یوکرائن تنازعہ : یورپ پر اثرات
یورپین سیاستدان اعتراضات اٹھا رہے ہیں کہ امریکہ یوکرائن تنازعہ پر دنیا کو ایک گہری کھائی کی طرف لڑکھڑا رہی ہیں اور اس سے اپنا حصے کا منافع مع سود وصول بھی کر رہی ہیں۔ یقیناً امریکہ سرکاری طور پر ایک بھی فوجی یوکرائن بھجوائے بغیر اس تنازعے سے بے پناہ فوجی، اقتصادی اور ارضی سیاسیات کے فوائد سمیٹ رہا ہیں۔ اور یورپین یونین اس میں صرف اور صرف نقصان اٹھا رہا ہے۔ ایک یورپین سیاستدان کا یہ کہنا ہے ”کہ اگر معقول طریقے سے اس کو دیکھا جائے تو اس جنگ سے اپنے مرضی کی قیمتوں پر ہتھیار اور قدرتی گیس فروخت کر کے صرف امریکہ فوائد سمیٹ رہا ہے“۔
امریکہ ہمیشہ سے مغرب پر بالادست رہنے کا خواہشمند رہا ہیں اور یوکرائن تنازعہ اسے ایک بھرپور موقع فراہم کر دیا ہے کہ وہ یہاں کے بھاگ دوڑ میں سب سے اگے رہیں۔
حالیہ برسوں میں امریکہ روس کے خلاف پابندیوں پر یورپ کو اکسا رہا تھا اور اس کوشش میں بھی تھا کہ قدرتی توانائیوں کے حصول کے لیے یورپ کا ماسکو پر انحصار کو کم سے کم کر سکے۔ موسم بہار میں ”بڑے بھائی“ کے پیروی کرتے ہوئے یورپ نے اس حقیقت کی باوجود کہ روس کے مقابلے میں زیادہ نقصان خود اس کا ہو گا بلا جھجھک پابندیوں میں توسیع کردی۔
یورپ سمیت ساری دنیا میں ہتھیاروں کے حصول کا ڈیمانڈ بڑھ رہا ہیں اور امریکہ اس کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہیں۔ صرف ہوا بازی کی صنعت میں امریکہ نے تقریباً دس ارب یورو تک کے کہ نئے معاہدے کی ہیں۔ کینیڈا نے 88 ففتھ جنریشن 35۔ F جنگی طیاروں، سویٹزرلینڈ نے 36 اور جرمنی نے 35 کی آرڈر دی ہیں۔
اس گرمیوں میں جرمن نے ازسرنو اسلحہ بندی کے لیے 100 بلین یورو کے بجٹ مختص کر نے کی کا اعلان کیا اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس بجٹ کا زیادہ تر حصہ امریکہ لے اڑے گا۔
یورپین اسلحے خانے خالی ہیں، اور امریکہ خوشی سے اپنا ہاتھ مل رہا ہیں۔ یقیناً اس شکست خوردہ فوجی صنعتی کمپلیکس کا امریکی ملکی صنعت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔ اور ساتھ روس سے سستے گیس کی کمی سے مہینوں میں ہی امریکہ کی گیس برآمدات میں دوگنا اضافہ ہوا ہیں۔
نورڈ سٹریم دھماکے کے بعد عارضی طور پر روسی قدرتی گیس کے مکمل بندش نے یورپ کو برے طریقے سے دھچکا دیا۔ اب یورپ روس کے علاوہ بیرونی دنیا ( امریکہ اور عرب ممالک ) سے تیل و گیس درآمد کرے گا جس سے پیداواری لاگت میں چار گنا تک اضافہ ہو گا۔
ایک طرف توانائی بحران اور دوسری طرف امریکہ کا ملکی معیشت کی استحکام کی خاطر صنعتوں کو مختلف مدوں میں دی گئی ٹیکس چھوٹ اور سستی توانائی کی فراہمی سے یورپی خاص طور پر جرمنی کی صنعتوں پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ اس کی نتیجے میں یورپی کمپنیاں یا تو بند ہو رہی ہیں یا امریکہ کو منتقل ہو رہی ہیں۔
