے کلچرل یا فرہنگی سرگرمیوں کے ساتھ بھی نظام تعلیم کو گرہ لگائی گئی ہے۔ اس نظام تعلیم میں بظاہر درسی کتاب ماضی کے مقابلے میں کچھ مختصر ہو گئی ہے لیکن درحقیقت ایک طالب علم کو ایک درس کے لئے کئی کتابیں کھنگالنے، کئی اساتذہ سے رجوع کرنے اور مختلف آرا و نظریات کا مقائیسہ کرنا پڑتا ہے۔

دنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں اس یونیورسٹی کے تعلیمی نیٹ ورک کی موجودگی سے کسی کو انکار نہیں۔ ساتھ ہی یہ بھی جان لیجیے کہ اس یونیورسٹی میں شیعہ مذہب کے علاوہ اہل سنت اور دیگر ادیان و مذاہب کے طلبا بھی حصول علم میں مشغول ہیں۔

المختصر یہ کہ جامعة المصطفی ﷺ العالمیہ کے وژن، اہداف، پالیسیز اور مشن کے بارے میں ابھی تک بہت کم لکھا اور بولا گیا ہے

Facebook Comments HS