پی ڈی ایم نے آٹھ ماہ میں کیا پایا؟ عوام نے کیا کھویا؟
کہاوت ہے جس کی لاٹھی اس کی بھینس یہی بات اس وقت وطن عزیز کے لئے بھی استعمال ہو سکتی ہے پہلی بار اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد کے ذریعے ایک حکومت کو ختم کیا اور اس کے بعد پی ڈی ایم کے رہنما اور ن لیگ کے صدر شہباز شریف وزیر اعظم پاکستان منتخب ہوئے انہوں نے ایوان میں اپنے خطاب میں اعلان کیا تھا کہ اب ملک میں ترقی کا دور شروع ہو اور عوامی حکومت عوامی اقدامات کرے گی اور غریب عوام کو بھرپور ریلیف دیا جائے گا اسی خطاب کے ساتھ گنگا الٹی بہنے لگی اور وہ ریلیف جو عوام کو دیا جانا تھا وہ پی ڈی ایم کی جماعتوں کے رہنماؤں کو دیا جانے لگا
شہباز شریف صاحب نے پہلا عوامی قدم فلفور اٹھایا اور پنجاب سپیڈ کے ساتھ چلتے ہوئے نیب کے مختلف قوانین میں تبدیلی کر دی گئی جس کے مطابق 50 کروڑ روپے سے کم کرپشن کیسز کے مقدمات نیب کے دائرہ اختیار سے باہر ہوں گے
ان ترامیم سے وزیر اعظم شہباز شریف، نواز شریف، مریم نواز، آصف زرداری، فضل الرحمن اور ملک بھر کی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کو فائدہ ملا اور 755 مقدمات انکوائری اور 292 مقدمات تفتیش کی سطح پر متاثر ہوئے انہی میں 50 مقدمات کرپشن اور 168 آمدن سے زائد اثاثوں کے تھے
سب سے پہلے شہباز شریف او ر حمزہ شہباز رمضان شوگر مل کیس میں بری ہوئے حمزہ شہباز وزیراعلی بن گئے، مریم نواز اپنے تمام مقدمات جن میں وہ سزا یافتہ تھیں وہ ختم ہوئے ان کی سزا ختم ہوئی ان کو لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر پاسپورٹ ملا اور وہ لندن روانہ ہو گئیں، سب ملزموں کو اچانک انصاف دہلیز پر ملنے لگا، اسحاق ڈار اور سلمان شہباز 4 سالہ خود ساختہ جلاوطنی ختم کے تمام کیسز میں ضمانتوں پر واپس آ گئے وہی اسحاق ڈار اور سلمان شہباز جن کو عدالتوں نے اشتہاری قرار دیا انٹرپول کے وطن واپس لانے کی باتیں ہوئیں، پھر انہی کو پروٹوکول کے ساتھ واپس لا کر وزارت اور پھولوں کی مالاؤں سے استقبال کیا گیا ان کی جو جائیدادیں اس نظام نے انہی لوگوں نے ضبط کی تھیں وہ بھی باعزت طریقے سے واپس ہو گئیں، رانا ثنا اللہ منشیات جیسے سنگین کیس میں بری ہو گئے سردار مہتاب عباسی کا نیب کرپشن کیس واپس ہو گیا، کیسز صحیح یا غلط، وہ الگ موضوع، لیکن سزا یا جزا کے بغیر منتقی انجام تک پہنچے
نواز شریف، آصف زرداری، یوسف رضا گیلانی کے خلاف توشہ خانہ کا ریفرنس واپس کر دیا گیا،
پی پی پی کے راجہ پرویز اشرف کے رینٹل پاور کیس میں چھ ریفرنس واپس ہو گئے، سینٹر سلیم مانڈوی والا، سینٹر روبینہ خالد اور اعجاز ہارون کے خلاف کرپشن ریفرنس واپس ہو گئے، یوسف رضا گیلانی کے خلاف یو ایس ایف فنڈ ریفرنس واپس ہوئے، المیہ یہ نہیں کہ سب ریفرنس واپس ہوئے اس ملک پر ظلم یہ ہے ملک پاکستان میں ریفرنس دائر کر کے کارروائی کیے بغیر واپس ہو جاتے ہیں
