اپنے کمرے سے محبت کیجیے


ریٹائرمنٹ ایک ایسا دورانیہ ہے کہ جس کو آپ باقاعدہ منصوبہ بندی اور بہترین گزارنے کی تدبیر کے ساتھ نا ترتیب دیں تو آپ کو مریض بنا دے گا۔ اس کے لیے آپ کو اپنے کمرے سے محبت کرنا ہو گی۔ ایسی محبت کہ کمرہ آپ کو برداشت کرئے۔ کیوں کہ یہ ایک المیہ رہا ہے کہ آپ پوری زندگی اپنے کمرے سے محبت نہیں کر پاتے اور ستر سال کی عمر میں جب آپ کے پاس سوائے اس کمرے کے وقت گزارنے کو کوئی جگہ نہیں ہوتی تو پھر یہ کمرہ آپ کو کاٹ کھانے کوآتا ہے۔ اور پھر آپ رفتہ رفتہ مریض بن جاتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے تو رات تین بجے اپنے کمرے میں بچھے گالف میٹ پہ پریکٹس شروع کر دیتا ہوں۔ اور قرآن کریم کی باقاعدہ واضح تلاوت کو گھنٹوں سنتا رہتا ہوں۔ مجھے یہ احساس کامل ہوتا ہے کہ اس وقت موجود فرشتے بھی میرے ساتھ یہ تلاوت سن رہے ہوتے ہیں اور کمرے کے در و دیوار بھی۔ کمرے میں ہوا پینٹ، اس کے در و دیوار، بچھا ہوا کارپٹ (یا کچا فرش ہی کیوں نا ہو)، چرچراتے کواڑ، ملجگی روشنی، ہر چیز سے محبت کی جائے تو ہی کمرہ بھی آپ کو اپناتا ہے۔ کیوں کہ عمر کا ایسا حصہ کہ جب آپ مشقت کرنے کے قابل نہیں رہتے اور نا ہی زیادہ مسافت طے کر سکتے ہیں تو پھر کمرے میں صرف وقت گزرانا مقصود نہیں ہوتا بلکہ کمرے سے محبت کر کے ہی آپ خوش رہ سکتے ہیں۔

سیاست، حالات حاضرہ، معیشت، لڑائی جھگڑوں پہ قلم کو جنبش دینے کے بجائے، آج اس تحریر کی وجہ ایک بزرگ بنے، اور ساتھ ہی تحریر کا موضوع بدیسی زبان میں ہونے کے لیے بھی پیشگی معذرت۔ پارکنسن کی بیماری کا شکار اَسی سالہ بزرگ اپنی روداد سنانا شروع ہوئے تو ایسا محسوس ہوا کہ یہ المیہ تو انسان کو ہمیشہ سے درپیش رہا ہے۔ اور خاص طور پر پاکستان میں یہ تاثر تقویت پا چکا ہے کہ بس ریٹائرمنٹ ہوئی اور بندہ کام کام کے قابل نہیں رہا۔ ہمارا معاشرہ بھی فارغ کہہ کے انسان کو بیمار بنا دیتا ہے۔ اور بسا اوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ انسان لوگوں کی باتوں اور اپنوں کی کج ادائیوں کی وجہ سے ریٹائرمنٹ کے بعد کا اکثر وقت بستر پہ ایک مریض کی صورت ہی گزار دیتا ہے۔ مجھے حیرانگی اس لیے بھی ہوئی کہ اگر پارکنسن کا ایک مریض اس بزرگی اور بیماری کے عالم میں گالف کی سٹک ہاتھوں میں تھام کے زندگی کو جی رہا ہے تو ہم میں سے اکثریت زندگی کا یہ لطف کیوں اٹھا نہیں پا رہی۔ گالف چلیں ایک مہنگا کھیل ہی سہی مان لیا، لیکن مڈل کلاس میں بھی بغور جائزہ اس حقیقت سے پردہ اُٹھا دیتا ہے کہ اکثر اوقات ساٹھ سال کی مدت پوری کرنے کے بعد ریٹائرمنٹ کے بعد ہمارے بزرگ گوشہ نشیں ہو جاتے ہیں، اور اس میں زیادہ کردار ہماری نسل کا ہے کہ ہم ان کو یہ احساس دلا دیتے ہیں کہ وہ بس اب معاشرے کا اضافی بوجھ ہیں۔ کتنے ہی بزرگ ایسے ہیں کہ تکنیکی شعبہ جات سے فراغت پاتے ہیں۔ ہماری نسل کے کتنے افراد ہیں جو ان سے ان کی ملازمت کے دوران پیش آنے والے واقعات میں دلچسپی لیتے ہیں؟ کتنے افراد ایسے ہیں جو ریٹائرڈ برزگان سے ان کا فن سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں؟  اور کتنے افراد ہیں جو اپنے ریٹائرڈ بزرگ افراد کی دلچسپی کا سامان ان کے کمرے میں مہیا کرنے کا سوچتے ہیں؟ ہم ہمیشہ نانیوں دادیوں کی کہانیوں کو ایک طویل عرصہ مثال بناتے رہے۔ لیکن ہم آج کیا کر رہے ہیں؟ہم لاکھوں روپے خرچ کر رہے خود ساختہ موٹیویشنل اسپیکرز کے لیکچرز تو سُن رہے ہیں۔ لیکن ہم اپنے ریٹائرڈ بزرگوں کی کہانیوں میں کیوں دلچسپی نہیں لیتے؟ ایک سویپر سے لے کے بائیس گریڈ کے افسر تک آپ اگر ریٹائرڈ لوگوں کی کہانیاں سنیں تو یقین مانیے ہمیں کسی موٹیویشنل اسپیکر کی تو ضرورت ہی نہیں رہے گی۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ بزرگ افراد آپ کو مفت یہ لیکچر دیں گے جن کے لیے آپ سے خودساختہ موٹیویشنل اسپیکر لاکھوں روپے اینٹھ لیتے ہیں۔

