گلبر مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی ہے
گلبر مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی ہے، جہاں خواجہ بندہ نواز کا مزار بھی ہے، جہاں اب بھی چالیس فیصد سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔
1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
آندھرا پردیش کا آخری ضلع کرنول تھا اور ہم نے اس کے ایک اہم شہر اڈونی سے گزر کر ریچر سے ہوتے ہوئے یاد گر کو بھی دیکھا۔ ریچر کرناٹک کا پہلا ضلع ہے اور اس کے بعد یادگر دوسرا جب ہماری ٹرین یاد گر سے گزری اس وقت رات کے دو بج رہے تھے۔ مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں اس شہر کی روشنیوں کو ہی دیکھ لیتا لیکن اس سے متعلق مجھے جو چند معلومات ملی ہیں وہ ضرور آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
یہ علاقہ صدیوں تک ہندو راجاؤں کے ماتحت رہا۔ عادل شاہی ریاست نے 1504 ء میں اس علاقے پر قبضہ کیا اور اسے اپنی ریاست میں شامل کر لیا۔ بعد ازاں مغل حکمرانوں نے اس پر حملہ کر کے اسے صوبہ حیدرآباد کا حصہ بنا دیا۔ اس شہر میں مسلمانوں کی آبادی پندرہ فیصد کے قریب ہے لیکن شہر میں مساجد کی ایک کثیر تعداد کی وجہ سے اسے گنبدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔
یہاں پر ایک خوبصورت مسجد ہے۔ میں نے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی تو یہ معلوم ہوا کہ یہ اپنی نوعیت کی ایک منفرد مسجد ہے جس کی مثال بھارت میں نہیں ملتی۔ یہاں پر ایک ولی اللہ کا مزار بھی ہے جنہیں آنکس ولی خاں کہا جاتا ہے۔ لوگ دور دراز سے ان کے مزار پر آتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید پیر بخاری تھا، عرف عام میں انھیں آنکس خان ولی کہا جاتا تھا۔ آپ عادل شاہی ریاست کے ایک وزیر تھے۔ اور بہت ہی نیک آدمی تھے۔ ان کی درگاہ بہت مشہور ہے۔
کالابراگی جو کبھی گلبرگہ تھا، بہمنی سلطنت کا پایہ تخت بھی رہ ہے
یہ 1980 ء کی بات ہے کہ میرے آبائی شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام دارالسلام رکھنے کی تحریک شروع ہوئی۔ کچھ لوگوں نے اس کی حمایت کی اور کچھ لوگ اس کی مخالفت میں بھی سرگرم رہے۔ جو حمایت کر رہے تھے ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک سکھ کا نام ہے اس لیے اسے بدلنا ضروری ہے۔ جو لوگ مخالفت میں تھے ان میں سے ایک صاحب نے دلچسپ تبصرہ کیا جو مجھے اب تک یاد ہے۔ اس نے کہا مریض کا بستر تبدیل کرنے سے مریض ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ نام کی تبدیلی کی مخالفت کرنے والے لوگوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ بھارت میں بے شمار شہروں کے نام مسلمانوں نے رکھے ہوئے ہیں اگر ہم نے پاکستان میں ایسا کام شروع کر دیا تو ہندو یہی کریں گے اور اس سے بہت نقصان ہو سکتا ہے۔ یہ تحریک ناکام ہو گئی اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کا نام تبدیل نہ کیا گیا۔ اسی عرصے میں لائلپور کا نام بدل کر فیصل آباد رکھنے کی کوشش کی گئی جو کامیاب ہوئی اور اب لائل پور نہیں فیصل آباد ہے۔
اس طرح کے بے شمار واقعات بھارت میں بھی رونما ہوئے۔ جب ہم 1999 ء میں یہاں سے گزر رہے تھے، اس وقت یہاں پر ایک بہت ہی اہم شہر گلبرگہ موجود جس کا مطلب ہے پھولوں کا شہر تھا۔ یہ فارسی کا لفظ ہے۔
کرناٹکا میں 2014 ء مسلمان حکمرانوں کے رکھے گئے ناموں کو تبدیل کرنے کی ایک مہم چلی۔ مہم چلانے والوں کا کہنا تھا کہ ہم وہی نام دوبارہ رکھیں گے جو صدیوں سے ان شہروں کے نام چلتے آئے ہیں۔ اس تحریک کے نتیجہ میں بارہ مختلف شہروں کے نام تبدیل کیے گئے جن میں گلبرگہ بھی شامل ہے۔ اب یہ گلبرگہ کی بجائے کالابراگی کہلاتا ہے۔ ان بارہ شہروں کے نئے ناموں کی فہرست دیکھ کر پتہ چلا کہ یہ نام نئے نہیں بلکہ صدیوں پرانے تھے جو مسلمانوں نے اپنے دور حکومت میں بدل دیے تھے۔
