مودی کی کامیابیاں اور ہمارے سیاست دان: اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں

بھارتی حکومت نے نیشنل فوڈ سیکورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے ) کے تحت ایک سال کے لیے 25۔ 81 اکیاسی کروڑ پچیس لاکھ ) سے زائد افراد کو مفت راشن فراہمی کا اعلان کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی صدارت میں کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کورونا سے متاثرہ غریب عوام کے لیے دی جانے والی سبسڈی کے پروگرام کو مزید وسعت دی جائے۔ اس پروگرام پر چار سو کھرب روپے خرچ ہوں گے۔ این ایف ایس اے پروگرام کے تحت پہلے جو لوگ دو روپے کلو چاول اور تین روپے کلو آٹا خرید رہے تھے اب یہ اجناس مفت مہیا کی جائیں گی۔
بھارت کے نچلے طبقے کے 81 کروڑ لوگوں کو مفت راشن اور تقریباً 25 لاکھ سابق فوجیوں کے لیے پنشن مراعات میں اضافے کے اعلان کا خیر مقدم کیا جا رہا ہے۔ 80 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو سال بھر 35 کلو تک اناج مفت ملنا ایک انقلابی قدم ہی کہلائے گا، غریبوں کے لیے یہ بہت بڑی سوغات ہے۔ کورونا کے پچھلے دو سالوں میں بھی حکومت نے بے سہارا لوگوں کو کم قیمت پر اناج دیا۔ بھارت دنیا کا دوسرا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور دنیا میں غذائی تحفظ کے خدشات کے پیش نظر ہی بھارت نے سستے اناج کی دستیابی کو یقینی بنانے کے لیے اس سال گندم اور چاول کی برآمدات کو محدود کر دیا تھا کیونکہ خراب موسم نے فصل کو نقصان پہنچایا تھا۔
اس وقت پوری دنیا میں کھانے پینے کی چیزوں کی قیمتوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی سطح کے بحران نے زرعی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ان حالات میں راشن کی مفت فراہمی بہت بڑا اقدام ہے۔ رہا یہ سوال کہ اتنا راشن حکومت مفت میں کیسے تقسیم کرے گی تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت بھارت کے سرکاری سٹورز میں تقریباً چار کروڑ ٹن اناج ہے اور بھارت دنیا میں چین کے بعد ’سب سے زیادہ اناج پیدا کرنے والا ملک ہے۔ اس نے کئی پڑوسی ممالک کو پچاس‘ پچاس ہزار ٹن گندم تحفے میں دی ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کا یہ تازہ اعلان اگرچہ کہا جا رہا ہے کہ 2023 ء کے متعدد ریاستی اور 2024 ء کے عام انتخابات سے قبل سامنے آیا ہے۔ جس کا مقصد آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ہے۔ یہ بات اپنی جگہ ہوگی مگر دوسری طرف یہ بھی مدنظر رکھنا چاہیے کہ مودی حکومت نے کووڈ 19 کی معاشی تباہی کے اثرات سے لوگوں کو بچانے کے لیے 2020 ء میں بھی مفت کھانے کا پروگرام شروع کیا تھا۔ دنیا کے سب سے بڑے مفت خوراک کے منصوبے کو جاری رکھنا یقیناً ایک چیلنج ہو گا۔
کورونا میں حکومت دس کھرب کی سبسڈی دے رہی تھی یہ اس سے دو گنا مہنگا منصوبہ ہے۔ حکومت کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ وہ مفت اناج کی طرح بھارت میں میڈیکل اور تعلیم بھی مفت کرے۔ اگر ملک کے غریبوں کو اناج، تعلیم اور ادویات مفت ملنے لگیں تو آنے والی دہائی میں بھارت کا شمار ترقی یافتہ ممالک میں ہو گا۔ اور ایسی حکومت کو اگلی کئی دہائیوں تک ہٹانا مشکل ہو گا۔
نریندر مودی کو ہم ”ہندو توا“ کے علمبردار کے طور پر دیکھتے ہیں اور گجرات میں دو ہزار سے زائد مسلمانوں کے قاتل ہونے کی وجہ سے قصائی کہتے ہیں لیکن دوسری جانب ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ مودی کو اس مقام تک اس کے گجرات ماڈل نے پہنچایا۔ مودی نے جب گجرات میں اقتدار حاصل کیا تو زراعت ’صنعت اور سروسز کی ترجیحات متعین کیں۔ گجرات کو زرعی ترقی دینے کے لیے چار امور اختیار کیے ۔
1۔ کپاس کی پیداوار کے لئے جدید ٹیکنالوجی اپنائی۔
2۔ آب پاشی کا نظام میں بہتری لائی۔