اس سب کو دیکھ کی خود یورپین سیاستدان کہنے پہ مجبور ہیں کہ ”یورپین معیشت کا گہری کھائی کی طرف لڑکھڑا نا امریکہ کے لیے ایک مثبت خبر ہیں اور وہ اسے کبھی بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے گا کہ وہ اس سے فوائد نہ سمیٹے“ یہ ہنگری وزیر خارجہ کے الفاظ ہیں۔
فرانسیسی صدر میکرون نے بھی امریکہ کا پیداواری لاگت میں کمی کے خاطر صنعتوں کو ٹیکسوں وغیرہ میں چھوٹ دینے کی اقدامات پر کھڑی تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ یہ ڈبلیو ٹی او کے قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں، وزیر خزانہ کا بھی یہ کہنا ہے کہ یورپین ممالک کا مشترکہ طور پر واشنگٹن کو پیغام دینا چاہیں۔ ”ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ یوکرائن تنازعہ کا خاتمہ امریکی معاشی بالادستی اور یورپ کی کمزور ہونے پر ہوں۔ اب ہمارا ترجیح یورپ میں جرمنی سے مقابلہ نہیں بلکہ یورپ اور امریکا کی درمیان مقابلے پر ہیں۔
بلومبرگ کے مطابق اس حوالے سے خود پیرس اور برلن ایک پیج پر نہیں ہیں۔ میکرون کا خیال ہے کہ امریکہ کو بھرپور جواب دینا چاہیے جبکہ جرمن چانسلر کا موقف ہے کہ ہمیں یہ جنگ بحر اوقیانوس کی اس پار نہیں لے جانا چاہیے اور امید رکھنا چاہیے کہ امریکہ خود اپنی فیصلوں کی تصحیح کرے گا۔
اگر پھر بھی یورپی موقف میں تند و تیزی ہو لیکن کوئی بھی اس قابل نہیں کہ امریکہ سے لڑے۔ فرانس، جرمنی، اٹلی کی کلی عام تحفظات کی با وجود یورپین میں اتحاد کا فقدان ہیں۔ مزید یہ کہ یورپین کمیشن کے نظر میں اب بھی امریکہ اس کا ایک اہم اتحادی ہیں۔
ہائر سکول آف اکنامکس کی تجارتی سربراہ کے مطابق اگر امریکی اقدامات کو ڈبلیو ٹی او میں چیلنج بھی کیا جائے لیکن جیتنے کے چانس نہ ہو نے کی برابر ہے۔ ”اس میں مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ نے ڈبلیو ٹی او کے عدالتی نظام کو بلاک کیا ہوا ہے اور یہ بہت ہی مشکل ہے کہ کسی بھی دوسرے طریقے سے درمیانی راستے تک پہنچا جا سکے۔
میکرون کا حالیہ امریکی دورے کا ظاہری مقصد یہ تھا کہ وہ جوبائیڈن کو قائل کریں کہ وہ قواعد کے مطابق کھیلیں۔ لیکن توانائی بحران، مہنگائی، گرتی ہوئی معیشتیں اور پاپولزم کے وجہ سے کمزور یورپ کو وائٹ ہاؤس پر خاطر خواہ دباؤ ڈالنے میں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی۔
یہ امید باقی ہے کہ سینئر شراکت دار ایک دوسرے پر رحم کریں گے اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں گے۔ تاہم اس وقت امریکہ پر اعتمادی اور مضبوطی سے اپنی سٹریٹیجی کو اگے بڑھا رہے ہیں۔ اور بہت جلد یورپین رہنماؤں کا مقام برلن یا پیرس سے نہیں بلکہ واشنگٹن سے جڑا ہو گا۔