کسی کو تو بہت ہی بدلا اور کسی کو بہت کم۔ مثلاً کا لابراگی جس کا مطلب پتھروں اور کانٹوں کی زمین ہے کو انھوں نے گلبرگہ میں بدل دیا۔ اس پر کر ناٹکا کے لوگوں کی بہت دیر سے یہ مانگ تھی کے ان شہروں کے پرانے نام بحال کیے جائیں۔ ایک وقت آیا کہ بھارتی حکومت نے ان کا یہ مطالبہ مان لیا اور بارہ شہروں کے نام بدل دیے گئے۔ جس پر مسلمانوں نے بے حد احتجاج کیا۔ حکومت کے نزدیک یہ احتجاج قابل قبول نہ تھا اس طرح سے گلبرگہ دوبارہ کا لابراگی بن گیا۔
ہمارے ہاں کچھ ایسے شہر بھی ہیں جن کے نام پہلے کچھ اور تھے، جیسے ساہیوال کا نام منٹگمری کر دیا گیا تھا اور اٹک کو کیمبل پور کہا جانے لگا تھا۔ بعد ازاں لوگوں کے مطالبے پر ان شہروں کے پرانے نام بحال کر دیے گئے۔ میں نے دیکھا ہے کہ سکھوں اور ہندوؤں کے نام پر بنے شہروں کو اب اسلامی نام دیے جانے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر شیخوپورہ کے قریب منڈی ڈھاباں سنگھ کا نام صفدر آباد رکھ دیا گیا۔ یہ صفدر صاحب یہاں کے ایم پی اے تھے۔
ڈاکٹر سنتوش کمار یادیو نے اپنی کتاب The History of Bahamani Kingdom: A Review جو 2017 ء میں شائع ہوئی ہے میں بہمنی ریاست کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے۔ ان کے مطابق علا الدین بہمن شاہ کا تعلق ایران سے تھا اور وہ سلاطین دلی کے دربار سے منسلک تھا۔ کسی وجہ سے وہ ان سے الگ ہو کر اس دور دراز علاقے میں آ گیا اور 1347 ء میں سلاطین بہمنیہ کے نام سے اپنی ریاست قائم کی۔ یہ ریاست 1527 ء میں پانچ چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی۔
اس کا تفصیلی ذکر میں پچھلے صفحات میں کر چکا ہوں۔ بعد ازاں عالمگیر نے ان ریاستوں کو ختم کر کے حیدرآباد کا حصہ بنا دیا۔ حیدرآباد کو مغلیہ سلطنت کا ایک صوبہ بنایا گیا۔ علا الدین نے گلبرگہ کو اپنا پایہ تخت بنایا۔ اس وقت اس شہر کا نام کا لابراگی تھا جسے بدل کر حسین آباد رکھا گیا اور بعد میں اسے گلبرگہ کہا جانے لگا۔ اس سے پہلے یہاں ہندوؤں کی حکومت تھی۔
میرے خیال میں کالابراگی ان شہروں میں سے ایک ہے جو اپنی تاریخ اور روایات کے لحاظ سے بھارت میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ جب ہم کالابراگی پہنچے تو صبح کے پانچ بج رہے تھے۔ سورج ابھی طلوع ہو رہا تھا۔ روشنی بھی آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور شہر کے خدو خال نظر آرہے تھے۔ اس طرح میری اس شہر کو دیکھنے کی حسرت بھی پوری ہوئی۔
کالابراگی شہر بنگلور سے سو چھ سو حیدرآباد سے سوا دو سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس شہر کو صوفیوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں پر کئی اہم عمارتیں بھی موجود ہیں جو اپنے ڈیزائن، وسعت اور نقش و نگار کی وجہ سے پورے بھارت میں جانی پہچانی جاتی ہیں۔
یہاں پر خواجہ بندہ نواز کی درگاہ ہے خواجہ بندہ نواز ایک بہت ہی مشہور صوفی بزرگ تھے۔ ان کا ذکر رچرڈ ایم ایٹن، نے اپنی کتاب A Social History of the Deccan، 1300۔ 1761 : Eight Indian Lives، Part 1، Volume 8 کے صفحہ 33 پر خواجہ صاحب کی پیدائش اور ان کے کارناموں کی تفصیل لکھی ہے۔ اب بھی ایک بڑی تعداد میں مسلمان ان کے مزار پر آتے ہیں۔ ان کا اصل نام سید محمد بن یوسف الحسین ہے۔ آپ کو حضرت خواجہ بندہ نواز گیسو دراز بھی کہا جاتا ہے۔
