پی ڈی ایم ڈوبے گی کیسے؟


پی ڈی ایم اور خاص طور پر مولانا فضل الرحمان کا یہ خدشہ اپنی جگہ درست تھا کہ اگر عمران خان کی حکومت ختم نہیں کی جاتی تو نومبر میں وہ اپنی مرضی کا چیف آف آرمی سٹاف لگا دے گا جو یقینی طور پر جنرل فیض حمید ہی ہو گا اور پھر عمران خان 2023 کے انتخابات کو فیض حمید کی مدد سے مینج کرے گا، دو تہائی اکثریت لے گا اور سارے کے سارے نظام کو لپیٹ کر صدارتی نظام نافذ کردے گا، خود صدر بنے گا اور پھر اگلے دس سال اسے کوئی نہیں چھیڑ سکے گا۔

اس لیے تحریک عدم اعتماد سے پی ٹی آئی کی حکومت کو چلتا کیا گیا اور پی ڈی ایم اقتدار میں آ گئی مگر اس کے بعد پی ڈی ایم نے اتنی غلطیاں کیں کہ اب وہ غلطیاں طوق کی صورت گلے میں لٹک رہی ہیں اور اگر کوئی ایسا معجزہ نہیں ہوتا جس سے ملکی معاشی صورت حال بہتر ہوتو پی ڈی ایم اگلے عام انتخابات میں بھی آسانی کے ساتھ پی ٹی آئی کا مقابلہ نہیں کرسکے گی اور اب عمران خان اقتدار میں آ گیا تو پی ڈی ایم اس کے ساتھ جس شرافت کا مظاہرہ کر رہی ہے عمران خان اپنی فطرت سے مجبور اس شرافت کا مظاہرہ نہیں کرے گا، وہ ان سب کو جیلوں میں بھی ڈالے گا، نیب کے کیسز بھی بنائے گا۔ امریکی سازش کے بیانیے کو دوبارہ ہوا دے کر ان سب کے خلاف سازش کے کیسز بھی بنائے گا اور کچھ بعید نہیں کہ اسی سازشی تھیوری کو جواز بنا کر غدار قرار دلانے میں بھی کامیاب ہو جائے اور بڑے بڑے سیاست دانوں کو سیاسی بساط سے ایسا غائب کرے کہ ان کا نام بھی نظر نہ آئے۔

پی ڈی ایم کی غلطیوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ پہلی یہ کہ اقتدار میں آتے ہی اسے نیب قوانین میں ترمیم نہیں کرنی چاہیے تھی۔ اس کے دو نقصانات ہوئے، ایک تو یہ کہ عوام کو یہ پیغام گیا کہ پی ڈی ایم اقتدار میں اپنی کرپشن چھپانے اور موجودہ کرپشن کے کیسوں میں ریلیف لینے کے لیے آئی ہے، اس سے عمران خان کو بھی ایک نیا بیانیہ مل گیا، دوسرا یہ کہ نیب کے ہاتھ پاؤں باندھ دیے گئے، جس کا فائدہ عمران خان کو ہوا یہ ہی وجہ ہے کہ فرح گوگی، بشریٰ بی بی اور خود عمران خان کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات ہونے کے باوجود نیب نے کسی قسم کی کارروائی سے گریز کیا لیکن اگر نیب ترامیم نہ ہوتیں تو جس طرح نون لیگ اور پی پی پی کو نیب عدالتوں میں خوار کرتا رہا یہ ہی کام آج عمران خان کے ساتھ ہو رہا ہوتا۔ اس سلسلے میں ملک ریاض کے ہیرے اور عمران خان کی گھڑیاں ہی کافی تھیں۔

پی ڈی ایم کی دوسری غلطی مفتاح اسماعیل ہے، اگر اسے وزیر خزانہ نہ بنایا جاتا، اس کی جگہ خزانے کا قلم دان کسی سمجھدار آدمی کو دیا جاتا او ر وہ عوام کو فوری ریلیف مہیا کرتا تو شاید پی ڈی ایم اپنی مقبولیت کھونے کے بجائے مزید مقبول ہوتی، عمران خان جو اپنی ناقص معاشی پالیسیوں اور مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی عوام کے عتاب کا نشانہ بن چکا تھا مزید معتوب ہوتا لیکن مفتاح نے پٹرول کی قیمتیں بڑھا دیں، ڈالر کو قابو نہ رکھ سکا، بروقت آئی ایم ایف سے قرض کا حصول ممکن نہ بنا سکا جس سے مہنگائی بڑھی اور عوام مزید پریشانی میں آ گئے۔

معاشی مسائل کے ساتھ مفتاح کے دور میں انتظامی مسائل بھی بہت دیکھے گئے۔ گندم، دالوں، چینی اور ڈالر کی افغانستان اسمگلنگ ہوتی رہی، ان اشیاء کی اپنے ملک میں قلت ہوتی رہی مگر مفتاح خاموش تماشائی رہے۔ اسحاق ڈار نے انتظامات تو اچھے کیے مگر مصنوعی طور پر ڈالر کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے سے ملک میں اشیائے ضروریہ کی قلت ہونے کا امکان اور خوف بھی موجود ہے۔ آپ برآمدات کو سخت پالیسیوں کی وجہ سے روک تو لیں گے لیکن کل جب آپ کے پاس اشیاء کی قلت ہوگی اور اس وقت خوش قسمتی سے آپ کے پاس ڈالر وافر مقدار میں موجود ہوا تب بھی آپ کو اشیاء مہنگے داموں خریدنا پڑیں گی۔