ان شخصیات کو پنجاب سپیڈ کے حساب کے انصاف ملا اور کرپشن کیسز میں کلین چٹ ملی تمام لوگ اقتدار پہ براجمان ہو گئے
دوسری طرف پی ڈی ایم کی حکومت نے آٹھ ماہ میں غریب کی زندگی مزید بدتر کر دی ریلیف تو دور کسی چیز میں استحکام نہیں رہا آٹھ ماہ میں بنیادی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمانوں بلکہ ساتویں آسمان پہ چلی گئی ہیں اتحادی حکومت اپنے رہنماؤں کی کرپشن بچانے کی اور غریب عوام فاقوں کی جنگ لڑتی رہی، بے روزگاری اپنی تمام حدیں عبور کر گئی، 60 فیصد ٹیکسٹائل، فارما اور آٹو انڈسٹری بند ہو گئی غریب کا چولہا جلنا بند ہو گیا پہلے گرمی میں لوڈ شیڈنگ ہوتی تھی اس وقت سردی میں بھی بدترین لوڈ شیڈنگ ہے، جب پی ڈی ایم کی حکومت آئی تھی اس وقت بجلی کی قیمت 24 روپے یونٹ تھی، اب 35 اور اس کو 90 فی یونٹ تک لے جانے کی تیاری ہے گیس کا بحران شدت اختیار کر گیا اس وقت ملک میں ڈالر ناپید ہو گیا ہے بلکہ اسحاق ڈار نے جو بلند و بانگ دعوے کیے تھے وہ بھی ہوا ہو گئے 190 روپے والا ڈالر 260 روپے میں بھی نہیں مل رہا، یہاں تک کہ بینکوں نے ایل سیز بند کر دیں اور بندرگاہوں پہ پڑا مال وہیں خراب ہو گیا دہشت گرد پھر سے عوام پہ حملے کرنا شروع ہو گئے اور اسلام آباد تک آ گئے پٹرول 150 سے 250 روپے تک قیمت بڑھائی اچھا بھلا چلتا رک گیا سرمایہ کار بھاگ گئے اور لنکا نے ڈیفالٹ کیا پھر گھانا تیسرے نمبر پہ تیونس چوتھے پہ پاکستان کے مالی حالات بھی اسی ڈگر پہ چل رہے ہیں گندم جیسی بنیادی ضرورت کی چیز عوام کی پہنچ سے باہر ہو گئی اس کی قیمت 2200 سے 5000 ہزار فی من پہنچ گئی ملک بھر میں آٹا مہنگا شہریوں کے کیے روٹی کھانا بھی مشکل ہو گیا ادویات کی قیمتوں میں 200 گنا اضافہ ہوا ہر چیز میں عوام کا خون نچوڑا گیا ملک میں مہنگائی 45 فیصد تک بڑھی زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈالر سے کم ہو کر 5.3 ارب ڈالر رہ گئے جبکہ پاکستان نے 10 جنوری تک 1.3 ارب ڈالر کے غیر ملکی قرضے واپس کرنے ہیں جس سے زرمبادلہ کے ذخائر مزید کم ہوں گے
گزشتہ آٹھ ماہ میں اتحادی حکومت اور اپوزیشن حصول اقتدار کے لئے دست و گریباں رہے مگر عوام کے بارے میں کسی نے نہیں سوچا نہ سوچ رہا ہے ہر پارٹی کی خواہش ہے کہ اس کو اقتدار ملے مگر اس اقتدار میں عوام کے لئے کیا کرنا ہے کوئی نہیں سوچ رہا ہے یہ آٹھ ماہ پی ڈی ایم خصوصاً شریف خاندان کے لئے بہت اچھے رہے ہیں بلکہ لکی ثابت ہوئے ہیں مگر ان آٹھ مہینوں میں عوام رل گئی ہے ان کا کوئی پرسان حال نہیں حکومت اور اپوزیشن سے گزارش ہے کہ خدارا عوام کے بارے میں سوچیں پاکستان کے بارے میں سوچیں پاکستان کے مستقبل کے بارے میں سوچیں ورنہ یہ ملک عوام کے ہاتھوں سے تو پہلے ہی نکل چکا ہے آپ کے ہاتھوں سے بھی نکل جائے گا