آپ کی وفات 1422 ء میں ہوئی۔ یہاں پر سات گنبدوں والی ایک عمارت بھی موجود ہے جس کے ہر گنبد کی اپنی ایک الگ تاریخ ہے۔ کالابراگی میں موجود جامع مسجد بہت ہی عظیم الشان مسجد ہے۔ اس کے بنانے میں کئی حکمرانوں نے اپنا حصہ ڈالا۔ یہاں پر ہندوؤں کا بہت بڑا مندر اور بدھ مت کا بدھا ہار بھی دیکھنے کے لائق ہے۔ کالابراگی میں موجود قلعہ بارہویں صدی میں بنا یا گیا اور بعد میں مسلمانوں نے اس پر قبضہ کیا۔ ایک وقت آیا کہ ہندوؤں نے ایک جنگ میں شکست کھانے کے بعد اسے تباہ و برباد کر دیا۔ پھر مسلمان حکمرانوں نے اس کی ازسرنو تعمیر کی۔
ڈاکٹر سنتوش کمار یادیو مزید لکھتے ہیں کی ان حکمرانوں میں ایک حکمران حسن بھی تھا، جس نے کالابراگی کا نام اپنے نام پر حسن آباد رکھا۔ کہا جاتا ہے کہ شمالی ہندوستان میں شیعہ مسلک کے لوگ ہمایوں کی وجہ سے آئے۔ جب ہمایوں دربدر ہو کر ایران کے حکمرانوں سے مدد لے کر تخت پر بیٹھا تو اس کے ساتھ بہت سے ایرانی بھی آئے، جو شیعہ مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ جنوبی ہندوستان میں شیعہ مسلک کے لوگ بہمنی سلطنت کی وجہ سے آئے۔ انھوں نے اپنے دور حکومت میں ایران، عراق اور وسطی ایشیاء سے شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے بہت سے لوگوں کو بلوایا۔ یہاں کی جامع مسجد کا ڈیزائن قرطبہ کی مسجد جیسا ہے۔ یوں لگتا ہے کوئی ایسا حکمران بھی یہاں پر تھا جو اسپین میں موجود مسجد قرطبہ سے بہت متاثر تھا۔ لمبائی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی لمبی توپ بھی کالابراگی کے قلعے میں موجود ہے۔ اسے بارہ گزی توپ بھی کہا جاتا ہے
کالابراگی وہ شہر ہے جہاں پر چالیس فیصد سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ میں اس بات کی کھوج لگاتا رہا کہ بھارت کے شمال میں وہ کون سا شہر ہے جہاں مسلمانوں کی تعداد بیس فیصد سے زائد ہو۔ لکھنو ایک ایسا شہر ہے جہاں مسلمان 26 فیصد ہیں جبکہ دلی میں مسلمانوں کی تعداد پندرہ فیصد سے زائد نہیں ہے۔ مظفر نگر اتر پردیش میں واقع ایک شہر ہے جہاں چالیس فیصد سے زائد مسلمان بستے ہیں۔ میرے علم کے مطابق ہریانہ اور پنجاب میں چند شہر ایسے ہیں جہاں مسلمان آبادی کے تیس فیصد سے زائد ہیں۔ ان کا ذکر میں اس سفرنامہ کے تیسرے حصے میں کروں گا۔
جنوبی ہندوستان خاص طور پر حیدرآباد اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں جہاں کبھی قطب شاہی، عادل شاہی اور میسور کی ریاستیں موجود تھیں، مسلمان ایک بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ جہاں چالیس فیصد مسلمان ہوں تو وہ یقینی طور پر اقلیت نہیں کہلاتے اور بڑے آرام سے اپنے مذہب اور عقیدے کے مطابق زندگی گزارتے ہیں۔ یہاں پر مسلمان ایک مناسب تعداد میں ہیں جس کی وجہ سے ہندو اور مسلمان آپس میں بہت ہی مل جل کر رہتے ہیں۔ اس سے میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس علاقے میں حکمرانوں نے اسلام کی تبلیغ کا کام بھی نہایت ہی اچھے طریقہ سے کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلمانوں کی حکومت شمالی ہندوستان کے بر عکس جنوبی ہندوستان میں ایک محدود علاقے تک ہی تھی۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ ایران اور جنوب مغربی افغانستان سے آنے والے لوگوں نے جنگ و جدل کے ساتھ ساتھ اپنے اعلیٰ اخلاق و کردار کی مدد سے اسلام کی اشاعت میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
کالابراگی کی تاریخ اور اس کی تہذیب سے متعلق جاننے کے بعد میں نے کالابراگی کو ان شہروں کی فہرست میں رکھا ہوا ہے جہاں میں جانا چاہتا ہوں۔ اللہ کرے بھارت اور پاکستان کے تعلقات نارمل ہو جائیں تو میں اس شہر کی سیر کو ضرور جاؤں گا، خواجہ بندہ نواز کے دربار پر بھی فاتحہ خوانی کروں گا اور جامع مسجد بھی دیکھوں گا۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے۔