ہمارے پاس ایل این جی کی صورت مثال موجود ہے، پچھلی حکومت ایل این جی کی خریداری کا بروقت آرڈر نہ دے سکی اور نتیجہ آج پاکستانی عوام اس کی قلت کا سامنا کر رہی ہے۔ موجودہ حکومت کے ذمہ داران کے جس طرح کے بیانات ہیں اس سے خدشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں گیس کا بحران مزید شدید ہو گا۔ یہ بحران اگرچہ پی ٹی آئی کی حکومت کا پیدا کردہ ہے مگراس کی ساری ذمہ داری موجودہ حکومت پر ڈال دی جائے گی اور عوام میں اس کی مقبولیت کو مزید نقصان پہنچے گا۔

یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ عمران خان کو تمام جلسے جلوسوں اور لانگ مارچ میں پنجاب اور کے پی کے حکومت کی حمایت اور ہر قسم کی مدد حاصل تھی اور عمران خان ان دو حکومتوں کے کندھے ہی کی وجہ سے بڑے بڑے جلسے کرنے میں کامیاب رہا، ہیلی کاپٹر کی سہولت، سکیورٹی اور عمران خان کی گرفتاری کے وقت مسلح مزاحمت ان ہی دو حکومتوں کی پولیس کرتی رہی۔ اب عمران خان ان حکومتوں کی اسمبلیاں توڑ کر اپنے آپ کو بے سرو سامان کرنے لگا تھا اور پی ڈی ایم کی مخلوط حکومت کو فائدہ پہنچانے لگا تھا مگر ایسے سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے بجائے ایک اور بیوقوفوں والا فیصلہ کیا گیا اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل کے لیے گورنر کے ذریعے رکاوٹ ڈال دی گئی۔

بھلے لوگوں جانے دیتے دونوں حکومتیں، پھر آپ نگران حکومتیں بناتے ظاہر ہے وہ آپ ہی کی مرضی کی ہوتیں اور الیکشن ایک ساتھ کرانے کا اعلان کر دیتے۔ اس کام کے لیے الیکشن کمیشن پہلے ہی سپریم کورٹ میں بتا چکا ہے کہ وہ ابھی تیار نہیں کیونکہ نئی مردم شماری کے مطابق حلقہ بندیاں کرنی ہیں، نئی ووٹر لسٹیں تیار ہونی ہیں، اب بھی الیکشن کمیشن ایسے ہی جواز دے سکتا تھا۔ اس طرح چھ مہینے تو آرام سے نکالے جا سکتے تھے۔ عمران خان زیادہ سے زیادہ عدالت میں چلے جاتے اور کیس کر دیتے، یہ آپ کے لیے ایک اور اچھا موقع ہوتا آپ اسے عدالتوں میں اتنا مصروف رکھتے کہ وہ انتخابات کی تیاری ہی نہ کر سکتا، دونوں صوبائی حکومتوں کی تحلیل کے بعد عمران خان کی گرفتاری بھی آسان ہوجاتی، یاد رکھیں پاکستان میں بھٹو جیسے مقبول عوامی لیڈر کو بھی پھانسی دے دی گئی اور کوئی قابل ذکر عوامی مزاحمت نہ ہوئی۔ عمران خان بھٹو جیسا مقبول تو ہر گز نہیں۔ اس لیے اس کی گرفتاری پر کون سی مزاحمت ہو جانی تھی۔ ویسے بھی ہمارے عوام چڑھتے سورج کو پوجتے ہیں، اقتدار کے ایوانوں سے رخصت ہونے والوں کو کون پوچھتا ہے تو مان لیں پنجاب میں اسمبلی کی تحلیل کو روکنا پی ڈی ایم حکومت کی تیسری بڑی غلطی تھی۔

مجھے نہیں پتہ کہ حکومت سے یہ غلطیاں کون کرا رہا ہے مگر وہ جس کے مشوروں پر بھی عمل کر رہی ہے، اپنا ہی نقصان کر رہی ہے۔ اگر پی ڈی ایم نے اپنی غلطیوں سے سبق نہ سیکھا اور مزید کچھ ایسی ہی غلطیاں کیں تو پھر عام انتخابات دس مہینے بعد کرائے جائیں یا دس سال بعد پی ڈی ایم کی شکست یقینی ہے۔

اب بھی وقت ہے اگر ہوش کے ناخن لیے جائیں۔ ڈالر کو مصنوعی طریقے سے قابو کرنے کے بجائے اسے مارکیٹ پر چھوڑا جائے۔ اس سے اگرچہ ڈالر اور روپے کے شرح تبادلہ میں بیس روپے کا فرق پڑ جائے گا اور ڈالر بیس روپے بڑھ جائے گا مگر کم ازکم بیرون ملک مقیم پاکستانی ہنڈی کے ذریعے رقم بھجوانے کے بجائے بنکوں کے ذریعے رقم بھجوائیں گے جس سے زرمبادلہ میں خاطر خواہ اضافہ ہو گا۔ اس کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے قرض کی اگلی قسط کے حصول کو بھی یقینی بنایا جائے اور دوسرے دوست ممالک سے بھی امداد لی جائے، اس سے آنسو پونچھنے میں کچھ مدد تو ملے گی تاہم مستقل حل کے لیے صنعتوں کو ریلیف دے کر برآمدات کو بڑھانا پڑے گا ورنہ پی ڈی ایم کی تباہی کو کوئی نہیں روک سکتا۔

Facebook Comments HS