3۔ ہزاروں چھوٹے ڈیم بنائے گئے۔
4۔ زیادہ سے زیادہ زمین قابل کاشت بنانے کے لیے سکیم متعارف کرائی اور پانچ لاکھ ہیکٹرز رقبہ مختص کیا۔ جس سے گندم کی پیداوار سو فیصد اور کپاس کی پیداوار دو سو فیصد تک بڑھنے سے گجرات خوراک میں خود کفیل ہو گیا۔ صنعتی ترقی کے لیے بجلی کی ضرورت تھی جو گجرات میں نہ ہونے کے برابر تھی۔ اس کے لیے ایسے منصوبے بنائے کہ 2003 ء میں نو ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا صوبہ 2013 ء کے آخر میں 23 ہزار میگا واٹ تک پہنچ گیا ’ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز 35 فیصد سے 15 فیصد تک لائے گئے اور یوں گجرات نے بجلی میں بھی خود کفالت حاصل کی۔
بجلی آئی تو سرمایہ دار بھی پیسہ دبئی‘ ملائشیا اور بنکاک لے جا نے کے بجائے گجرات لے آئے۔ مودی کے پہلے دور اقتدار میں کروڑوں ڈالر کے ساٹھ بڑے منصوبوں کا آغاز ہوا جس کے بعد ترقی کی ایک سمت متعین ہو گئی۔ مودی نے شہروں کی طرح ہر گاؤں تک بجلی پہنچائی۔ کاشتکاری کے لئے بجلی کے نرخ بہت کم رکھے جس کا فائدہ کسان کو ہوا۔ اسی لیے مودی کو دیہی علاقوں سے بہت بڑی تعداد میں ووٹ ملے۔ سروسز کی بہتری کے لیے گجرات میں چالیس شپنگ پورٹس قائم کی گئیں جو پورے ملک کی کارگو نقل و حرکت کا بیس فیصد کام انجام دے رہی ہیں۔
تعلیمی نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا۔ غیر ضروری مواد نکال کر انفارمیشن ٹیکنالوجی کو جگہ دی گئی۔ مودی کی کامیابی کا ایک اہم وجہ یہ تھی کہ اس نے لوگوں کو اس قابل بنایا کہ وہ اپنی کمائی سے نہ صرف بنیادی ضروریات پوری کریں بلکہ اپنی اپنی قابلیت کے مطابق بہترین لائف سٹائل بھی اپنا سکیں۔ مودی کی ان کاوشوں سے گجرات کا نقشہ بدل گیا جس کی آج پوری دنیا میں مثالیں دی جا رہی ہیں۔ اب آپ اپنے ملک پر نظر ڈالیں تو زراعتی ملک گندم درآمد کر رہا ہے۔
ڈیموں کو سیاست کی نذر کر دیا گیا، بجلی کا شارٹ فال ختم ہونے میں نہیں آ رہا، عوام مہنگائی کے عفریت کے شکنجے میں ہیں۔ بدعنوانی عروج پر ہے۔ سفارش کا کلچر عام ہے۔ آج بجلی یا فون کا بل ٹھیک کرانے جائیں ’تو جوتیاں گھس جائیں گی لیکن سفارش کے بغیر کام نہیں ہو گا‘ تعلیم کی حالت یہ ہے کہ سرکاری سکولوں میں صرف نوکروں اور ڈرائیوروں کے بچے داخل ہوتے ہیں یا پھر گدھے اور خچر۔ گوالے دودھ میں گندا پانی ’سرف‘ بلیچنگ پاؤڈر ’اور پسی ہوئی ہڈیوں کا سفوف ڈال رہے ہیں لیکن کوئی نوٹس نہیں لیتا‘ پانچ فیصد لوگ پینے کا صاف پانی خرید سکتے ہیں اور باقی اپنے پیٹ میں زہر اتار رہے ہیں ’ہوٹلوں‘ ریستورانوں اور بازاروں میں مردہ اور بیمار جانوروں یہاں تک کہ گدھے کا گوشت تک کھلایا جا رہا ہے لیکن کسی کو پروا نہیں ’ادویات کا یہ عالم ہے کہ چند سال قبل جو شخص دو تین روز اینٹی بائیو ٹک کھا کر ٹھیک ہو جاتا تھا اب پانچ سات دن بھی کھا لے تو بیماری قائم رہتی ہے۔
75 برس گزرنے کے بعد بھی ان میں سے کوئی ایک مسئلہ حل ہوا؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ ہم مودی کے ظلم کے قصے تو بیان کرتے ہیں مگر اس کے ان منصوبوں سے سبق نہیں سیکھتے۔ ہمارے حکمران اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے کب تک تصویر کا بھیانک رخ لوگوں دکھاتے رہیں گے۔ کیا عمران خان اور کیا دوسرے سیاست دان عوام کی خوشحالی کے بجائے ان کی بدحالی میں اپنی بقا دیکھتے ہیں۔ ملک ڈیفالٹ کے قریب ہے مگر سب اپنے اللوں تللوں میں مصروف زبانی جمع خرچ کرنے اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔ مودی سے سبق سیکھ کر ہی اگر ہمارے سیاست دان ملک میں سرمایہ کاروں کو لائیں‘ تعلیم ’صحت اور روزگار عام کریں تو اس کے بعد دیکھیں کہ انہیں اقتدار کے پیچھے بھاگنا نہیں پڑے گا‘ بلکہ اقتدار خود ان کے دروازے پر ہاتھ باندھے کھڑا ہو گا۔
آپ ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

