بنوں آپریشن
کل سے بنوں آپریشن کی باتیں ہو رہی تھی کہ وزیراعظم نے آپریشن کی منظوری دے دی ہے۔ ساتھ میں بنوں کے اکثر لوگوں کی طرف سے اس مبینہ آپریشن کی مخالفت کی گئی اور کہا گیا کہ بنوں میں آپریشن کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی یہاں کسی شرپسند یا شدت پسندوں کی کوئی محفوظ ٹھکانہ ہے۔ مجھے حیرت رات کو اس وقت ہوئی جب ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے ایک ویڈیو پیغام جاری کیا جس میں بنوں آپریشن کی مخالفت اور تردید کی گئی۔
کیا بنوں کے لوگوں کا عرصہ سے یہ مطالبہ نہیں رہا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کا قلع قمع کریں اور علاقے کو ہر قسم کی دہشت گردوں سے پاک کریں۔ جب حکومت دہشت گردوں کا صفایا کرے گی تو وہ کس طرح کرے گی کیا وہ دہشت گردوں کو مرغیوں کی طرح دانے ڈال کر پکڑے گی یا آپریشن کر کے ان کا صفایا کرے گی؟
میرے خیال میں بنوں آپریشن وقت کی اہم ضرورت ہے جس میں پورے بنوں ڈویژن سمیت ڈی آئی خان، ٹانک اور تمام وہ علاقہ جات شامل ہوں جہاں دہشت گردوں کے کوئی بھی مشتبہ ٹھکانہ ہوں۔
کیا بنوں کے لوگ اس بات سے انکار کر سکتے ہیں کہ دو دن پہلے بکاخیل کے بھرے گاؤں سے ایک نوجوان کو تمام لوگوں کے سامنے 40، 45 بندوں نے گھر سے نکال کر پیدل لے جایا گیا جس کو اگلے ہی دن گولیوں سے لاش پھینکی گئی۔
کیا کنگر پل چوکی پر حملہ کرنے والے افغانستان سے آئے تھے؟
کیا بنوں CTD آپریشن میں ہلاک شدگان کی اکثریت کا تعلق بنوں سے نہیں تھا؟
ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ جہاں ہماری اکثریت امن کا خواہاں ہیں وہاں امن کو سبوتاژ کرنے والے بھی ہم ہی میں سے ہیں اور ہماری ہمدردیاں ان کو حاصل ہیں۔ جب ہی تو بکا خیل میں CTD آپریشن میں ہلاک شدگان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد شامل تھے حالانکہ انہی ہلاک شدگان کے خلاف وہ دو سالوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔
کیا میتاخیل قوم نے CTD میں ہلاک شدہ #ضرار کی فاتحہ خوانی نہیں کی؟ ایک ہر مولوی اور ملک نے وہاں حاضری دینا ضروری سمجھا۔
ہم بحیثیت قوم منافقت کا مجسمہ ہے بیماری سے چیخ بھی رہے ہیں، علاج کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور علاج کی بھرپور مخالفت بھی کر رہے ہیں۔


