حق ملکیت، قانون اور عوام
فرانس کے عظیم فلسفی روسو کے مطابق نجی ملکیت کے تصور کی ابتداء ہوتے ہی عدم مساوات کا عمل بھی شروع ہوا، روسو کا خیال ہے کہ جب ایک شخص نے زمین کے گرد دائرہ کھینچ کر اپنی ملکیت کا دعوی کیا، اور باقی لوگوں نے اس کے حق کو تسلیم کیا تو اسی دن سے ہی سوسائٹی کی ابتداء ہوئی۔
اور پھر طاقت ور لوگوں نے زمین کے ٹکڑوں پر قبضہ کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یوں زمینوں کی ملکیت کا دعوی بڑھتا چلا گیا اور زمیں ٹکروں میں بٹتی چلی گئی، اور نت نئے ممالک پیدا ہونا شروع ہو گئے، احساس ملکیت اپنی جڑیں مضبوط کرتی چلی گئی، اور دیکھتے ہی دیکھتے زمین کو لکیر کھینچ کر ملکوں اور شہروں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اور پھر مفادات کا ٹکراؤ شروع ہونے لگا، زمینی تنازعات کا ایک نا ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوا، ملک آپس میں زمین کے حصول کے لیے جنگیں لڑنے لگیں اور ریاست کے اندر باشندے طاقت کے زور پر ایک دوسرے کی زمینوں پر قابض ہونے لگے۔ جب تنازعات بڑھنے لگے تو انسانوں نے زمین کے متعلق اصول اور ضابطے بنائے، مگر طاقت ور لوگوں نے اصول اور ضابطوں کو ہمیشہ روند ڈالا۔
اسلام نے ظلم اور جبر کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ اسلام انسانوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت کی ضمانت دیتا ہے اور کسی کی حق تلفی کی اجازت نہیں دیتا۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا ہے۔ ”اے ایمان والو آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق نہ کھاؤ مگر یہ کہ کوئی سودا تمہاری باہمی رضا مندی سے ہوئی ہو“ (النساء) ۔
انسانی حقوق کا عالمی منشور بھی انسانوں کے جائیداد کے حق کو تسلیم کرتی ہے۔ اور زبردستی زمین سے بے دخلی سے روکتی ہے۔
انسانی حقوق کے عالمی منشور کے آرٹیکل 17 کے شق نمبر 1 کہتا ہے کہ ”ہر انسان کو تنہا یا دوسروں سے مل کر جائیداد رکھنے کا حق حاصل ہے۔“ جبکہ شق نمبر 2 کہتا ہے کہ ”کسی شخص کو زبردستی اس کے جائیداد سے محروم نہیں کیا جا سکتا“ ۔
آئین پاکستان بھی اپنے شہریوں کی جائیداد کے حق کو تسلیم کرتا ہے، آئین کا آرٹیکل 23 ہر شہری کو جائیداد حاصل کرنے، قبضہ میں رکھنے اور فروخت کرنے کا حق دیتا ہے، جبکہ آرٹیکل 24 یہ تحفظ فراہم کرتا ہے کہ کسی کو بھی اس کی مرضی کے بغیر اس کے مال سے زبردستی محروم نہیں کیا جائے گا اور اگر کسی عوامی مفاد کی خاطر ایسا کرنا ضروری ہو جائے تو یہ عمل قانون کی حدود میں رہ کر گیا جائے گا اور اس کے مال کا پورا معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ ایک مشہور واقعہ ہے کہ مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے زمین کی ضرورت پڑی تو دو یتیم بھائیوں، سہل اور سہیل، کے ولی کے ساتھ بات کی گئی اور ان کو زمین کا معاوضہ ادا کیا گیا حالانکہ وہ زمین معاوضے کے بغیر دینا چاہتے تھے۔
پاکستان کے وجود میں آنے کے بعد بے شمار مسائل میں سے ایک بہت بڑا مسئلہ زمینوں کی ملکیت کا بھی رہا، دوسرے مسائل کی طرح یہ مسئلہ بھی الجھا رہا، جب آئین بنا تو جائیداد کے حق کو بنیادی حقوق میں شامل کر دیا گیا۔ مگر بدقسمتی سے جس طرح ریاست دوسرے بنیادی حقوق دینے میں مکمل ناکام ہو گئی ہے بکل اسی طرح زمین کے متعلق حقوق کی فراہمی میں بھی مکمل ناکام دکھائی دیتی ہے۔
زمین کی ملکیت کے حوالے سے بلوچستان ہائی کورٹ کا ایک عدالتی فیصلہ بہت اہمیت کا حامل ہے۔ جس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ جمال خان مندوخیل نے 5 رکنی لارجر بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے 18 مارچ 2021 کو اپنے ایک فیصلے میں مقامی قبائل کو غیر آباد زمینوں کا مالک قرار دے کر زمین کی ملکیت کا ایک بہت بڑا مسئلہ ختم کر دیا۔
مگر بلوچستان ہائی کورٹ کے واضح عدالتی فیصلے کے باوجود اس وقت گلگت بلتستان میں زمینوں پر زبردستی قبضہ کا سلسلہ جاری ہے۔ جو کہ مستقبل قریب میں بہت بڑے فساد کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ آج کل کوئی بھی سرکاری افسر جس کی تعیناتی کو جمعہ جمعہ آٹھ دن بھی نہ ہوا ہو، طاقت کے بل بوتے پر صدیوں سے رہائش پذیر باشندوں کو ان کی آبائی زمین سے بے دخل کرنے پہنچ جاتا ہے۔
جمہوریت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں مگر ہمارے ہاں طاقت اسی کی ہے جس کے ہاتھ میں بندوق ہو۔ طاقت کے بل بوتے پر زبان بندی اور جبری قبضوں کا سلسلہ جاری ہے۔ عوام سے کبھی زمینیں قبضہ مافیا ہتھیا لیتی ہے تو کبھی حکومت عوامی زمینوں پر نظریں جمائیں رکھتا ہے۔
یہاں قبضہ مافیا کی غیر قانونی زمین بھی قانونی طور پر قابض کے نام پر انتقال ہو جاتا جبکہ حقیقی مالک اپنی زمین کی جنگ عدالتوں میں لڑتے لڑتے خود انتقال کر جاتے ہیں مگر زمین کا اس کے نام انتقال نہیں ہوتا۔
یوں اصول اور ضابطوں کی پامالی کا سلسلہ آج بھی جاری ہے۔
جائیداد کا حق بنیادی انسانی حق ہے، جس کی تحفظ کی ضمانت آئین دیتا ہے۔ مگر جس معاشرے میں آئین کو محض کاغذ کا ٹکڑا سمجھا جاتا ہو وہاں قانون کی بالادستی اور حقوق کی باتیں محض افسانوی باتیں لگتی ہیں۔