Falling in love with your room یہ کہنے کو تو ان بزرگ کا ایک جملہ تھا۔ لیکن اس ایک جملے میں ایسے گماں ہوا کہ جیسے ہم ڈھلتی عمر کا ایسا حسین رخ کھو بیٹھے ہیں جو ہمارے لیے کتنا مفید ہو سکتا ہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد کمرے میں ایک پرانی ٹیبل، بوسیدہ کرسی، اُگلدان، لحاف،زمانہء قدیم کا بستر، چرچراتے کواڑ، اور کسی کے آنے کی اُمید، ہمارے ہاں اکثریت اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد کچھ ایسا ہی منظر نامہ پاتے ہیں۔ اور اس میں بنیادی تصحیح ہی یہی مقصود ہے کہ کسی سے اُمید کے بجائے اپنے کمرے سے محبت۔ دل جو پوری زندگی نہیں کر پایا وہ کیسے کیا جائے اس ریٹائرمنٹ کی زندگی میں یہ اصل سوچ اپنانا ہمیں بہت سے نفسیاتی مسائل سے نجات دے سکتا ہے۔ اپنے کمرے کے در و دیوار کو اپنی منشاء کے مطابق ترتیب دیتے ہوئے، ایک قالین سے صوفے تک اپنی سوچ کے مطابق ڈھالنا اور اپنے کمرے میں وقت ایسے گزارنا کہ جیسے اپنی کسی پسندیدہ جگہ پہ چھٹیاں انجوائے کر رہے ہوں، جیسا طرز عمل بظاہر مشکل لگتا ہے لیکن سوال پھر بھی یہی ہے کہ پارکنسن کا ایک مریض اگر ایسا انداز اپنا سکتا ہے تو ریٹائرمنٹ کے وقت مکمل صحت مند افراد ایسا مثبت رجحان کیوں نہیں اپنے اندر پیدا کر سکتے؟

بزرگوار کے ایک جملے میں نا صرف بھرپور زندگی گزارنے والے بزرگوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے بلکہ نوجوان نسل کے لیے بھی ایک لائحہ عمل موجود ہے کہ سب سے پہلی ابتداء تو ہمیں اُسی جگہ سے محبت ہونی چاہیے جہاں ہم تمام جہاں کے جھمیلوں سے آزاد ہو کر آتے ہیں۔ اگر ہم انتہائی پریشاں کن حالات کے بعد بھی ایسی جگہ سستائیں کہ جس کے درو دیوار سے ہماری محبت جھلک رہی ہو تو یقین مانیے ہم نجانے کتنی ہی پریشانیاں پس پشت ڈال دیں گے۔ کمرے کے ایک ایک انچ کو اپنی خواہشات، حسرتوں، اور محبت کے احساس سے ترتیب دیتے ہوئے یقین مانیے آپ کا دل خود کہے گا کہ Falling in love with my room۔اور اس محبت میں گرفتار ہو کر ہماری یہ محبت ریٹائرمنٹ کے بعد بھی قائم رہے گی۔  یہ زُباں اہلِ زمیں ہے۔  

Facebook Comments HS